سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے، علم کی ترویج اور عوامی رابطوں کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ہر نعمت کی طرح اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ پاکستان میں فیس بُک کی مونیٹائزیشن کے بعد ایک نیا رجحان انتہائی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ اب بہت سے لوگوں کا اصل مقصد علم، تحقیق یا مثبت پیغام نہیں، بل کہ زیادہ سے زیادہ ویوز، ریچ اور آمدنی حاصل کرنا بن گیا ہے۔
آج سوشل میڈیا کھولیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص ایک ایسی دوڑ میں شامل ہے، جس کی منزل صرف ’’وائرل‘‘ ہونا ہے۔ اس دوڑ میں یہ دیکھنے کی زحمت بھی کم ہی کی جاتی ہے کہ جو بات لکھی یا دکھائی جا رہی ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں، معاشرے کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ…؟ بس شرط ایک ہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے توجہ حاصل ہو جائے۔
اسی سوچ نے سوشل میڈیا کو فضول سوالات، بے مقصد مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ویڈیوز، جعلی تصاویر، غیر مصدقہ معلومات اور کم معیار کے مواد سے بھر دیا ہے۔ سنجیدہ مطالعہ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور فکری مباحثہ آہستہ آہستہ پس منظر میں جا رہے ہیں، جب کہ سطحی اور سنسنی خیز مواد نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس دوڑ میں صرف نئے صارفین ہی نہیں، بل کہ بعض ایسے لکھاری بھی شامل ہوگئے ہیں، جو کبھی سنجیدہ فکر اور معیاری تحریروں کی پہچان سمجھے جاتے تھے۔ الگورتھم کی پسند حاصل کرنے کے لیے اب وہ بھی وہی موضوعات چھیڑنے لگے ہیں، جن سے زیادہ ریچ اور ویوز حاصل کیے جاسکیں، خواہ ان کا علمی یا اخلاقی معیار کچھ بھی ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوشل میڈیا کا الگورتھم صارفین کی راہ نمائی نہیں، بل کہ ان کی ترجیحات کا تعین کر رہا ہے۔ ہر طرف مواد کا سیلاب ہے، مگر معیاری مواد کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ مقدار نے معیار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹیں، ویڈیوز اور تبصرے سامنے آتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں، جو سوچنے پر مجبور کریں یا قاری کے علم میں حقیقی اضافہ کریں۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اس رجحان کے سماجی اثرات کیا ہوں گے؟ اگر ہماری نئی نسل کا زیادہ تر وقت اسی قسم کے مواد میں گزرے گا، تو اس کی فکری تربیت، مطالعے کی عادت، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوں گی۔ جب معلومات کا بنیادی ذریعہ صرف چھے انچ کی موبائل اسکرین اور اس پر چلنے والا الگورتھم بن جائے، تو پھر انسان وہی دیکھتا، سوچتا اور مانتا ہے جو اسے مسلسل دکھایا جاتا ہے۔
بلاشبہ مونیٹائزیشن سے بہت سے لوگوں کو جائز آمدنی حاصل ہوئی ہے، اور یہ ایک مثبت پہلو ہے… لیکن جب آمدنی کا واحد معیار صرف ویوز رہ جائے، تو پھر اخلاقیات، ذمے داری اور معیارِ اظہار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ آسان آمدنی کا یہ راستہ وقتی طور پر کسی فرد کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں اگر پورا معاشرہ سطحی، غیر سنجیدہ اور غیر معیاری مواد کا عادی ہو جائے، تو اس کی قیمت سب کو ادا کرنا پڑے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا کو صرف کمائی کا ذریعہ نہیں، بل کہ ایک سماجی ذمے داری بھی سمجھا جائے۔ تخلیق کار، لکھاری، صحافی اور عام صارف سب اس بات کا احساس کریں کہ ان کی ہر پوسٹ، ہر ویڈیو اور ہر تحریر معاشرے کی فکری سمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ویوز اور ریچ وقتی ہوتے ہیں، مگر الفاظ اور خیالات کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
معاشرے کو ایسے تخلیق کاروں کی ضرورت ہے، جو الگورتھم کے نہیں، بل کہ علم، تحقیق، سچائی اور اخلاقی ذمے داری کے تابع ہوں۔ کیوں کہ قومیں وائرل ویڈیوز سے نہیں، بل کہ معیاری فکر، سچی معلومات اور ذمے دارانہ اظہار سے ترقی کرتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










