تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے اور شعور کی اُن شمعوں کو روشن کرتی ہے، جو معاشرے میں اندھیروں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ درس گاہیں وہ مقدس مقامات ہیں، جہاں سے نکلنے والا ہر فرد قوم کا معمار کہلاتا ہے۔ ماضی میں تعلیمی اداروں سے وابستہ یادیں نہایت پُروقار اور شایستہ ہوا کرتی تھیں، جہاں شاگرد اپنے اساتذہ کے احترام اور علمی روایات کو مقدم رکھتے تھے۔ رخصت ہونے کا لمحہ ہمیشہ ہی اُداس کر دینے والا ہوتا ہے، لیکن اس اداسی میں بھی ایک خاص قسم کی متانت اور سنجیدگی ہوا کرتی تھی۔
90 کی دہائی کا ذکر کریں، تو اُس وقت کالج یا اسکول کے آخری دن کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی تھی۔ اُس دور میں یادوں کو محفوظ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ وہ ڈائریاں یا آٹو گراف کاپیاں ہوا کرتی تھیں، جنھیں طالب علم بڑے اہتمام سے اپنے ساتھ لاتے تھے۔ اساتذہ سے اُن کے قیمتی مشورے اور کلاس فیلوز سے اُن کے نیک جذبات قلم بند کروانا ایک ایسی روایت تھی، جو برسوں تک اس تعلق کو زندہ رکھتی تھی۔ اگر کبھی اتفاق سے کوئی کیمرہ میسر آ جاتا، تو گروپ فوٹو بنوانا ایک بڑی عیاشی تصور کی جاتی تھی اور وہ تصویر زندگی بھر کا سرمایہ بن جاتی تھی۔ یہ تمام سرگرمیاں اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر انجام دی جاتی تھیں، جس کا مقصد صرف اور صرف محبتوں کو سمیٹنا ہوتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں تبدیلیاں آئیں، وہیں تعلیمی اداروں میں خوشی منانے کے انداز بھی بدل گئے۔ گذشتہ چند سالوں سے ایک عجیب اور ناپسندیدہ روایت نے جنم لیا ہے، جسے ’’یونیفارم ڈے‘‘ (Uniform Day) یا ’’آخری دن کی ہلہ گلہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس دن طالب علم ایک دوسرے پر سیاہی پھینکتے ہیں، یونیفارم پر مختلف رنگ بکھیرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کپڑوں پر بے ہودہ کلمات یا دست خط کرتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ محض ایک شرارت یا خوشی کا اظہار معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ عمل ہماری سماجی گراوٹ اور تعلیمی اقدار سے دوری کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ یہ روش نہ صرف تہذیب کے خلاف ہے، بل کہ اس میں ضیاع اور بے حسی کا وہ پہلو بھی نمایاں ہے، جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
خوشی منانا ہر طالب علم کا حق ہے اور تعلیمی سفر کے اختتام پر یادگار لمحات تخلیق کرنا ایک فطری خواہش ہے، لیکن کیا اس کے لیے کسی ضابطے یا اُصول کی ضرورت نہیں؟ کیا ہم اپنی خوشی میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے گرد و پیش کا احساس ہی نہیں رہا؟
ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ آج کے اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بن چکا ہے، وہاں بچوں کے لیے اسکول کا یونیفارم خریدنا کسی بڑی مالی مہم سے کم نہیں ہوتا۔ کتنے ہی والدین ایسے ہیں جو پیٹ کاٹ کر، ادھار لے کر یا اپنی بنیادی ضرورتیں قربان کرکے اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، تاکہ وہ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو کر اُن کا سہارا بن سکیں۔ ایسے میں اسکول کے آخری دن اسی قیمتی یونیفارم کو سیاہی اور رنگوں سے بھر کر کوڑے دان کی نذر کر دینا ان غریب والدین کی محنت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ وہ لباس جو کسی دوسرے ضرورت مند طالب علم کے پورے تعلیمی سال کا سہارا بن سکتا تھا، اسے چند لمحوں کی سستی شہرت اور نام نہاد تفریح کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہماری تعلیم ہمیں ڈگریاں تو دے رہی ہے، لیکن دوسروں کا احساس اور وسائل کی قدر کرنا نہیں سکھا رہی۔
تعلیمی اداروں کی یہ روایت نہ صرف معاشی نقصان کا باعث ہے، بل کہ اس سے اخلاقی انحطاط بھی جنم لیتا ہے۔ سیاہی پھینکنے کے اس عمل کے دوران میں اکثر لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں اور کئی بار نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم غور کریں، تو اس خوشی کو زیادہ بہتر اور تعمیری طریقے سے منایا جاسکتا ہے۔ اگر طالب علم اس عزم کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کا اختتام کریں کہ وہ اپنا بچا ہوا تعلیمی سامان، کتابیں اور اپنا صاف ستھرا یونیفارم کسی مستحق طالب علم کو عطیہ کریں گے، تو اس سے نہ صرف ایک غریب کی مدد ہوگی، بل کہ معاشرے میں ایثار اور ہم دردی کا پیغام بھی عام ہوگا۔ یہ عمل اس طالب علم کے لیے حقیقی یادگار بن سکتا ہے۔ کیوں کہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اور کسی کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہونا اس سیاہی کی ہولی کھیلنے سے کہیں زیادہ سکون بخش ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکول اور کالج کی انتظامیہ اس حوالے سے سخت قواعد و ضوابط وضع کرے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ سال کے آخری ایام میں طلبہ کی ایسی تربیت کریں کہ وہ اپنی توانائیوں کو مُثبت کاموں میں صرف کریں۔ والدین پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو وسائل کی قدر کرنا سکھائیں اور انھیں بتائیں کہ لباس یا کاغذ کی حرمت کیا ہوتی ہے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تہذیب یافتہ قومیں اپنی خوشیاں دوسروں کو تکلیف دے کر یا وسائل کو ضائع کرکے نہیں مناتیں، بل کہ ان کے ہر عمل سے شایستگی اور دوسروں کی خیر خواہی جھلکتی ہے۔ یادگار وہ نہیں ہوتی، جو چند گھنٹوں کے شور شرابے اور رنگوں کے ضیاع کے بعد ختم ہو جائے، بل کہ یادگار وہ ہوتی ہے، جو دلوں میں محبت پیدا کرے اور جس کا اثر دیرپا ہو۔ اگر ہم اپنی روایات کو دوبارہ زندہ کرلیں اور جدید دور کی خرافات سے پیچھا چھڑا لیں، تو ہمارا تعلیمی نظام ایسے افراد پیدا کرنے میں کام یاب ہو جائے گا، جو نہ صرف پڑھے لکھے ہوں گے، بل کہ ایک ہم درد اور باشعور انسان بھی کہلائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










