سٹیٹ بینک بیان دیتا ہے کہ ڈالر بڑھ گئے، ملک ترقی کی طرف گام زن ہے… مگر عملی طور پر اسٹیٹ بینک کے ڈالر بڑھنے اور ترقی کے دعوؤں کے برعکس عوام کا حال خراب سے خراب تر ہوتا جاتا ہے۔ آئیے اس چکر کو سمجھتے ہیں۔
معیشت کی دنیا بہ ظاہر اعداد و شمار، گرافوں اور اصطلاحات کا ایک پیچیدہ جنگل محسوس ہوتی ہے… مگر حقیقت یہ ہے کہ انھی اعداد کے اندر ایک قوم کی خوش حالی، غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور مستقبل کی پوری کہانی چھپی ہوتی ہے۔ آج دنیا بھر کی حکومتیں اپنی کام یابی کو "Gross Domestic Product” جسے مختصراً ’’جی ڈی پی‘‘ کتے ہیں، کی شرحِ نمو سے ناپتی ہیں۔
مگر عام آدمی اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ آخر یہ جی ڈی پی ہے کیا شے، اِس کا اُس کی زندگی سے کیا تعلق ہے… اور اگر معیشت ترقی کر رہی ہے، تو پھر بازار میں مہنگائی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟
’’جی ڈی پی‘‘ دراصل کسی ملک کے اندر ایک مخصوص مدت، عموماً ایک سال، میں پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی مالی قدر کو کہا جاتا ہے۔ گویا ملک میں جتنی صنعت، زراعت، تجارت، تعمیرات، بینکنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات انجام دی جاتی ہیں… اُن سب کی مجموعی قیمت جی ڈی پی کہلاتی ہے۔ جب حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ معیشت کی شرحِ نمو بڑھ گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک میں پیداوار اور کاروباری سرگرمیاں پہلے سے زیادہ ہوئی ہیں۔
لیکن صرف جی ڈی پی کا بڑھ جانا عوامی خوش حالی کی مکمل ضمانت نہیں ہوتا۔ اسی لیے ماہرین ’’فی کس آمدنی‘‘ (Per Capita Income) کا تصور پیش کرتے ہیں۔ فی کس آمدنی کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی مجموعی آمدنی کو کُل آبادی پر تقسیم کیا جائے، تو اوسطاً ایک فرد کے حصے میں کتنی آمدنی آتی ہے؟ اگر کسی ملک کی جی ڈی پی بہت بڑی ہو، مگر آبادی بھی بے حد زیادہ ہو، تو ممکن ہے کہ عام آدمی کے حصے میں بہت کم دولت آئے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک کی معیشت دنیا میں بڑی شمار ہوتی ہے، مگر وہاں غربت اور بے روزگاری پھر بھی موجود رہتی ہے۔
اسی سے جڑا ایک اور اہم تصور ’’فی کس خرید‘‘ (Purchasing Power) کا ہے، جسے قوتِ خرید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل اس بات کا پیمانہ ہے کہ ایک عام شہری اپنی آمدنی سے کتنی اشیا خرید سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی تن خواہ پچاس ہزار روپے ہے، مگر آٹا، گھی، بجلی، پٹرول اور کرایے اتنے مہنگے ہو جائیں کہ اس تن خواہ سے گھر نہ چل سکے، تو اس کی قوتِ خرید کم ہوچکی ہے۔ گویا صرف آمدنی بڑھ جانا کافی نہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس آمدنی سے زندگی کی بنیادی ضروریات کتنی آسانی سے پوری ہو رہی ہیں؟
یہیں سے ’’افراطِ زر‘‘ (Inflation) کی بحث شروع ہوتی ہے۔ افراطِ زر دراصل اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا نام ہے۔ جب روزمرہ استعمال کی چیزیں مہنگی ہوتی جاتی ہیں، تو عوام کی قوتِ خرید کم ہونے لگتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب چند سو روپے میں ہفتے بھر کا راشن آ جاتا تھا، مگر آج ہزاروں روپے بھی ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ یہی افراطِ زر کا سب سے واضح اثر ہے کہ آمدنی وہی رہتی ہے، مگر اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
مہنگائی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں:
بعض اوقات عوام کے پاس خرچ کرنے کے لیے زیادہ پیسا ہوتا ہے، مگر بازار میں اشیا کم ہوتی ہیں، تو طلب بڑھنے سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ اسے ’’طلب کی بنیاد پر پیدا ہونے والی مہنگائی‘‘ کہا جاتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ بجلی، گیس، پٹرول، خام مال یا ٹیکس مہنگے ہو جائیں، تو صنعت کار اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے اشیا کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ اسے ’’لاگتی افراطِ زر‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس طرح ترقی پذیر ممالک میں ایک اہم مسئلہ ’’درآمدی مہنگائی‘‘ بھی ہے۔ چوں کہ ایسے ممالک تیل، مشینری اور دیگر ضروری اشیا بیرونِ ملک سے درآمد کرتے ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتے ہی مقامی بازار بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔
افراطِ زر کی ایک خطرناک شکل ’’افراطِ خوراک‘‘ (Food Inflation) بھی ہے، جس کا بہ راہِ راست تعلق عوام کے دسترخوان سے ہوتا ہے۔ جب آٹا، دال، چاول، سبزیاں، چینی، دودھ اور گوشت جیسی بنیادی غذائی اشیا مہنگی ہو جائیں، تو سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ ایک امیر آدمی شاید مہنگائی برداشت کرلے، مگر ایک مزدور کے لیے چند روپے کی اضافی قیمت بھی زندگی اور بھوک کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کی مہنگائی کو صرف معاشی نہیں، بل کہ سماجی بحران سمجھا جاتا ہے۔
حکومتیں اور مرکزی بینک مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف پالیسیاں بناتے ہیں۔ شرحِ سود بڑھائی جاتی ہے، تاکہ بازار میں پیسے کا بہاو کم ہو، درآمدات محدود کی جاتی ہیں، سبسڈیز دی جاتی ہیں، یا ٹیکس پالیسی تبدیل کی جاتی ہے… لیکن اگر معیشت کم زور ہو، پیداوار کم ہو اور سیاسی عدم استحکام بڑھ جائے، تو مہنگائی قابو سے باہر ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں معاشی بحران کے ساتھ مہنگائی بھی شدت اختیار کرلیتی ہے۔
دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ جی ڈی پی، فی کس آمدنی، قوتِ خرید اور افراطِ زر ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اگر جی ڈی پی بڑھ رہی ہو، مگر مہنگائی اُس سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو، تو عوام کی حقیقی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر تن خواہیں بڑھ جائیں، مگر اشیائے خور و نوش اس سے زیادہ مہنگی ہو جائیں، تو قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ گویا اصل خوش حالی صرف اعداد و شمار کے بڑھنے کا نام نہیں، بل کہ اس بات کا نام ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان، محفوظ اور باوقار ہو رہی ہے؟
بدقسمتی سے ہماری معیشتوں میں اکثر ترقی کے دعوے اعداد و شمار تک محدود رہ جاتے ہیں۔ حکومتیں جی ڈی پی کے بڑھنے پر جشن مناتی ہیں، مگر عوام بازار میں کھڑے ہوکر آٹے، چینی، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں دیکھتے ہیں۔ ایک طرف معاشی ترقی کے بلند دعوے ہوتے ہیں اور دوسری طرف عوام اپنی کم ہوتی ہوئی قوتِ خرید کے ہاتھوں پریشان نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد نے معیشت کو صرف ایک تکنیکی مضمون نہیں، بل کہ ایک سماجی اور سیاسی مسئلہ بھی بنا دیا ہے۔
ایک مضبوط اور متوازن معیشت وہی ہوتی ہے، جہاں جی ڈی پی میں اضافہ بھی ہو، فی کس آمدنی بہتر بھی ہو، قوتِ خرید برقرار بھی رہے اور افراطِ زر قابو میں بھی ہو۔ کیوں کہ آخرِکار معیشت کا اصل مقصد محض خزانے بھرنا نہیں، بل کہ انسان کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ اگر بازار روشن ہوں، مگر گھروں کے چولھے ٹھنڈے ہوں، اگر اعداد و شمار بلند ہوں، مگر عوام کے چہروں پر پریشانی ہو، تو ایسی معاشی ترقی محض رپورٹوں اور تقاریر تک محدود رہ جاتی ہے۔ حقیقی خوش حالی وہی ہے، جس کے اثرات ایوانوں سے نکل کر عام آدمی کے دسترخوان تک پہنچیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










