یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟
کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟
ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم کیں، کبھی قومیں تشکیل دیں اور کبھی نسل کے نام پر ایسی جنگیں لڑیں، جنھوں نے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 21ویں صدی میں بھی قوم پرستی اور نسل پرستی کی بحث اُسی شدت سے جاری ہے، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ جدید سائنس، بشریات، تاریخ اور جینیات نے ان دونوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے، جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں۔
قوم پرستی اور نسل پرستی بہ ظاہر ایک دوسرے سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی بنیادیں مختلف ہیں۔
دراصل قوم پرستی ایک اجتماعی شعور ہے۔ یہ مشترکہ تاریخ، زبان، ثقافت، جغرافیہ، اجتماعی یادداشت، سیاسی تجربے اور مشترکہ مستقبل کی خواہش سے جنم لیتی ہے۔ ایک قوم کے افراد مختلف نسلی پس منظر رکھنے کے باوجود ایک قومی شناخت اختیار کرسکتے ہیں۔ اسی لیے جدید دنیا میں قوم ایک سماجی اور سیاسی تصور ہے، نہ کہ صرف حیاتیاتی حقیقت۔
اس کے برعکس نسل پرستی ایک ایسا نظریہ ہے، جو انسانوں کو حیاتیاتی بنیادوں پر اعلا و ادنا درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہی وہ سوچ تھی، جس نے غلامی، نو آبادیات، نسلی امتیاز اور 20ویں صدی میں ’’نازی ازم‘‘ جیسے الم ناک تجربات کو جنم دیا۔ آج جدید سائنس اس نظریے کو سائنسی بنیادوں پر مسترد کرچکی ہے۔
ڈی این اے کی دریافت نے انسان کو اپنے ماضی تک پہنچنے کا ایک حیرت انگیز ذریعہ دیا، مگر اس نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی۔ دنیا کے تمام انسان تقریباً 99 اعشاریہ 9 فی صد ایک جیسے جینیاتی مادے کے حامل ہیں۔ رنگ، قد، چہرے کی ساخت یا بالوں کی نوعیت جیسے اختلافات اس معمولی فرق کا نتیجہ ہیں، مگر یہ اختلافات کسی انسان کی ذہانت، اخلاق، قابلیت یا انسانی قدر کا معیار نہیں بن سکتے۔
اسی لیے جینیات کے ماہر کہتے ہیں کہ انسانی نسلیں الگ الگ حیاتیاتی اکائیاں نہیں، بل کہ ایک ہی انسانی خاندان کے اندر موجود جغرافیائی تنوع ہیں۔
ارتقائی حیاتیات بھی یہی کہتی ہے۔ موجودہ سائنسی شواہد کے مطابق جدید انسان افریقہ میں وجود میں آیا۔ پھر ہزاروں برس کے دوران میں چھوٹے چھوٹے انسانی گروہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔ کہیں سخت سردی تھی، کہیں جھلسا دینے والی گرمی، کہیں گھنے جنگلات تھے اور کہیں وسیع صحرا۔ ماحول نے جسمانی ساخت پر اثر ڈالا، لیکن انسان ایک ہی نوع رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس جلد کے رنگ کو برتری یا کم تری کی علامت نہیں، بل کہ سورج کی روشنی کے مطابق ارتقائی موافقت قرار دیتی ہے۔
اسی طرح چہرے، ناک یا جسمانی ساخت کے کئی فرق جغرافیہ اور ماحول کے اثرات کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی نسل کی فطری برتری کے ثبوت ہیں۔
اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈی این اے ہی سب کچھ نہیں، تو پھر شناخت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ شناخت صرف جینز سے نہیں بنتی۔ اگر ایسا ہوتا، تو ایک بچہ دنیا کے کسی بھی حصے میں پیدا ہوکر خود بہ خود اپنے آبا و اجداد کی زبان بولنے لگتا… مگر ایسا نہیں ہوتا۔ زبان سیکھی جاتی ہے، ثقافت سیکھی جاتی ہے، تاریخ سیکھی جاتی ہے، اقدار سیکھی جاتی ہیں… یعنی شناخت کا بڑا حصہ معاشرے سے حاصل ہوتا ہے، صرف وراثت سے نہیں۔
جغرافیہ بھی شناخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پہاڑ، دریا، سمندر اور صحرا صدیوں تک انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتے رہے۔ اسی تنہائی نے الگ زبانیں، الگ ثقافتیں اور الگ تہذیبیں پیدا کیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں، حال آں کہ تمام انسان ایک ہی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدائی انسان چھوٹے قبائل میں رہتا تھا۔ پھر زراعت آئی، بستیاں وجود میں آئیں، شہر بنے، ریاستیں قائم ہوئیں اور بالآخر جدید قوموں نے جنم لیا۔ اس لیے قوم کوئی جامد یا ازلی حقیقت نہیں، بل کہ انسانی تاریخ کا ارتقائی مرحلہ ہے۔
یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے۔ اپنی قوم، زبان یا ثقافت سے محبت ہرگز نسل پرستی نہیں۔ ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنے وطن سے محبت کرے، اپنی تہذیب کو محفوظ رکھے اور اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے، جہاں اپنی محبت دوسروں کی نفرت میں بدل جائے، جہاں اپنی شناخت کو دوسروں کی تذلیل کا جواز بنایا جائے… یا جہاں خون اور نسل کو انسان کی قدر کا پیمانہ قرار دیا جائے۔
دنیا کے عظیم مفکروں نے ہمیشہ اس انتہا پسندی سے خبردار کیا ہے۔ تاریخ میں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں، جو اپنی شناخت پر فخر بھی کرتی ہیں اور دوسروں کے وجود کا احترام بھی۔ اس طرح وہ معاشرے زوال کا شکار ہوتے ہیں، جو برتری کے نشے میں انسانیت کو بھول جاتے ہیں۔
آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جینیاتی سائنس کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، تو شاید انسان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اُس کی اصل طاقت رنگ، نسل یا خون میں نہیں، بل کہ علم، اخلاق، انصاف اور تخلیقی صلاحیت میں ہے۔
ہم سب مختلف زبانیں بول سکتے ہیں، مختلف لباس پہن سکتے ہیں، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھ سکتے ہیں، مگر ہماری حیاتیاتی کہانی ایک ہے۔ ہماری زمین ایک ہے، ہمارا ماضی ایک ہے اور ہماری نوع بھی ایک ہے۔
شاید اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ قوم انسان کو شناخت دیتی ہے، لیکن انسانیت اسے عظمت عطا کرتی ہے۔ جب قوم پرستی انسانیت کے ساتھ چلتی ہے، تو تہذیب بنتی ہے… اور جب نسل پرستی کا لباس پہن لیتی ہے، تو تاریخ کے صفحات خون سے رنگ دیتی ہے۔
انسان کی اصل کام یابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کرے، مگر دوسروں کی شناخت کے احترام کو بھی اپنی تہذیب کا حصہ بنائے۔ یہی سائنس کا سبق ہے، یہی تاریخ کا فیصلہ… اور یہی مستقبل کی ضرورت۔
اب اگر کوئی شخص آپ کو ملے جو قوم ، نسل یا حسب نسب کی بنیاد پر احساسِ برتری کا شکار ہو یا کسی کو کم تر سمجھے، تو اُس کے ساتھ ہم دردی کریں، اُس کے ساتھ ہرگز بحث نہ کریں۔ کیوں کہ یا تو وہ اَن پڑھ اور جاہل ہے، یا پھر شدید ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ اُسے آپ کی بحث کی نہیں، کسی ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










