آج ایک فاتحے کے لیے صبح اسلام پور، مرغزار روڈ جانا تھا۔ ہم ماضیپرست ٹائپ لوگ، حال میں رہتے ہوئے، ماضی کے نقشے ذہن میں سجائے رکھتے ہیں۔
اسلام پور ایک الگتھلگ، پُرسکون اور خاموش گاؤں تھا… جو مینگورہ شہر سے کچھ ہی فاصلے پر، کمرشل ازم، بازاری رویوں اور ہمیشہ جلدی میں رہنے کی عادت سے پاک ایک ایسا گاؤں تھا، جہاں سکون اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
یہ تصور لیے مرغزار روڈ سے اسلام پور روڈ پر الگ ہوئے، تو پتا چلا کہ اسلام پور سرک کر اُسی دو راہے پر آیا پڑا ہے۔ خالی جگہ، نہ کھلے کھیت اور نہ چیتوڑ کا الگپن۔ بس آبادی، آبادی اور صرف آبادی… چلتے چلتے میں گھبرا گیا۔ ترقی بعض اوقات تکلیفدہ ہوتی ہے، اور میرے لیے یہ وہی وقت تھا۔
عالی شان پلازے جو اسلام پور کی عظمت کو ڈھک رہے تھے، ایک ہل چل جو اسلام پور کے سکون کو خراب کر رہی تھی، شور جو کَہ رہا تھا کہ یہ اسلام پور نہیں۔ ہمارے ہاں ہر چیز کو عقیدے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، جب کہ آبادی کا تعلق عقل اور وسائل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم نے آبادی کو ثواب سمجھ کر بڑھا دیا اور آخر میں پتا چلا کہ جہاں سے ثواب کشید کیا ہے، وہاں سے عقل والوں کو مخاطب کیا گیا ہے… بچے، بزرگ (جو بچوں کی طرح ہو جائیں) اور جو عقل نہیں رکھتے، اُن پر حد ہی نہیں ہوتی… مگر تب تک ہم کر گزرے۔
دو افراد شادی کرتے ہیں اور چار بچے پیدا کرتے ہیں، تو چھے لوگ ہو جاتے ہیں۔ وسائل، ماحول، سہولیات پر دو کی جگہ چھے لوگ ہوگئے، اور پھر ہر دو کے چار۔ مکان بھی چاہیے، پانی بھی، صفائی بھی، تعلیم بھی، سہولیات بھی، ہریالی بھی۔ تو جب دو کو کچھ مہیا نہیں تھا، تو شجرۂ نسب بڑھانے سے نئے آنے والوں کو کہاں سے ملے گا؟ یہ معاشیات کا سوال ہے، سوشیالوجی کا سوال ہے، سٹیٹسٹکس کا سوال ہے، ماحولیات کا سوال ہے، سیوکس کا سوال ہے، اور سب سے بڑھ کر عقل کا سوال ہے۔ اور ہمارے پاس جواب، ’’قسمت‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں۔
اسلام پور جو کھلا، پُرفضا اور غیرتجارتی گاؤں تھا، ایک گنجانآباد تجارتی قصبے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ غیرفطری پھیلاو نے ہر وہ منطقی جواب دیا ہے، جو فطرت دیتی ہے۔ گھر سے گھر ملا ہوا ہے، دلوں میں شاید کشادگی ہو، مگر گلیاں تنگ ہیں۔ اپنے ہی گھر کے باہر دکانیں بنا کر تجارت کرنے کا شوق ایک عرصے سے پورے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ چھجے نکلے ہوئے، بےترتیب آبادی… اور اس کے معاشی و نفسیاتی مسائل سب موجود ہیں۔
اسلام پور ایک تاریخی شہر ہے۔ ریاستِ سوات اور ریاست سے پہلے اس کی اپنی انفرادیت ہے۔ آبادی کی تقسیم میں سید، میاں، ملان، پختون اور ہنرمند تاریخی طور پر ایک گلدستے کی مانند رہے، اور ہمیشہ مثال کی حیثیت رہی… اب ایک مکمل تجارتی مرکز، گنجایش سے زیادہ آبادی، ہارن مار کر غصے کا اظہار کرنے والے، ساتھ چل کر پتا بتانے کی جگہ ہاتھ اور انگلی کے اشاروں سے پتا سمجھانے والا قصبہ بن گیا۔ بڑی ترقی ہوگئی ہے۔
بس صرف ایک چیز کو دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ابھی عظیم قبرستان کے قدیم درختوں کو کاٹا نہیں گیا ہے۔ دعا ہے، ترقی یہاں کے لوگوں کو اس مکروہ عمل پر نہ اکسائے۔ جہاں ایک وقت میں پورا گاؤں جاننے والا تھا، اب پوچھ پوچھ کر جاننے والے تلاش کر رہا تھا۔ ایک مرحوم کے فاتحہ کے لیے اسلام پور گیا تھا، اسلام پور ہی کا فاتحہ پڑھ کر واپس آیا۔
مجھے بھی جلدی تھی، مَیں بھی کمرشل ہوں، میرے بھی چار بچے ہیں۔ ہم ایک طرح کے لوگ ہیں… سائنس کو سمجھ سکے، نہ مذہب کو۔ ستم یہ کہ سائنس اور مذہب کو مقابل لاکر کھڑا کیا۔ یہاں سائنس کی خرابی تھی، نہ مذہب کا قصور… بس اپنی جہالت ہمیں اس نتیجے پر پہنچا گئی۔
واپسی کے وقت بوجھل تھا۔ گاڑی دوڑ رہی تھی اور مَیں ساتھ والی سیٹ پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ میرے اور بیٹے کے درمیان ایک بھی بات نہیں ہوئی۔ امان کوٹ فیضآباد روڈ سے گزرتے ہوئے قادر خان پروفیسر صاحب یاد آئے اور اوپر عمارتوں کو دیکھنے لگا۔ اتفاقاً آگے وہ کھڑے ہوئے نظر آئے۔ گاڑی روک لی۔ پروفیسر صاحب نے گلے سے لگایا۔ روایتی خلوص اور سچائی سے بھرپور مسکراہٹ اُن کا خاصا ہے۔ لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے تھے، مَیں نے لاٹھی نظرانداز کی۔ مکھل کر نہیں ہنسا کہ وہ لاٹھی آنکھوں میں کھب رہی تھی۔ اُنھوں نے بہت اصرار کیا، مگر ایک کمرشل شخص صرف کمرشل ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب کی محبت اور خلوص کی وجہ سے پھر آنے کا وعدہ کیا اور آفس آ گیا۔
اب کوئی کام نہیں ہو پا رہا۔ سوچا اعترافِ جرم کرلوں۔ اب کنفیشنل میں بیٹھا ہوں، گویا اعتراف کر رہا ہوں۔ ہم زندگی، آزادی، دوست، ماحول، خوشی… یعنی سب کچھ ہار گئے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔









