حوثی تحریک کی تاریخ (تیسرا حصہ)

Blogger Comrade Sajid Aman

19ویں صدی کے اختتام سے لے کر 20ویں صدی کے آخری عشروں تک شمالی یمن کے صوبۂ صعدہ کو زیدی مذہبی فکر کا مضبوط ترین مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ علاقہ تھا، جہاں صدیوں تک زیدی آئمہ کی علمی درس گاہیں قائم رہیں۔ قبائلی روایات نے مذہبی قیادت کے ساتھ مل کر ایک منفرد سماجی ڈھانچا تشکیل دیا اور اہلِ بیت سے وابستگی کو مذہبی و سماجی شناخت کا بنیادی جزو تصور کیا گیا… لیکن 1990ء کی دہائی میں صعدہ کے مذہبی ماحول میں ایک نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ سعودی عرب کی سرپرستی میں سلفی مدارس کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا، جب کہ متحدہ یمن کی حکومت مذہبی توازن برقرار رکھنے کے بہ جائے مختلف مذہبی گروہوں کو ایک دوسرے کے مقابل لانے کی پالیسی اختیار کرتی دکھائی دیتی تھی۔
اسی ماحول میں ایک ایسا نوجوان عالم اُبھرا جس نے آنے والے برسوں میں نہ صرف یمن، بل کہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ نوجوان تھے حسین بدر الدین الحوثی۔
حسین بدر الدین الحوثی 1959ء کے قریب صوبۂ صعدہ کے علاقے مران میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد بدر الدین الحوثی اپنے زمانے کے ممتاز زیدی عالم، فقیہ اور مفسر سمجھے جاتے تھے۔ اُنھوں نے زیدی فقہ، تفسیر اور حدیث پر متعدد علمی کام کیے اور شمالی یمن میں اُن کی ایک بڑی مذہبی حیثیت تھی۔
حسین نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، بعد ازاں مختلف زیدی علما سے فقہ، تفسیر، حدیث اور عربی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ اُن کی شخصیت میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور بھی نمایاں تھا۔
1990ء کی دہائی میں جب الشباب المؤمن کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں، تو حسین الحوثی اس کے نمایاں ترین مقرر اور منتظم بن گئے۔ ابتدا میں تنظیم کا مقصد زیدی نوجوانوں میں دینی تعلیم اور مذہبی شناخت کو زندہ رکھنا تھا، لیکن حسین الحوثی کی تقاریر نے اس میں ایک نیا سیاسی رنگ پیدا کر دیا۔ وہ صرف فقہی مباحث تک محدود نہیں رہے، بل کہ عالمی سیاست، فلسطین، امریکی خارجہ پالیسی، عراق پر پابندیوں، اسرائیل کے کردار اور مسلم دنیا کی داخلی کم زوریوں پر بھی کھل کر گفت گو کرنے لگے۔ اُن کی تقریروں میں ایک مرکزی تصور یہ تھا کہ مسلمان دنیا صرف عسکری کم زوری کا شکار نہیں، بل کہ فکری اور سیاسی غلامی میں بھی مبتلا ہوچکی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگر کوئی قوم اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت کھو دے، تو وہ سیاسی آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی۔
اُسی دور میں اُنھوں نے ایک نعرہ متعارف کرایا جو بعد میں حوثی تحریک کی شناخت بن گیا: "اللہ اکبر، الموت لأمریکا، الموت لإسرائیل، اللعنۃ علی الیہود، النصر للإسلام۔”
یہ نعرہ ایران کے 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد رائج ہونے والے انقلابی نعروں سے مماثلت رکھتا تھا، تاہم حسین الحوثی اسے فلسطین اور امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف احتجاج کی علامت قرار دیتے تھے۔ بعد میں یہی نعرہ حوثیوں کے پرچم اور عوامی اجتماعات کا مستقل حصہ بن گیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا، جب یمن کی حکومت نے ’’الشباب المؤمن‘‘ کو صرف ایک مذہبی تنظیم کے بہ جائے ایک سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ صدر علی عبداللہ صالح کو خدشہ تھا کہ اگر یہ تحریک اسی رفتار سے بڑھتی رہی، تو شمالی یمن میں ریاست کی عمل داری کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
اس دوران میں ایک اور اہم تبدیلی بھی رونما ہو رہی تھی۔ اگرچہ زیدی مکتبِ فکر تاریخی طور پر اثنا عشری شیعہ سے مختلف رہا ہے، لیکن 1990ء کی دہائی میں ایران کے بعض مذہبی اداروں اور زیدی علما کے درمیان علمی روابط میں اضافہ ہوا۔ چند زیدی طلبہ نے ایران میں تعلیم حاصل کی۔ بعض ایرانی علما نے یمن کا دورہ کیا اور علمی وفود کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم اس مرحلے پر بیش تر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ تعلقات بنیادی طور پر مذہبی اور تعلیمی نوعیت کے تھے، نہ کہ کسی منظم عسکری اتحاد کی شکل میں۔
2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔ اس واقعے نے پورے مشرقِِ وسطیٰ میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔ حسین الحوثی نے اپنی تقاریر میں اس جنگ کو مسلم دنیا کے خلاف وسیع منصوبے کا حصہ قرار دیا اور حکومتِ یمن پر تنقید کی کہ وہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ اسی عرصے میں اُن کے حامی سرکاری مساجد میں مذکورہ نعرہ بلند کرنے لگے۔
صدر صالح نے اسے ریاستی رٹ کے لیے بہ راہِ راست چیلنج سمجھا۔ حکومت نے حسین الحوثی کی گرفتاری کا حکم جاری کیا، لیکن اُنھوں نے خود کو حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں کشیدگی نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کرلی۔
جون 2004ء میں یمنی فوج نے صوبہ صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں بغاوت ختم ہو جائے گی، لیکن اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دشوار گزار پہاڑ، قبائلی حمایت اور مقامی جغرافیے سے واقف جنگجوؤں نے سرکاری فوج کی پیش قدمی سست کر دی۔
تقریباً تین ماہ کی شدید لڑائی کے بعد ستمبر 2004ء میں یمنی فوج نے اعلان کیا کہ حسین بدر الدین الحوثی مارے گئے ہیں۔ حکومت نے سمجھا کہ اُن کی ہلاکت کے ساتھ تحریک بھی ختم ہو جائے گی، لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔
تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ کسی تحریک کے بانی کی موت اُس کے خاتمے کے بہ جائے تحریک کے لیے ایک نئی علامت بن جاتی ہے۔ حسین الحوثی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اُن کے حامیوں نے اُنھیں ایک مظلوم مذہبی راہ نما اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ اُن کی تقاریر ریکارڈنگ کی صورت میں پھیلتی رہیں، اُن کے خیالات نوجوانوں میں مزید مقبول ہوئے اور حکومت کے خلاف غم و غصہ بڑھتا گیا۔
قیادت حسین کے بھائی عبدالملک بدر الدین الحوثی کے ہاتھ میں آئی۔ اُس وقت اُن کی عمر نسبتاً کم تھی، لیکن اُنھوں نے غیر معمولی تنظیمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اُنھوں نے تحریک کو صرف قبائلی مزاحمت تک محدود رکھنے کے بہ جائے ایک منظم عسکری اور سیاسی ڈھانچے میں تبدیل کرنا شروع کیا۔
2004ء سے 2010ء کے درمیان یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان وقفے وقفے سے چھے بڑی جنگیں ہوئیں، جنھیں مجموعی طور پر صعدہ کی جنگیں کہا جاتا ہے۔ ہر جنگ کے بعد حکومت یہ دعوا کرتی کہ بغاوت ختم ہوگئی ہے، لیکن ہر اگلے مرحلے میں حوثیوں کی عسکری صلاحیت اور عوامی اثر و رسوخ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر سامنے آتا۔
انھی برسوں میں ایران پر یہ الزام بھی لگنے لگا کہ وہ حوثیوں کی سیاسی اور عسکری مدد کر رہا ہے۔ ایران نے ہمیشہ بہ راہِ راست فوجی مداخلت کی تردید کی، جب کہ یمن، سعودی عرب اور بعد میں امریکہ نے مختلف اوقات میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ حوثیوں کو ایرانی تربیت، مالی وسائل یا اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ آزاد مبصرین کی رائے یہ ہے کہ ابتدائی برسوں میں ایرانی معاونت اگر موجود بھی تھی، تو محدود تھی… لیکن وقت کے ساتھ، خصوصاً 2014ء کے بعد، دونوں کے تعلقات کہیں زیادہ گہرے ہوتے گئے۔
اس دوران میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ 2009ء میں لڑائی پہلی مرتبہ یمن کی سرحد عبور کرکے سعودی عرب تک پہنچ گئی۔ سرحدی جھڑپوں میں سعودی فوج بھی بہ راہِ راست شامل ہوئی۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب ایک مقامی بغاوت بہ تدریج ایک علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے لگی… اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقتوں کی نظریں صعدہ کے اُن پہاڑوں پر مرکوز ہوگئیں، جہاں چند برس پہلے تک صرف ایک مذہبی تعلیمی تحریک سرگرم تھی۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے