بھٹو اور سوشل ازم

Blogger Hamza Nigar

دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور امریکہ میں سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ نظریاتی لڑائی تھی، جس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا… جب کہ ایشیا اور افریقہ کے ممالک یا تو آزادی کے تحریک چلا رہے تھے، یا پھر امریکہ اور روس کے چھتری تلے آرہے تھے۔ 1950 کے اوائل میں آزاد ہونے والے کچھ ممالک نے ’’غیر وابستہ تحریک‘‘ (Non Align Movement) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد سرد جنگ میں امریکہ اور روس کا بہ راہِ راست سائیڈ لینے کی بہ جاۓ ’’غیر جانب داری‘‘ (Neutrality) قائم رکھنی تھی۔ اُن ممالک میں ہندوستان، مصر، انڈونیشیا اور یوگوسلاویہ آگے آگے تھے۔ بعد میں کیوبا اور دیگر ممالک بھی شامل ہوۓ۔ مذکورہ ممالک ایک نوآبادیاتی تاریخ رکھتے تھے، اس لیے اُن ممالک کے لیڈران جیسے ’’نہرو‘‘، ’’جمال ناصر‘‘، ’’سوکارنو‘‘ اور ’’جوسف ٹیٹو‘‘ سرمایہ داری سے بے زار اور سوشل ازم کی طرف جھکاو رکھتے تھے… لیکن سوشل ازم کا اُن کا ورژن روس اور چائینہ سے مختلف تھا۔
روس اور چائینہ مارکسی نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ جب کہ یہ ممالک مارکس ازم سے ہٹ کر سوشل ازم کو اپنے معروض اور مسائل کے لیے ایک حل کے طور پر دیکھتے تھے۔ مغرب کی جانب مزاحمت کے لیے بھی سوشل ازم ہی کو ہتھ یار کے طور پر استعمال کِیا گیا۔ سوشل زم اور کمیون ازم کو عام طور پر ایک ہی سمجھا جاتا ہے… لیکن یہ دونوں مختلف ہیں۔ مارکسسٹس، سوشل ازم کو ایک "Transitory Phase” کے طور پر دیکھتے ہیں، جس میں ریاست کا وجود لازمی ہے۔ جب کہ کمیون ازم ایک آئیڈیل صورتِ حال ہے، جس میں ریاست ختم ہوجاتی ہے اور ایک طبقاتی تقسیم سے آزاد سماج (Classless Society) کا قیام ہوتا ہے۔
لیکن دنیا میں کمیون ازم کہیں بھی عمل میں نہیں آیا۔
تیسری دنیا کے بہت سارے لیڈران سوشل ازم کی طرف راغب تھے۔ معمر قذافی نے اپنی "Green Book” میں ’’اسلامی سوشل ازم‘‘ کو حل بتایا، تو تنزانیہ کے لیڈر ’’جولیوس نیریرے‘‘ (Julius Nyerere) نے اپنی کتاب "Ujama” میں ’’کمیونٹی سپرٹ‘‘ کو افریقہ کے لیے ایک حل کے طور پر پیش کیا۔
سوشل ازم ایک آئیڈیل کے لیے طور پر کارل مارکس سے پہلے بھی موجود تھا۔ قدیم ایرانی مفکر ’’مزدک‘‘ کے افکار بھی ’’سوشلسٹ افکار‘‘ ہی مانے جاتے تھے۔
’’رابرٹ اوون‘‘ (Robert Owen) کا "Utopian Socialism” ہو یا ’’برنارڈ شا‘‘ (George Bernard Shaw) کی "Fabian Society” ہو، سب نے سوشل ازم کی الگ تعریف کی… لیکن مارکسسٹوں کے نزدیک سوشل ازم سائنسی اور جدلیاتی ساخت رکھتی ہے۔
پاکستان میں سوشل ازم نے مختلف ادوار دیکھے ہیں۔ 1953 میں متنازع ’’پنڈی سازش کیس‘‘ کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی۔ بعد میں ایوب خان کے خلاف ’’این ایس ایف‘‘ (NSF) اور ’’ڈی ایس ایف‘‘ (DSF) کے پلیٹ فارم سے مظاہرے شروع ہوۓ، تو بائیں بازو کو بھی سپیس ملنی شروع ہوئی۔ افغانستان اور روس کی جنگ سے پہلے مذہب اس طرح سے "Political Currencyـ” نہیں تھا… نہ لیڈران جواز کے طور پر مذہب کا سہارا ہی لیتے تھے۔ 1970 کے انتخابات کا مینڈیٹ بھی بائیں بازو کی جماعتوں کو ملا۔ عوامی لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور نیپ بڑی پارٹیاں ابھر کر سامنے آئیں۔
نومبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام قیام عمل میں آیا۔ پیپلز پارٹی ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے اور وعدے کے ساتھ میدان میں اُتری۔ پارٹی کے منشور کے مطابق اس کا مقصد پاکستان کو ایک سوشلسٹ ریاست بنانا ہے۔ ایوب دور میں 20 گھرانوں کی اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید زبان زدِ عام تھی… جیسے حبیب جالب نے کہا تھا:
بیس گھرانے ہیں آباد اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد، صدر ایوب زندہ باد
اصل میں 20 گھرانوں کی حاکمیت اور معاشی اثر رسوخ کی بات معیشت دان محبوب الحق نے کی تھی۔ بھٹو صاحب نے آتے ہی بڑے صنعت کاروں کا اثر کم کرنے کا فیصلہ کِیا۔ قومیانے کی پالیسی سے بڑی صنعت ریاستی تحویل میں چلی گئ۔ ستمبر 1968 میں سندھ کنونشن، حیدر آباد میں کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو سوشلسٹ ریاست بننے سے نہیں روک سکتی!‘‘
پاکستان کی بیش تر مذہبی جماعتیں (سواۓ جمیعت علمائے پاکستان، ہزاروی کے) سوشل ازم کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔ اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی میاں طفیل کے مطابق ’’سوشل ازم پاکستان کے ٹوٹنے کا سبب ہوگا۔‘‘
26 جنوری 1970 کو 130 علما نے مشترکہ فتوا دِیا کہ سوشل ازم ریاستِ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے راہ نما حنیف رامے نے کہا، ’’اگر جمہوریت شورا کا متبادل ہوسکتی ہے، تو سوشل ازم بھی ’مساوات‘ کے عین مطابق ہے۔‘‘
بڑھتے ہوۓ پریشر کی وجہ سے چار و نا چار پیپلز پارٹی کو بھی مذہب کا سہارا لینا پڑا۔ اسلام مذہب، جمہوریت طرزِ سیاست اور سوشل ازم معیشت بن گیا۔ یہی سے سوشل ازم کی جگہ ’’مُساواتِ محمدیؐ‘‘ نے لے لی۔ یہ کارنامہ پیپلز پارٹی ہی کے راہ نماؤں کوثر نیازی اور حنیف رامے نے کِیا۔ ابتدا میں پارٹی کا نِشان تلوار بنا، جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار ’’الذولفقار‘‘ سے تشبیہ دی گئی۔
بھٹو صاحب نے مذہبی دباو کا مقابلہ کرنے کے لیے سوشل ازم کو اسلامی بنا دیا… لیکن بائیں بازو کی جماعتوں سے کسی قسم کی رعایت برتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ "Lawrence Ziring” نے اپنی کتاب "Pakistan in the twentieth century” میں لکھا ہے کہ ولی خان، بھٹو کو "Adolf Bhutto” کہتا تھا۔ بھٹو صاحب کی مخالف جماعتوں کے راہ نماؤں کے ساتھ سختی کی وجہ سے کچھ جَلا وطن اور باقی پابندِ سلاسل رہے۔ بلوچستان اسمبلی کی تحلیل اور پختونخوا اسمبلی کا مستعفی ہونا بھٹو صاحب کو مزید تنہا کرگیا۔ اُسی دور میں احمد رضا قصوری، صمد خان اچکزئی اور حیات شیرپاؤ کو قتل کیا گیا۔ ایف ایس ایف، ریاستی جبر کا آلہ کار بن کے مخالفوں کو دبانے کا کام کر رہی تھی۔ بھٹو صاحب کو مارکسسٹ بھی اچھے نہیں لگتے تھے۔ بلوچستان کے فرار لیڈر شیر محمد خان مری کو بھٹو صاحب ’’جنرل شیروف‘‘ کہا کرتے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا سوشل ازم مارکسی نقطۂ نظر سے "Transitory” نہیں، بل کہ اُن کے سوشل ازم کا ورژن خود کئی مراحل سے گزرا۔ مشہور مارکسی دانش ور ڈاکٹر مبشر حسن سے بھٹو صاحب نے 1974 میں خزانے کا قلم دان واپس لیا تھا۔
مینشویک لیڈر (Menshevik Leader) ’’پلیخنوف‘‘ (Georgy Valentinovich Plekhanov) کے مطابق روس کو جاگیرداری سے سیدھا سوشل ازم پہ نہیں جانا چاہیے تھا… اور کیپٹل ازم سے ہوتے ہوۓ سوشل ازم کو اپنانا چاہیے تھا۔
پلیخنوف کی بات سے یہ واضح ہے کہ سوشل زم ایک جاگیردار یا زرعی ملک میں نہیں، بل کہ جہاں صنعت ہوگی وہاں چل سکتا ہے۔ پاکستان جہاں صنعت زوال پذیر تھی، وہاں صنعت قومیانے کا فیصلہ غلط تھا۔ ممتاز بھٹو اور مصطفیٰ کھر جیسے ایلیٹ کے ہوتے ہوۓ بھی زمینی اصلاحات کا ہونا ناممکن تھا۔ 1973 کے آئین کا آرٹیکل 3 ’’سوشلسٹ پرنسپل‘‘ کی بات کرتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی رہی سہی سوشل ازم سے ہٹ کر "Public Private Partnership” اور پھر ’’نیو لبرل ازم‘‘ (Neoliberalism) پہ آگئ۔
عبدالحفیظ پیرزادہ کے مطابق دو متضاد نظریات سوشل ازم اور نیشنل ازم کو ایک ساتھ لے کر چلنا بھٹو کے زوال کا سبب بنا۔
القصہ، بھٹو صاحب کو ڈیفائن کرنے کے لیے سلمان رشدی کا ظہیر الدین بابر کے بارے میں کہا جانے والا جملہ رہ رہ کر یاد آرہا ہے: ’’وہ اچھا بھی تھا اور برا بھی۔‘‘ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’دوسری جنگِ عظیم‘‘ (World War II):۔ دوسری جنگِ عظیم (1939–1945) ایک عالمی جنگ تھی، جس میں جرمنی، اٹلی اور جاپان (Axis Powers) کا مقابلہ برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک سے ہوا۔ یہ جنگ پولینڈ پر جرمنی کے حملے سے شروع ہوئی اور جلد ہی یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیل گئی۔ جرمنی نے یورپ کے کئی ممالک پر قبضہ کیا، لیکن سوویت یونین اور برطانیہ نے سخت مزاحمت کی۔ جاپان نے ’’پرل ہاربر‘‘ پر حملہ کرکے امریکہ کو جنگ میں شامل کرلیا۔ اہم لڑائیوں میں ’’اسٹالن گراڈ‘‘ اور ’’نارمنڈی لینڈنگ‘‘ شامل ہیں، جنھوں نے جنگ کا رُخ بدل دیا۔ آخرِکار 1945 میں اتحادی افواج نے جرمنی کو شکست دی اور امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس کے بعد جاپان نے ہتھ یار ڈال دیے۔ یہ جنگ دنیا کی سب سے خوں ریز جنگ ثابت ہوئی، جس نے عالمی سیاست اور معیشت کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
2) ’’سوویت یونین‘‘ (The Union of Soviet Socialist Republics):۔ سوویت یونین (USSR) ایک عظیم سیاسی و معاشی طاقت تھی، جو 1922 سے 1991 تک قائم رہی۔ یہ دنیا کی پہلی مارکسسٹ-کمیونسٹ ریاست تھی، جسے ولادیمیر لینن اور بعد میں جوزف اسٹالن نے مضبوط کیا۔ یہ سرد جنگ (1940 تا 1990) کے دوران میں دنیا کی دو سپر پاؤرز میں سے ایک سمجھی جاتی تھی۔ اس کا خاتمہ معاشی بحران، سیاسی کم زوری اور قوم پرست تحریکوں کے نتیجے میں ہوا۔
3) ’’غیر وابستہ تحریک‘‘ (Non Align Movement):۔ اس تحریک کا آغاز 1961 میں بلغراد (یوگوسلاویہ) میں ہوا، جس کی بنیاد بھارت کے جواہر لال نہرو، مصر کے جمال عبدالناصر، یوگوسلاویہ کے مارشل ٹیٹو، انڈونیشیا کے سوئیکارنو اور گھانا کے نکرومہ نے رکھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنی خودمختاری اور آزادی برقرار رکھتے ہوئے کسی بڑی طاقت کے زیرِ اثر نہ آئیں۔ آج یہ تحریک دنیا کے 121 ممالک پر مشتمل ہے، جو اقوامِ متحدہ کے دو تہائی سے زیادہ رکن ممالک کی نمایندگی کرتے ہیں۔
4) سوشل ازم (Socialism):۔ یہ ایک معاشی و سیاسی نظریہ ہے، جو دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتا ہے۔ اس میں پیداوار کے ذرائع (کارخانے، زمین، صنعت) کو اجتماعی یا ریاستی ملکیت میں رکھنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طبقاتی فرق کم ہو اور ہر فرد کو بنیادی سہولتیں اور مواقع برابر ملیں۔ سوشل ازم، سرمایہ داری کے مقابلے میں زیادہ مُساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نظریہ دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں نافذ کیا گیا ہے، جیسے فلاحی ریاستیں یا مکمل ریاستی کنٹرول۔
5) ’’مارکس ازم‘‘ (Marxism):۔ یہ کارل مارکس اور اینگلز کا نظریہ ہے، جو کہتا ہے کہ تاریخ، طبقاتی جدوجہد سے چلتی ہے، سرمایہ داری مزدوروں کا استحصال کرتی ہے اور اس کا انجام ایک مساوات پر مبنی کمیونسٹ معاشرہ ہے۔
6) کمیون ازم (Communism):۔ کمیون ازم کارل مارکس کے نظریات سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ایک اجتماعی معاشی نظام ہے، جس میں نجی ملکیت ختم کرکے وسائل کو عوامی ملکیت بنایا جاتا ہے، تاکہ مُساوات اور انصاف قائم ہوسکے۔ اس نظام میں دولت اور وسائل کی تقسیم مساوی طور پر کی جاتی ہے، تاکہ کوئی طبقہ دوسرے پر حاوی نہ ہو۔ سوویت یونین اور چین جیسے ممالک نے 20ویں صدی میں اس نظریے کو عملی طور پر اپنایا۔ کمیون ازم دراصل کیپٹل ازم کے برعکس ہے۔ کمیون ازم کے حامی اسے انصاف اور مساوات کا ضامن سمجھتے ہیں، جب کہ ناقدین اسے فرد کی آزادی اور معاشی ترقی کے لیے نقصان دِہ قرار دیتے ہیں۔
7) ’’پنڈی/ راولپنڈی سازش کیس‘‘ (Rawalpindi Conspiracy Case):۔ 1951 میں پاکستان میں ایک مبینہ بغاوت کا منصوبہ سامنے آیا، جس میں فوجی افسران اور ترقی پسند ادیب شامل تھے۔ اس مقدمے میں فیض احمد فیضؔ اور سجاد ظہیر جیسے بڑے نام گرفتار ہوئے۔ حکومت نے اسے ریاست کے خلاف سازش قرار دیا اور سخت کارروائی کی گئی۔
8) ’’مینشویک‘‘ (Menshevik):۔ مینشویک کا مطلب روسی سوشلسٹ پارٹی کا وہ دھڑا ہے، جو اعتدال پسند اصلاحات کا حامی تھا اور بالشویکوں کی انقلابی پالیسیوں کی مخالفت کرتا تھا۔ یہ دھڑا 1903ء میں پارٹی کے اندر اختلافات کے نتیجے میں وجود میں آیا، جب لینن کے سخت گیر نظریات کو سب نے قبول نہیں کیا۔ مینشویک تدریجی اصلاحات اور جمہوری طریقوں کے ذریعے تبدیلی کے قائل تھے، جب کہ بالشویک فوری اور انقلابی اقدام چاہتے تھے۔ 1917ء کے انقلاب کے بعد مینشویک، بالشویکوں کے ہاتھوں شکست کھاگئے اور اُن کا سیاسی اثر ختم ہوگیا۔
9) ’’نیو لبرل ازم‘‘ (Neoliberalism):۔ اس کا بنیادی اُصول یہ ہے کہ حکومت معیشت میں کم سے کم مداخلت کرے اور مارکیٹ کو آزاد چھوڑ دے۔ اس نظریے کے مطابق نجی شعبہ زیادہ مؤثر ہے اور ترقی کے لیے حکومتی اداروں کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام پر انحصار ہونا چاہیے۔ اس نظریے نے عالمگیریت (Globalization) کو فروغ دیا اور دنیا بھر میں آزاد تجارت اور سرمایہ کاری کے دروازے کھولے۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے