حوثی تحریک کی تاریخ

Blogger Comrade Sajid Aman

مشرقِِ وسطیٰ کی سیاست میں اگر کسی تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں عالمی طاقتوں، عرب ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے توازن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ یمن کی ’’حوثی تحریک‘‘ ہے۔ آج بہت سے لوگ انھیں صرف ایک مسلح گروہ یا ایران کے اتحادی کے طور پر جانتے ہیں، مگر اس تحریک کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ اس کی بنیاد یمن کی ہزار سالہ تاریخ، زیدی امامت، قبائلی معاشرے، سیاسی محرومی اور مذہبی شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ حوثیوں کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ جنگ کا مطالعہ کافی نہیں، بل کہ ہمیں اس تاریخی سفر کی ابتدا تک جانا ہوگا، جہاں سے یہ داستان شروع ہوتی ہے۔
یمن، جزیرۂ عرب کے جنوب میں واقع وہ سرزمین ہے، جسے قدیم زمانے میں ’’عربِ سعید‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کی زرخیز وادیاں، تجارتی راستے اور خوش حالی اسے عرب دنیا کا ایک ممتاز خطہ بناتے تھے۔ قدیم ریاستِ سبا، معین، قتبان اور حمیر اسی سرزمین پر قائم ہوئیں۔ قرآنِ مجید میں ملکۂ سبا کا ذکر بھی اسی خطے سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد یمن نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا اور جلد ہی اسلامی دنیا کا اہم حصہ بن گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ خلافتِ عباسیہ کی مرکزی گرفت کم زور ہوئی، تو یمن کے پہاڑی علاقوں میں مختلف مقامی طاقتیں اُبھرنے لگیں۔ انھی حالات میں 9ویں صدی عیسوی کے اواخر میں ایک ایسی شخصیت یمن پہنچی، جس نے آنے والی ایک ہزار سالہ تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ تھے امام الہادی الی الحق یحییٰ بن الحسین، جو حضرت حسنؓ کی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور زیدی مکتبِ فکر کے ممتاز عالم تھے۔ 897ء میں شمالی یمن کے قبائل نے انھیں دعوت دی کہ وہ باہمی تنازعات ختم کریں اور ایک منظم حکومت قائم کریں۔ یوں یمن میں ’’زیدی امامت‘‘ کا آغاز ہوا۔
یہاں ایک بنیادی سوال تنگ کرتا ہے کہ زیدی کون ہیں؟
زیدی مکتبِ فکر کی نسبت امام زید بن علی سے ہے، جو حضرت امام حسینؓ کے پوتے اور حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے۔ 740ء میں انھوں نے بنو امیہ کے خلاف ظلم اور سیاسی ناانصافی کے خلاف قیام کیا۔ اگرچہ ان کی تحریک کام یاب نہ ہوسکی، قتل ہوئے… مگر ان کے افکار نے ایک مستقل فقہی اور سیاسی مکتب کی بنیاد رکھ دی۔
زیدی عقائد کو سمجھے بغیر حوثیوں کو سمجھنا ممکن نہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ تمام شیعہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ شیعہ اسلام کی متعدد شاخیں ہیں، جن میں زیدی، اثنا عشری یا بارہ امامی اور اسماعیلی شش امامی نمایاں ہیں۔ حوثیوں کا تعلق بنیادی طور پر زیدی روایت سے ہے، نہ کہ اثنا عشری شیعہ مکتب سے۔
زیدی عقیدے میں امامت اہم ضرور ہے، مگر اس کی تعریف اثنا عشری شیعہ سے مختلف ہے۔ زیدیوں کے نزدیک امام، حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے کوئی بھی ایسا اہل، عادل اور علم و شجاعت رکھنے والا فرد ہوسکتا ہے، جو ظلم کے خلاف قیام کرے۔ اس کے برعکس اثنا عشری شیعہ بارہ مخصوص آئمہ پر ایمان رکھتے ہیں اور 12ویں امام کی غیبت کے عقیدے کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔ زیدی اس عقیدے کو قبول نہیں کرتے۔
اسی وجہ سے بہت سے مسلم مؤرخین، زیدی فقہ کو اہلِ سنت، خصوصاً فقۂ حنفی اور شافعی، کے نسبتاً قریب قرار دیتے ہیں۔ فقہی مسائل میں زیدی علما نے اجتہاد کو اہمیت دی اور متعدد معاملات میں ان کے فتاوا اہلِ سنت سے خاصی مماثلت رکھتے ہیں۔ البتہ امامت اور اہلِ بیت کی سیاسی قیادت کے مسئلے میں ان کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔
بعض لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ زیدیوں کا امام احمد بن حنبل امام ابو حنیفہ سے کیا تعلق ہے؟
تاریخی اعتبار سے زیدی اور حنبلی الگ فقہی روایتیں ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زیدی امام احمد بن حنبل کے پیروکار ہیں۔ تاہم حدیث، سادگی، زہد اور دینی نصوص سے وابستگی جیسے بعض پہلوؤں میں دونوں روایتوں کے درمیان مماثلت بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح زیدی علما نے اہلِ سنت کی بہت سی حدیثی کتب سے بھی استفادہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض محققین انھیں اثنا عشری شیعہ کے مقابلے میں اہلِ سنت کے زیادہ قریب قرار دیتے ہیں، اگرچہ وہ اپنی مستقل فقہی اور اعتقادی شناخت رکھتے ہیں۔
تقریباً ایک ہزار برس تک شمالی یمن میں مختلف ادوار کے ساتھ زیدی آئمہ کی حکومت قائم رہی۔ کبھی ان کی طاقت مضبوط رہی اور کبھی کم زور، مگر شمالی یمن کی مذہبی و سماجی شناخت پر زیدی امامت کے اثرات مسلسل قائم رہے۔ اس دوران میں قبائلی نظام، مذہبی قیادت اور مقامی خود مختاری نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا، جس میں مرکزی حکومت کی گرفت ہمیشہ محدود رہی۔
19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ نے شمالی یمن پر دوبارہ اپنا اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن پہاڑی قبائل اور زیدی آئمہ نے سخت مزاحمت کی۔ مسلسل بغاوتوں اور جنگوں کے بعد عثمانیوں کی گرفت کم زور پڑتی گئی۔ پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر سلطنتِ عثمانیہ کے انہدام کے ساتھ ہی یمن میں ایک مرتبہ پھر زیدی امامت آزاد حیثیت سے ابھر آئی۔
دوسری طرف جنوبی یمن کی کہانی مختلف تھی۔ عدن اور اس کے گرد و نواح پر برطانوی سلطنت کا قبضہ تھا، جہاں ایک الگ نو آبادیاتی نظام قائم ہوا۔ یوں ایک ہی سر زمین پر دو مختلف سیاسی، معاشرتی اور انتظامی ڈھانچے وجود میں آگئے۔ شمال مذہبی امامت اور قبائلی روایت کے زیرِ اثر تھا، جب کہ جنوب برطانوی نو آبادیاتی اثرات اور جدید انتظامی ڈھانچے سے گزر رہا تھا۔ یہی تقسیم بعد میں یمن کی جدید سیاست کی بنیاد بنی۔
یہ وہ تاریخی پس منظر تھا، جس میں 20ویں صدی کے وسط تک شمالی یمن میں زیدی امامت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی، جب کہ عرب قوم پرستی، جمہوریت، فوجی انقلابات اور سرد جنگ کی نئی ہوائیں پورے مشرقِ وسطیٰ کو بدل رہی تھیں۔ انھی تبدیلیوں نے بالآخر ایک ایسے انقلاب کو جنم دیا، جس نے ہزار سالہ زیدی امامت کا خاتمہ کردیا… لیکن تاریخ نے یہیں اپنا باب بند نہیں کیا۔ یہی خاتمہ چند دہائیوں بعد ایک نئی مزاحمتی تحریک، یعنی حوثیوں، کے ظہور کا سبب بھی بنا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے