پاپین خیل میاں گان (آخری حصہ)

Blogger Afzal Shah Bacha

محمد طاہر بن دریخان کی اولاد:
محمد طاہر کے چار بیٹے تھے: یار محمد، محمد فاضل، دوست محمد اور علی محمد۔
یار محمد پاپینی:۔ یار محمد پاپینی، پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد پاپین (دھبالا اولسوالی)، حصارک، رودات اولسوالی، کیلغو اور میاں کلے، خوگیانو اولسوالی میں آباد ہے، جب کہ ان کے دو بیٹوں، عبدالرحمان اور سلیمان، کی اولاد کانگھڑہ اور مٹہ مغل خیل، تحصیل شبقدر، ضلع چارسدہ میں رہایش پذیر ہے۔
محمد فاضل:۔ محمد فاضل کے ایک بیٹے کا نام عبدالعزیز تھا۔ یہ دونوں مٹہ مغل خیل، تحصیل شبقدر، ضلع چارسدہ کے بابوجی بابا کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد بانڈہ میاں عیسیٰ، ترناو اور کوٹک میں آباد ہے۔
دوست محمد:۔ دوست محمد کے ایک بیٹے کا نام محمد عباس تھا۔ یہ دونوں ڈھیری جولگرام، بٹ خیلہ، ملاکنڈ میں مدفون ہیں، جب کہ ان کی اولاد آج بھی ڈھیری جولگرام میں آباد ہے۔
علی محمد:۔ علی محمد علاقہ خوست تشریف لے گئے تھے۔ ان کی اولاد آج بھی خوست میں مقیم ہے۔
محمد شریف بن دریخان کی اولاد:۔ محمد شریف بن دریخان پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کے چھے بیٹے تھے۔ دوسری شادی سے ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام عبدالحمید تھا، جب کہ دوسرے بیٹے کا نام تلاشِ بسیار کے باوجود معلوم نہ ہوسکا۔ یہ دونوں اپنے والد محمد شریف بابا کے ساتھ پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد پاپین، پرخو کلے (شغال) اور ترکستان میں آباد ہے۔ یہاں ترکستان سے مراد قدیم باختر ہے، جو اسلامی دور میں بلخ، شمالی خراسان کہلاتا تھا۔ موجودہ دور میں بلخ، قندوز، جوزجان، فاریاب، سرپل اور سمنگان کے علاقے ترکستان میں شمار ہوتے ہیں۔ عبدالحمید کی اولاد قندوز کے صوفی اولسوالی میں آباد ہے۔
محمد شریف کی پہلی بیوی سے چار بیٹے تھے: اخوند محمد صدیق، اخوند محمد صادق، محمد یوسف ابا صاحب اور محمد امین۔
1) اخوند محمد صدیق (شہیدِ غزوۂ ڈوما):۔ اخوند محمد صدیق غزوۂ ڈوما میں شہید ہوئے۔ ان کا مزار نوے کلے، مینگورہ، سوات میں ہے۔ ان کے تین بیٹے تھے: اخوند محمد قاسم پاپین خیل، میاں اسلم بابا اور میاں اعظم بابا۔
اخوند محمد قاسم کی اولاد تحصیلِ کبل سوات کے اخون کلے، مینز پلو ڈڈھرہ، کوز پلو ڈڈھرہ، چینار محلہ دیولئی، مانجہ، کودرو اور خوڑ کلے، لیلونئی، ضلع شانگلہ میں آباد ہے۔
میاں اسلم بابا لیلونئی میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد کوز کلے، لیلونئی، ضلع شانگلہ میں آباد اور کوز میاں گان کے نام سے مشہور ہے۔
میاں اعظم بابا لیلونئی میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد بر کلے، لیلونئی، ضلع شانگلہ میں رہایش پذیر اور بر میاں گان کے نام سے معروف ہے۔
2) اخوند محمد صادق:۔ اخوند محمد صادق بنکڈ، کوہستان میں مدفون ہیں۔ ان کے دو (بعض روایات کے مطابق تین) بیٹے تھے: میاں مکرم شاہ المعروف میاں بابا، دوست محمد المعروف انگڑ بابا اور میاں حسین۔
میاں مکرم شاہ المعروف میاں بابا گلی گرام، سوات میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد گلی گرام، سیری، بنکڈ (انڈس کوہستان) اور اوپل، شانگلہ میں آباد ہے۔
دوست محمد المعروف انگنڑ بابا سیدو شریف میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد سیدو شریف، بنکڈ (انڈس کوہستان) اور اوپل، شانگلہ میں آباد ہے۔
میاں حسین اوپل، ضلع شانگلہ میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد اوپل اور بنکڈ، انڈس کوہستان میں آباد ہے۔
3) محمد یوسف ابا صاحب:۔ محمد یوسف ابا صاحب نجیگرام، بری کوٹ، سوات میں مدفون ہیں، جن کے تین بیٹے تھے: میاں شریف، شاہ محمد اور محمود شاہ۔
میاں شریف علمِ دین کے حصول کے لیے بریلی، ہندوستان تشریف گئے تھے۔ وہیں بریلی میں ان کی وفات ہوئی اور وہیں مدفون ہیں۔ بریلی میں ان کی اولاد یا دوسری شادی کے بارے میں کوئی مستند معلومات دست یاب نہیں۔ البتہ ان کی اولاد نجیگرام، بر پلو ڈڈھرہ اور میاں بیلہ، کبل، سوات میں آباد ہے۔ نجیگرام میں ان کی اولاد مشر خیل کے نام سے معروف ہے۔
شاہ محمد نجیگرام ، میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد نجیگرام، بر پلو ڈڈھرہ، کبل، سوات اور میاں بیلہ میں آباد ہے۔ نجیگرام میں ان کی اولاد ’’مینز کوری‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
محمود شاہ نجیگرام، بری کوٹ، سوات میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد نجیگرام، بری کوٹ، کڑاکڑ، بری کوٹ، سوات اور ہیبت گرام، ملاکنڈ میں آباد ہے۔ محمود شاہ کے دو بیٹے تھے: امیر سطان اور محمد معصوم شاہ۔
امیر سلطان نجیگرام میں رہایش پذیر تھے اور وہیں مدفون ہیں۔
محمد معصوم شاہ، راقم کا سلسلۂ نسب بھی انھی سے ملتا ہے۔ محمد معصوم شاہ اپنے بڑے بھائی میاں شریف کے ساتھ بریلی، ہندوستان گئے، جہاں انھوں نے زمانۂ طالب علمی گزارا۔ وہاں انھوں نے ایک مرہٹہ خاتون سے شادی کی، جس سے ان کے ہاں ایک بیٹا، اکبر شاہ، پیدا ہوا۔ بعد ازاں جب وہ آخری مرتبہ نجیگرام آئے اور پھر ہندوستان واپس گئے، تو وہاں ان کی وفات ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ان کے صاحب زادے اکبر شاہ اپنی والدہ کے ہمراہ نجیگرام، بری کوٹ واپس آگئے۔
راقم کا شجرۂ نسب
افضل شاہ بن محمد میاں بن امیر حمزہ بن سید یوسف بن فضل شاہ بن معرفت شاہ بن اکبر شاہ بن محمد معصوم شاہ بن محمود شاہ بن محمد یوسف ابا صاحب بن محمد شریف بن دریخان بن شادی خان بن ملک سعدے بن ملک شاہ خان بن ملک خواجہ کلان بن نازو خان بن ملک داور پائے بن ملک بابو بن شام خان بن سلطان قران بن سلطان خواجہ بن سلطان تومنا بن سلطان بہرام شاہ بن سلطان کجامن بن سلطان ہند بیگ بن سلطان جرس بن سلطان جمار بن سلطان شموس۔
4) محمد امین:۔ محمد امین شلاوو، ضلع شانگلہ میں مدفون ہیں۔ ان کے چار بیٹے تھے۔ ان کے ایک بیٹے محمد عارف میاندم میں قتل ہوئے تھے۔ باقی تین بیٹے، محمد حجاب، محمد رسول اور محمد رازق، کی اولاد شلاوو، زوڑہ، چھڑئی اور پیر خانہ میں آباد ہے۔
اظہارِ تشکر:۔
زیرِ نظر قسط وار تحریر میں پاپین خیل میاں گان کے سوانحی خاکے اور مختصر تاریخی تعارف کی تدوین، ترتیب اور علمی تحقیق کا سہرا میرے محترم بھائی حسین شاہ پاپینی کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے نہایت محنت، دیانت اور تحقیق کے ساتھ مختلف تاریخی مآخذ کا مطالعہ کرکے اس مختصر تاریخ کو مرتب کیا، جس سے اس تحریر کی علمی و تاریخی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس تحقیق میں بالخصوص تذکرۃ الابرار والاشرار،اخون درویزہ (ظاہر شاہ قادری) تحقیق الافغان، تاجک سواتی، مملکتِ گبر تاریخ کے آئینے میں، تزکِ بابری، مناقب الحضرات (ادم بنوری رح)،روحانی تڑون، میجر راورٹی   Notes on Afghanistan and Part of Baluchistan اور مشائخ و علماء کبارِ سوات جیسی معتبر کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ریاستِ سوات کی تاریخ کے حوالے سے سرن زیب خان (مدرسے دادا) کی کتاب تاریخِ سوات اور ڈاکٹر خورشید آف لیلونئی کے انٹرویو کے منتخب حصوں سے بھی راہ نمائی حاصل کی گئی ہے۔
مَیں اپنے محترم بھائی حسین شاہ پاپینی کی اس علمی کاوش، محنت اور خلوصِ نیت پر دلی تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں مزید تحقیق و تحریر کی ہمت و توفیق عطا فرمایں، اسے اہلِ علم اور پاپین خیل نوجوانوں کو مستقبل کے تعین اور مشعلِ راہ بنانے  کے لیے نافع بنائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے