ساحر لدھیانوی (شخصیت و فن)

Blogger Comrade Sajid Aman

فلمی تاریخ اور ترقی پسند فکر کا کرب ناک اور روشن ہیرو ’’ساحر لدھیانوی‘‘… جن کے بغیر اُردو ادب نامکمل ہے۔ ساحر کی زندگی محبت، بغاوت، تنہائی، نظریاتی شدت اور تخلیقی عظمت کا ایک ایسا امتزاج ہے، جس کی مثل اُردو دان معاشرے میں شاید ہی کوئی اور ہو!
 8 مارچ 1921 کو متحدہ پنجاب کے شہر ’’لدھیانہ‘‘ میں عبدالحئی کے نام سے پیدا ہونے والے اس عظیم شاعر کا تعلق ایک متمول جاگیردار گھرانے سے تھا۔ ان کے والد چودھری فضل محمد ایک رئیس زمین دار تھے، جن کی زندگی میں دولت، اثر رسوخ اور متعدد شادیوں کی رنگینی موجود تھی… مگر ساحر کی والدہ سردار بیگم نے شوہر کی استبدادی روش کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے علاحدگی اختیار کی۔ یہ فیصلہ اُس دور کے سماجی ماحول میں غیر معمولی جرات کا مظہر تھا۔ ساحر اپنی والدہ کے زیرِ سایہ پروان چڑھے اور ماں کی قربانی، محرومی اور استقامت نے اُن کی شخصیت میں عورت کے احترام، معاشرتی ناہم واری کے شعور اور جذباتی گہرائی کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں نسائی احساس، سماجی عدل اور انسانی وقار بار بار نمایاں ہوتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم لدھیانہ ہی میں حاصل کی۔ طالبِ علمی کے زمانے ہی سے عبدالحئی غیر معمولی ذہانت، ادبی شغف اور شاعرانہ رجحان اپنا چکے تھے۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں اُن کی شخصیت ایک ایسے نوجوان شاعر کے طور پر اُبھری جو روایتی عشق سے آگے بڑھ کر سماجی سچائیوں کو بھی محسوس کرسکتا تھا۔ اُسی دور میں انھوں نے ’’ساحرؔ‘‘ تخلص اختیار کیا، جس کے معنی ’’جادوگر‘‘ کے ہیں… واقعی وہ الفاظ کے جادوگر ہی ثابت ہوئے۔ الفاظ… جو دل، ذہن اور سماج سب پر اثر انداز ہوئے۔ مشاعروں میں ان کی مقبولیت بڑھنے لگی اور جلد ہی وہ ترقی پسند ادبی حلقوں میں پہچانے جانے لگے۔
تقسیمِ ہند سے پہلے لاہور، ساحرؔ کی ادبی زندگی کا اہم مرکز بنا۔ لاہور اُس زمانے میں اُردو ادب، صحافت اور ترقی پسند تحریک کا دل تھا۔ یہاں ساحر نے ’’ادبِ لطیف‘‘، ’’شاہکار‘‘ اور ’’سویرا‘‘ جیسے ممتاز ادبی جرائد کی ادارت کا شرف لیا۔ صحافت سے ان کا تعلق صرف روزگار نہیں، بل کہ نظریاتی اظہار کا ذریعہ تھا۔ وہ قلم کو محض جمالیاتی تخلیق نہیں، بل کہ سماجی شعور، سیاسی مزاحمت اور طبقاتی انصاف کا ہتھ یار سمجھتے تھے۔ 1945 میں ساحرؔ کا پہلا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ شائع ہوا، جو اُردو ادب میں ایک نئی آواز کے طور پر سامنے آیا۔ اس مجموعے نے انھیں ایک ایسے شاعر کے طور پر منوایا، جو محبت کی نرمی کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ ظلم، جنگ، مذہبی منافقت اور انسانی استحصال پر سخت تنقید کرتا تھا۔
ساحرؔ کی عشقیہ زندگی بھی ان کی شاعری کی طرح پیچیدہ، دل کش اور ادھوری رہی۔ ان کی سب سے مشہور محبت پنجابی ادب کی عظیم شاعرہ ’’امرتا پریتم‘‘ کے ساتھ تھی۔ دونوں کی ملاقات ایک مشاعرے میں ہوئی اور یہ تعلق جلد ہی فکری اور روحانی قربت میں بدل گیا۔ امرتا، ساحرؔ کی خاموش طبیعت، گہری آنکھوں اور لفظوں کی شدت سے بے حد متاثر ہوئیں۔ ان کی محبت میں ایک عجیب تقدس اور درد تھا۔ امرتا نے بعد میں اپنی خودنوشت میں لکھا کہ ساحر کے بجھے ہوئے سگریٹ بھی ان کے لیے یادگار بن جاتے تھے… مگر یہ محبت مکمل نہ ہوسکی۔ معاشرتی رکاوٹیں، جذباتی جھجھک اور ساحرؔ کی داخلی بے یقینی نے اس رشتے کو نامکمل رکھا۔ یہ عشق زندگی سے زیادہ ادب میں زندہ رہا۔ امرتا نے ساحرؔ کے لیے بہت کچھ لکھا۔ ایک طرف وہ ادبی شاہ کار کہلائے، تو دوسری طرف محبت کا عروج۔
امرتا کے بعد ساحرؔ کا نام گلوکارہ سدھا ملہوترا سے بھی منسلک ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ساحرؔ ان سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور ان کے لیے متعدد گیتوں میں جذباتی شدت بھی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی میں دیگر نسوانی تعلقات کے تذکرے ضرور ملتے ہیں، مگر کوئی رشتہ مستقل ازدواجی صورت اختیار نہ کرسکا۔
ساحرؔ نے پوری زندگی شادی نہیں کی۔ ان کی غیر ازدواجی حیثیت ان کی داخلی تنہائی، جذباتی بے قراری، اور ادھورے رومان کی علامت بن گئی۔
1947 کی تقسیمِ ہند نے ساحرؔ کی زندگی میں بھی شدید تبدیلی پیدا کی۔ وہ ابتدا میں پاکستان آگئے اور لاہور میں کچھ عرصہ قیام کیا… مگر ان کے ترقی پسند، اشتراکی اور حکومت مخالف نظریات پاکستانی ریاستی اداروں  کی نظر میں قومی مفادات اور نظریاتی اساس کے خلاف تھے۔ ان کے خلاف گرفتاری کے امکانات پیدا ہوئے، جس کے باعث وہ 1949 میں پاکستان چھوڑ کر دہلی اور پھر بمبئی منتقل ہوگئے۔ یہ واپسی صرف جغرافیائی نقلِ مکانی نہیں تھی، بل کہ ایک فکری سفر بھی تھی، جہاں تقسیم کا دکھ، تہذیبی بکھراو اور سیاسی مایوسی ان کی شاعری میں مزید گہری ہوگئی۔
بمبئی پہنچ کر ساحرؔ  فلمی دنیا کی سحر میں پہنچے اور جلد ہی اپنی غیر معمولی ادبی صلاحیت کے باعث فلمی دنیا کو سحر زدہ کر دیا۔ انھوں نے فلمی نغمہ نگاری کو محض تفریحی سطح سے بلند کرکے اسے ادبی وقار عطا کیا۔ گرو دت، یش چوپڑا، بی آر چوپڑا، اور دیگر بڑے فلم سازوں کے ساتھ ان کی شراکت نے ہندوستانی سینما کو لازوال نغمات دیے۔ ’’پیاسا‘‘ کے لیے لکھا گیا ’’یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے‘‘ نہ صرف فلمی تاریخ، بل کہ سماجی احتجاج کا شاہ کار بن گیا۔ ’’جنھیں ناز ہے ہند پر‘‘، ’’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا‘‘، ’’کبھی کبھی میرے دل میں‘‘ اور ’’مَیں پل دو پل کا شاعر ہوں‘‘ جیسے نغمے ان کی فکری وسعت، رومانوی گہرائی اور انسانی شعور کی عظیم مثالیں ہیں۔
لتا منگیشکر کے ساتھ ساحرؔ کا تعلق پیشہ ورانہ احترام اور تخلیقی ہم آہنگی پر مبنی تھا۔ لتا نے ان کے کئی لازوال گیت گائے۔ عظیم، لتا منگیشکر کے لیے کہتے ہیں کہ اگر وہ ساحرؔ کو نہ ملتی، تو شاید کسی کو مل جاتی… مگر ساحرؔ کے بعد وہ کسی کو نہیں ملی، نہ ساحرؔ ہی ملا۔
ساحرؔ ہمیشہ لفظ کی مرکزیت پر زور دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ موسیقی گیت کو امر ضرور بناتی ہے، مگر اصل روح شاعر کے لفظوں میں ہوتی ہے۔ اسی اُصولی موقف کے باعث انھوں نے فلمی صنعت میں نغمہ نگاروں کے حقوق کے لیے جد و جہد کی۔ وہ پہلے شاعروں میں شامل تھے، جنھوں نے فلمی دنیا میں ادیب کے مقام، مالی معاوضے اور شناخت کو بلند کیا۔ ان کے اصرار پر ریڈیو اور فلمی کریڈٹس میں نغمہ نگاروں کے نام نمایاں ہونے لگے۔
نظریاتی طور پر ساحرؔ ترقی پسند تحریک کے مضبوط ستون تھے۔ وہ اشتراکیت، انسانی مُساوات، عورت کی آزادی، مذہبی منافقت کے خلاف مزاحمت اور جنگ دشمنی کے علم بردار تھے۔ ان کی شاعری میں محبت محض ذاتی واردات نہیں، بل کہ سماجی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ حسن کو بھی سماجی حقیقت سے الگ نہیں دیکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں رومانویت میں بھی تلخی اور احتجاج میں بھی جمالیاتی حسن ملتا ہے۔
ادبی دنیا میں ان کے تعلقات فیض احمد فیضؔ، کیفیؔ اعظمی، کرشن چندر، مجروح سلطان پوری، جاں نثار اختر اور دیگر ترقی پسند دانشوروں سے رہے۔ اگرچہ ان سب میں نظریاتی ہم آہنگی تھی، مگر ساحر کی شناخت منفرد تھی۔ فیضؔ کے ہاں جہاں امید کی لطافت تھی، وہاں ساحرؔ کے یہاں تلخ حقیقت پسندی زیادہ نمایاں تھی۔ ان کی شاعری زیادہ بہ راہِ راست، عوامی اور احتجاجی تھی۔
ساحرؔ کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی، گہرائی، موسیقیت اور فکری شدت ہے۔ وہ مشکل فلسفے کو عام انسان کے جذبات میں ڈھال دیتے تھے۔ ان کی نظموں میں عشق، انقلاب، سماجی ناہم واری، جنگ، سرمایہ داری اور انسانی محرومی سب ایک مربوط فکری نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی جامعیت انھیں صرف شاعر نہیں، بل کہ ایک عہد کا ضمیر بناتی ہے۔
25 اکتوبر 1980 کو بمبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ساحر لدھیانوی کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات پر پورے برصغیر میں ادبی، صحافتی اور فلمی حلقوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انھیں ایک ایسے شاعر کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جس نے محبت کو شعور اور شاعری کو احتجاج عطا کیا۔ گلزارؔ، جاوید اختر اور متعدد اہلِ قلم نے اعتراف کیا کہ ساحرؔ نے فلمی شاعری کو محض تفریح سے بلند کرکے اسے ادب کی عظمت عطا کی۔
ساحرؔ لدھیانوی کی زندگی ایک جاگیردار باپ کے خلاف ماں کی جد و جہد، ادھورے عشق، نظریاتی مزاحمت، صحافتی جرات، فلمی کام یابی اور داخلی تنہائی کی داستان ہے۔ وہ برصغیر کے ان نادر شاعروں میں شامل ہیں، جنھوں نے لفظ کو صرف خوب صورتی نہیں، بل کہ ضمیر، احتجاج اور سماجی بیداری کی قوت بنایا۔ ان کی شاعری آج بھی محبت کرنے والوں کے دل، ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور ادب کے سنجیدہ قاری کے ذہن میں یک ساں طور پر زندہ ہے۔
ساحرؔ واقعی الفاظ کے جادوگر تھے۔ ایسے جادوگر، جن کے لفظ وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوئے، بل کہ اور زیادہ روشن ہوگئے ہیں۔
مصور میں تیرا شاہ کار واپس کرنے آیا ہوں
اب ان رنگین رخساروں میں تھوڑی زردیاں بھر دے
۔
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
۔
آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں مادام
لوگ کہتے ہیں، تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
۔
جس رام کے نام پہ خون بہے اس رام کی عزت کیا ہوگی
جس دین کے ہاتھوں لاج لٹے، اس دین کی قیمت کیا ہوگی
۔
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لیے
تو اب سے پہلے ستاروں میں بس رہی تھی کہیں
تجھے زمیں پہ اتارا گیا ہے میرے لیے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے