بگاڑ کے خلاف بولیں اور امید قائم رکھیں

Blogger Suhail Sohrab, Barikot Swat

وطن سے محبت ایک ایسی محبت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں۔ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اپنے وطن کی مٹی، اپنے لوگوں، اپنی زبان اور اپنی پہچان کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ وطن کی محبت انسان کے دل میں خود بہ خود پیدا ہوتی ہے۔ اس محبت کے لیے کسی دلیل، کسی تقریر یا کسی نعرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
لیکن وطن سے محبت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم وطن میں موجود ہر غلط چیز کو درست قرار دے دیں۔ اگر ہمارے گھر میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے، تو ہم گھر سے نفرت نہیں کرتے، بل کہ خرابی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہمارے جسم کا کوئی حصہ بیمار ہو جائے، تو ہم اپنے جسم کو برا بھلا نہیں کہتے، بل کہ بیماری کا علاج کرتے ہیں۔ وطن بھی ایک جسم کی مانند ہے۔ اس میں پیدا ہونے والی خرابیاں بیماری ہیں، وطن خود بیماری نہیں۔
آج ہمارے ملک کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ کرپشن، نااہلی، سفارش، ظلم، مہنگائی، بے روزگاری، اداروں کی کم زوری اور قانون کی عدم مساوات نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ جب طاقت ور اور کم زور کے لیے قانون الگ الگ ہو جائے، جب میرٹ کے بہ جائے سفارش چلنے لگے، جب قومی وسائل عوام کے بہ جائے چند لوگوں کے مفاد میں استعمال ہونے لگیں، تو یہ سب وطن کی بیماریاں ہیں۔
ہمیں ان بیماریوں کی نشان دہی کرنی چاہیے اور ان کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے۔ اگر کوئی کرپٹ جرنیل ہے، تو اس کی کرپشن پر بات ہونی چاہیے، اگر کوئی کرپٹ بیوروکریٹ ہے، تو اس کا احتساب ہونا چاہیے، اگر کوئی کرپٹ سیاست دان ہے، تو اسے بھی قانون کے سامنے جواب دینا چاہیے… لیکن کسی فرد یا طبقے کی غلطی کو پورے وطن کی غلطی قرار دینا درست نہیں۔
پاکستان صرف حکم رانوں کا نام نہیں۔ پاکستان اُس کسان کا نام ہے، جو صبح سویرے اپنی زمین میں محنت کرتا ہے۔
پاکستان اُس مزدور کا نام ہے، جو شدید گرمی میں اپنا پسینہ بہا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔
پاکستان اُس استاد کا نام ہے، جو محدود وسائل کے باوجود بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔
پاکستان اُس سپاہی کا نام ہے، جو سرحد پر کھڑا ہو کر ملک کی حفاظت کرتا ہے۔
پاکستان اُس ماں کا نام ہے، جو اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے خواب دکھاتی ہے… یعنی پاکستان ہم سب کا نام ہے۔
اس لیے اگر کوئی حکم ران غلط فیصلہ کرتا ہے، تو اُس فیصلے کی مخالفت کیجیے۔ اگر کوئی ادارہ ناانصافی کرتا ہے، تو اُس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیے۔ اگر کوئی سیاست دان کرپشن کرتا ہے، تو اُس کا احتساب مانگیے، لیکن اپنے وطن سے نفرت نہ کیجیے۔
ہمیں اپنے وطن کو گالیاں دینے کے بہ جائے اسے بہتر بنانے کی بات کرنی چاہیے۔ ہمیں مایوسی پھیلانے کے بہ جائے امید پیدا کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بہ جائے یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری اصل لڑائی اُن خرابیوں سے ہے، جو ہمارے ملک کو اندر سے کم زور کر رہی ہیں۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے، جہاں غریب کو انصاف کے لیے سالوں انتظار نہ کرنا پڑے… جہاں نوجوان کو روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں… جہاں تعلیم اور صحت ہر شہری کی بنیادی ضرورت سمجھی جائے… جہاں میرٹ سفارش سے زیادہ طاقت ور ہو… جہاں قانون طاقت ور اور کم زور دونوں کے لیے برابر ہو… اور جہاں ریاست اپنے ہر شہری کو عزت اور تحفظ فراہم کرے۔
تنقید ضرور کریں، سوال ضرور اٹھائیں، حکم رانوں سے جواب ضرور مانگیں، لیکن وطن کو برا نہ کہیں۔ کیوں کہ وطن ہماری مشترکہ امانت ہے۔ آج ہم اسے جیسا چھوڑ کر جائیں گے، آنے والی نسلیں ہمیں ویسا ہی یاد کریں گی۔ اس لیے ہمیں پاکستان کو چھوڑنا نہیں، پاکستان کو بہتر بنانا ہے۔
ہمیں پاکستان سے مایوس نہیں ہونا، پاکستان کے لیے جد و جہد کرنی ہے۔
ہمیں اپنے وطن سے نفرت نہیں کرنی، اس کی بیماریوں کا علاج کرنا ہے۔
پاکستان ہمارا وطن ہے، ہماری پہچان ہے اور ہماری ذمے داری ہے۔
پاکستان زندہ باد تھا، زندہ باد ہے اور ان شاء اللہ تاابد زندہ باد رہے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے