سوات کے عوام نے گذشتہ انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اپنے نمایندوں کو کام یاب بنایا۔ عوام کی یہ توقع تھی کہ اُن کے منتخب نمایندے علاقے کو درپیش بنیادی مسائل کے حل، نوجوان نسل کے تحفظ اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ آج جب سوات منشیات فروشی اور منشیات کے استعمال جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہے، تو عوام کی نظریں ایک بار پھر انھی منتخب نمایندوں پر مرکوز ہیں، جنھیں اُنھوں نے اپنی امیدوں اور امنگوں کا امین بنایا تھا۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سوات میں منشیات کا مسئلہ تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ دیہات ہوں یا شہری علاقے، تعلیمی ادارے ہوں یا بازار، تقریباً ہر جگہ اس لعنت کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، نشے کی دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بے شمار خاندان ذہنی اور معاشی اذیت کا شکار ہیں، بل کہ جرائم، چوری اور امن و امان کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کس سے جواب طلب کریں؟
ظاہر ہے سب سے پہلے اُن منتخب نمایندوں سے، جنھیں عوام نے اپنی آواز اور اپنے حقوق کا محافظ بنا کر اسمبلیوں تک پہنچایا ہے۔ خصوصاً جب صوبے میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت موجود ہو اور سوات کے بیش تر منتخب نمایندے بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، تو ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ اُن کے نمایندے حکومتی سطح پر مؤثر قانون سازی، انتظامی اصلاحات اور سخت کارروائیوں کے ذریعے اس مسئلے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
یہ بات درست ہے کہ منشیات کا مسئلہ صرف ایک دن یا ایک ادارے کی غفلت سے پیدا نہیں ہوا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تدارک کے لیے سیاسی قیادت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ منتخب نمایندوں کے پاس وہ اختیار اور پلیٹ فارم موجود ہوتا ہے، جس کے ذریعے وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو متحرک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں منشیات فروشی کھلے عام جاری ہے، تو عوام یہ سمجھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ کہیں نہ کہیں نگرانی اور عمل داری میں کم زوری موجود ہے۔
سوات کے عوام اپنے نمایندوں سے صرف ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر کی توقع نہیں رکھتے، بل کہ وہ اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی چاہتے ہیں۔ ایک ماں جو اپنے نوجوان بیٹے کے بارے میں فکرمند ہے، ایک باپ جو اپنے خاندان کو نشے کی تباہ کاریوں سے بچانا چاہتا ہے اور ایک اُستاد جو اپنے شاگردوں کو روشن مستقبل کی طرف بڑھتے دیکھنا چاہتا ہے، سب کی امیدیں انھی منتخب نمایندوں سے وابستہ ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سوات کے عوامی نمایندے اس مسئلے کو سیاسی بیان بازی سے بالاتر ہوکر اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اسمبلیوں میں آواز اٹھائی جائے، منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیے جائیں، نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور مُثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں اور بہ حالی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے۔ عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اُن کے منتخب نمایندے اُن کے دکھ درد اور پریشانیوں سے بے خبر نہیں، بل کہ اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں، بل کہ اپنی نسلوں کے تحفظ سے مضبوط بنتی ہیں۔ اگر نوجوان نسل منشیات کی نذر ہو جائے، تو بڑی سے بڑی ترقی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوات کے عوام آج اپنے نمایندوں کو پکار رہے ہیں اور ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس ناسور کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کریں۔
یہ مسئلہ کسی ایک گھر، خاندان یا علاقے تک محدود نہیں۔ آج اگر کسی اور کا بیٹا اس آگ میں جل رہا ہے، تو کل کوئی اور خاندان اس آزمایش سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اس لیے خاموشی کسی کے مفاد میں نہیں۔ عوام نے اپنے نمایندوں پر اعتماد کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس اعتماد کا عملی ثبوت دیں۔
سوات کے منتخب نمایندوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ووٹ صرف اقتدار کے لیے نہیں دیتے، بل کہ مسائل کے حل کی امید میں دیتے ہیں۔ آج سوات کے نوجوان، والدین اور پوری عوامی برادری اُن کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگر اس حساس مسئلے پر سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے گئے، تو یہ عوامی خدمت کا بہترین نمونہ ہوگا، لیکن اگر غفلت اور خاموشی برقرار رہی، تو آنے والی نسلیں ضرور سوال کریں گی کہ جب نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی، تو اُن کے منتخب نمایندے کہاں تھے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










