نشہ، جرم اور خاموش ریاست

Blogger Ikram Ullah

ایک نوجوان عورت روتے ہوئے کَہ رہی تھی کہ ’’خدا کا واسطہ ہے، میرے بچے کو یہاں مت آنے دو… مَیں بیوہ ہوں، نشئی بچے کو نہیں سنبھال سکتی۔‘‘
وہ عورت یہ واویلا اُس جھونپڑی کے سامنے کر رہی تھی، جہاں کھلے عام آئس، چرس اور دیگر منشیات کا کاروبار ہوتا ہے۔ وہاں دن رات یہ مکروہ دھندا جاری رہتا ہے۔ عوام سب کچھ جانتے ہیں، مگر بے بس ہیں، جب کہ ذمے داران کی پُراَسرار چشم پوشی اس تاثر کو جنم دیتی ہے کہ شاید اس کاروبار میں کہیں نہ کہیں ’’حصہ داری‘‘ بھی شامل ہے۔
ایک سڑک پر صبح سے شام تک لوگ پیدل آکر رُکتے ہیں، فون ملاتے ہیں اور قریب ہی ایک گھر سے ایک لڑکا نکل کر اُنھیں برسرِعام چرس اور دیگر منشیات فراہم کرتا ہے۔یہ دونوں مقامات پولیس اسٹیشن سے چند ہی قدموں کے فاصلے پر واقع ہیں۔ پولیس درجنوں بار ان لوگوں کو گرفتار کرچکی ہے، مگر چند دن بعد وہی لوگ دوبارہ آزاد گھومتے دکھائی دیتے ہیں… اور نسلِ نو کو تباہ کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوجاتا ہے۔ سپلائی پوائنٹس صرف یہی دو نہیں، بل کہ درجنوں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور پولیس واقعی بے خبر ہیں، یا اس خاموشی کی بھی کوئی قیمت وصول کی جاتی ہے؟
عمران اپنے باپ کا بڑا بیٹا تھا۔ اُس کا باپ سعودیہ میں مزدوری کرتا تھا، جب کہ عمران باپ کے بھیجے گئے پیسوں سے گھر کے معاملات چلاتا تھا۔ ضعیف العمری کے باعث باپ نے سعودیہ کو خیرباد کہا اور گاؤں میں مزدوری شروع کردی۔ ساتھ ہی یہ امید بھی باندھ لی کہ اب عمران اُس کا ہاتھ بٹائے گا… مگر کون جانتا تھا کہ نشہ عمران کو اندر سے کھوکھلا کرچکا ہے۔ اب وہ باپ کا بوجھ کیا کم کرتا، الٹا اپنی بیوی کو طلاق دے بیٹھا اور اپنی مطلقہ بیوی اور بچوں سمیت ضعیف باپ کے لیے مزید بوجھ بن گیا۔
ایک خوب صورت کم عمر آٹھویں جماعت کے بچے کو ایک منشیات فروش نے آئس کا عادی بنا دیا اور پھر نشے کی طلب پوری کرنے کے لیے اُسے سپلائر کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ بچے کا رنگ نکھرا تھا، اس لیے اُس کے جنسی استحصال کی کہانیاں پورے گاؤں میں گردش کرنے لگیں۔ بچے کا باپ ہر گھڑی روتا رہا، مگر منشیات فروش قانون کی گرفت سے محفوظ رہا۔ اور کیوں نہ رہتا، جب قانون ہی کسی کا محافظ بن جائے، تو ایک عام شہری آخر کیا کرسکتا ہے؟
لہٰذا جیسے ہی بچہ شناختی کارڈ بنوانے کے قابل ہوا، فوراً اُس کا کارڈ بنوایا گیا اور اُسے سعودیہ بھیج دیا گیا کہ شاید وہ اس لعنت سے بچ جائے… اور اگر بچ نہ بھی سکے، تو کم از کم گاؤں میں ماں باپ کی عزت روز روز سرِعام رسوا ہونے سے تو محفوظ رہے۔
ایک اور موصوف اسلام آباد پولیس میں اہل کار تھا۔ لمبا قد، مضبوط جسم اور پولیس کی وردی میں پورا ہیرو لگتا تھا… مگر شہرِ اقتدار میں وہ کوکین کا عادی بن گیا۔ چند ہی برسوں میں وہ ہیرو سے زیرو بن کر رہ گیا۔ صحت تباہ ہوگئی، نوکری چلی گئی اور اب وہ گاؤں کے گندے نالوں کے کنارے پڑا رہتا ہے۔ پیچھے اُس کی جوان بیوی اور پھول جیسے بچے ذلت اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پچھلے ہفتے ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کردیا۔ دونوں کے بیوی بچے بے آسرا ہوگئے۔ قاتل آئس کا نشہ کرتا تھا، جب کہ مقتول اُس کے بیوی بچوں کے اخراجات بھی برداشت کرتا تھا۔ شاید اُس دن مقتول نے آئس کے لیے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا… اور نشے میں ڈوبا ہوا بھائی یک دم قاتل بن گیا۔ اُس نے اپنے ہی سگے بھائی کو خون میں نہلا دیا۔
قارئین، یہ صرف ایک گاؤں کی چند کہانیاں ہیں… وہ بھی ’’مشت از نمونہ خروارے‘‘ کے مصداق۔ ورنہ چترال سے کراچی اور کشمیر سے گوادر تک، گلی گلی منشیات فروشوں کے وارے نیارے ہیں۔ ہماری نسلِ نو کی ایک بڑی تعداد مختلف نشوں کی لت میں مبتلا ہوچکی ہے۔ نشہ کسی بھی بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک دشمن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور متعلقہ ادارے اس دشمن کو شکست دینے کے لیے واقعی سنجیدہ، یک سو اور تیار ہیں؟
اگر حکومت کچھ نہیں کرتی، تو کیا عوام خود منشیات فروشوں کے سماجی بائیکاٹ کے لیے تیار ہیں؟
ایک تحقیق کے مطابق اس وقت ملک میں 28 اقسام کا نشہ دست یاب ہے… اور اس میں مبتلا افراد کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ حتیٰ کہ لڑکیاں اور بہ ظاہر تعلیم یافتہ، اعلا طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تیزی سے اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ، کراچی میں ایک عورت گرفتار ہوچکی ہے، جو مکمل 15 برس تک اہل کاروں کی مبینہ ملی بھگت سے یہ مکروہ دھندا چلاتی رہی۔ اب جب وہ پکڑی گئی ہے، تو ہر طرف شور و غوغا برپا ہے، مگر ہم تو برسوں سے لکھتے آرہے ہیں کہ نشہ دہشت گردی سے کہیں زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔ کاش! ہماری حکومت اور ریاست اس معاملے پر سنجیدگی اختیار کرلے، ورنہ جنسی استحصال اور منشیات، یہ دونوں لعنتیں معاشرے کے لیے کینسر سے کم نہیں۔
اگلی نشست میں جنسی استحصال پر بات ہوگی، اگر زندگی نے وفا کی تو…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے