وادیِ سوات کی تمام تر خوب صورتی، رعنائی اور شادابی کا انحصار دریائے سوات پر ہے۔ دریائے سوات ہی کی بہ دولت سوات کی تمام وادیاں قدرتی حسن و جمال کا مظہر دکھائی دیتی ہیں اور اس کا ہر گوشہ سرسبز و شاداب نظر آتا ہے۔ دریائے سوات وادیٔ سوات کی شہ رگ اور اس کے قدرتی حسن کا مرکز ہے۔ کوہِ ہندوکش کے گلیشیئرز سے نکلنے والا یہ دریا اپنے نیلگوں پانی کے ساتھ سرسبز، شاداب اور بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہوا اس خطے کو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ بنا دیتا ہے۔
دریائے سوات اتنا ہی قدیم ہے، جتنی قدیم سوات کی وہ خوب صورت سرزمین ہے، جسے تاریخ میں منفرد مقام حاصل ہے۔ سوات آنے والے سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں دریائے سوات کا ذکر ’’سوٹو‘‘ کے نام سے کیا ہے، جب کہ بعض تاریخی کتابوں میں اس دریا کے نام ’’سوتی‘‘، ’’سواستو‘‘ اور ’’سولتاس‘‘ بھی ملتے ہیں۔
دریائے سوات کے کنارے دنیا کی کئی عظیم تہذیبیں آباد ہوئیں، پروان چڑھیں، عروج کی منازل طے کیں اور پھر زوال کا شکار ہوگئیں۔
پانی کے بغیر نہ صرف انسان، بل کہ جان ور، چرند، پرند اور نباتات کا اس دنیا میں زندہ رہنا ناممکن ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ قرآنِ کریم، فرقانِ حمید میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے: (ترجمہ) ’’اور ہم نے ہر جان دار کو پانی سے پیدا کیا، تو کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔‘‘ (سورۃ الانبیاء، آیت نمبر 30)
اسی طرح سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے، جس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، آسمان سے پانی برسایا، اور اسی کے ذریعے تمھارے لیے پھل اور رزق پیدا کیا۔‘‘ (ابقرہ، آیت نمبر 22)
قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نہایت مہربان، باریک بین اور باخبر ہے۔‘‘ (سورۃ الحج، آیت نمبر 63)
اسی طرح سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔‘‘
اس طرح سورۃ الزمر، آیت نمبر 21 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اسے زمین میں چشموں کی صورت جاری کیا، پھر اس کے ذریعے مختلف رنگوں کی کھیتیاں اُگاتا ہے، پھر وہ پک کر خشک ہو جاتی ہیں، پھر تم انھیں زرد دیکھتے ہو، پھر وہ انھیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘
پانی کی اہمیت کے بارے میں رسول اللہ صلعم نے بھی ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا، جہاں پانی میسر نہ ہو، گویا اس نے ایک غلام کو آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ پانی پلایا جہاں پانی موجود ہو، گویا اس نے اسے نئی زندگی عطا کی۔‘‘ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2474)
پانی جسم میں غذائی اجزا کی ترسیل، نظامِ انہضام کی بہتر کارکردگی، جسم سے فاسد مادوں، حرارت اور اضافی نمکیات کے اخراج کے ساتھ ساتھ ضروری نمکیات کا توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ خون کی روانی، جوڑوں کی چکنائی اور جسمانی اعضا کی حفاظت کے لیے بھی پانی ناگزیر ہے۔
پانی کی کمی تھکن، ذہنی دباو اور سردرد کا باعث بنتی ہے، جب کہ مناسب مقدار میں پانی جلد کو تر و تازہ رکھنے اور جھریاں کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کی مقدار تقریباً 20 فی صد تک کم ہو جائے، تو انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ پانی کے بغیر انسان کی بقا ممکن نہیں۔
دریاؤں کا صاف، شفاف اور صحت مند پانی، انسانی صحت کو لاحق خطرات کم کرنے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، آج دریاؤں کو کوڑا کرکٹ، پلاسٹک اور صنعتوں سے خارج ہونے والے فضلے کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ صنعتی فضلہ ایسے کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو نہ صرف پانی کو ناقابلِ استعمال بنا دیتے ہیں، بل کہ پانی پر انحصار کرنے والی آبی اور جنگلی حیات کی بقا کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ کیمیائی فضلہ پانی سے آسانی سے الگ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی فضلہ دریاؤں میں بہانے کے بہ جائے جدید اور محفوظ طریقوں سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے، تاکہ دریاؤں، جھیلوں، سمندروں اور زیرِ زمین پانی کو آلودگی سے محفوظ رکھا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دریائے سوات کے پانی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے، جو شاید دنیا کی بہت سی اقوام کو میسر نہیں۔ افسوس کہ ہم اس بے مثال نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بہ جائے ناشکری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دریائے سوات، جو کسی زمانے میں اپنی شفافیت، نیلگوں پانی اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، آج اس کا پانی پینے کی بات تو درکنار، ہاتھ دھونے کے قابل بھی نہیں رہا۔
دریائے سوات کی تباہی کی بنیادی وجوہات انتظامی غفلت، ذاتی مفادات، تجاوزات اور قبضہ مافیا ہیں۔ کلام سے لے کر بٹ خیلہ، ضلع ملاکنڈ تک دریا کے کنارے سیکڑوں ہوٹل تعمیر کیے جاچکے ہیں، جن میں سے اکثر دریا کی حدود میں قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دریا کے قدرتی بہاو کا راستہ تنگ ہوتا جا رہا ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی نقصان کا باعث بن رہا ہے، بل کہ مستقبل میں شدید قدرتی آفات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
ان ہوٹلوں کا استعمال شدہ پانی اور گٹر (انسانی فضلہ) بہ راہِ راست دریائے سوات میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کے باعث دریا کا پانی روز بہ روز آلودہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح دریا کے کنارے آباد دیہات اور شہروں کا نکاسیٔ آب کا نظام، گٹر کا پانی اور شہری کوڑا کرکٹ بھی بہ راہِ راست دریا میں پھینک دیا جاتا ہے، جس سے پانی کی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سوات میں قائم کاسمیٹک اور ماربل فیکٹریاں بھی دریائے سوات اور اس کے آبی حیات کی تباہی کا ایک اہم سبب بنتی جا رہی ہیں۔ اگر اس عمل کو بروقت نہ روکا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب دریائے سوات کا آبی حیات مکمل طور پر معدوم ہو جائے گا اور اس کا پانی زراعت کے لیے بھی ناقابلِ استعمال بن جائے گا۔
دریائے سوات، جو کبھی زندگی، خوش حالی اور زرخیزی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج انسانی مداخلت، بے احتیاطی اور لالچ کا شکار ہوچکا ہے۔ دریا میں قائم درجنوں کرش پلانٹس روزانہ کی بنیاد پر کھدائی میں مصروف ہیں۔ یہ کرش پلانٹس دریا سے ریت، بجری اور پتھر نکال کر نہ صرف اس کی قدرتی ساخت کو بگاڑ رہے ہیں، بل کہ اس کے نازک ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آبی حیات، بالخصوص مچھلیوں کی مختلف اقسام، معدومی کے خطرے سے دوچار ہوچکا ہے۔
ان کرش پلانٹس کی سرگرمیوں کے باعث زرعی زمینیں دریا برد ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جب کہ آب پاشی کے لیے پانی کا حصول بھی دن بہ دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ان پلانٹس سے اٹھنے والا گرد و غبار اردگرد کی فصلوں، باغات اور انسانی آبادی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔
کسی زمانے میں انوائرمنٹل پروٹیکشن سوسائٹی سوات (E.P.S) نے غیر ملکی فنڈز سے کروڑوں روپے مالیت کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا، مگر افسوس کہ اُس خطیر رقم کا بیش تر حصہ تصاویر، اخباری بیانات اور آگاہی مہمات پر خرچ کر دیا گیا، جب کہ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اگر اس منصوبے کے تحت مؤثر اور دیرپا عملی اقدامات کیے جاتے، تو شاید آج دریائے سوات کی صورتِ حال اس قدر تشویش ناک نہ ہوتی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سوات اور ملاکنڈ کی انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات، کرش پلانٹس، ماربل اور کاسمیٹک فیکٹریوں، نیز دریائے سوات کے قدرتی بہاو میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کرے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس قدرتی ورثے کو محفوظ بنایا جاسکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










