رات کے منتشر خیالات

Blogger Zubair Torwali

جدید دنیا مسلسل بدل رہی ہے۔ وہ آگے بڑھتی ہے اور ہمیں بھی ایک بے معنی دوڑ میں دھکیلتی چلی جاتی ہے۔ وہ اپنی حدیں پھیلاتی ہے اور ہمیں اپنے ساتھ چلتے رہنے پر اُکساتی ہے۔ اسکرینیں ہمارے چہرے بن چکی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے معمولات کو قید کرلیا ہے۔ سرمایہ داری نے ہمیں بھوسے سے بھرا  ہوا پتلا بنا دیا ہے اور بے یقینی اس کا حاصل ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں کہ ہم جُڑ سکیں، تخلیق کرسکیں اور دنیا کو بدل سکیں، مگر اس کے باوجود ہم زیادہ بٹے ہوئے، زیادہ تھکے ہوئے اور اپنے ہی وجود سے زیادہ غیر مطمئن ہیں۔ سماج کی اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے اندھیرا خاموشی سے پھیل رہا ہے، جیسے سایہ ڈھلتے سورج کے پیچھے پھیلتا ہے۔ یہ ساری چمک دمک دراصل  اضطراب کے لگائے ہوئے زخم ہیں۔
مَیں بھی اس بے قرار دنیا کا ایک نازک سا حصہ ہوں۔ میرے تجربات بھی اسی دنیا سے متاثر ہیں، مگر میں محض اس کا عکس نہیں ہوں۔ میرے اندر خواب بھی بستے ہیں اور مایوسیاں بھی۔ محبت، کھو جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ یادیں تھامے رکھتی ہیں، چاہے زندگی تلخیوں سے تیز دھار کی مانند اور کھردری ہی کیوں نہ ہو جائے۔ میرے وجود کے عقبی صحن  میں درد ہمیشہ کسی باڑ پر بیٹھا رہتا ہے۔ میری باطنی زندگی سماج، تاریخ، سیاست اور ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سب قوتیں مجھے تشکیل دیتی ہیں، مگر میں بھی درد کے اس شور میں اپنی آواز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
جدیدیت نے ہمیں آزادی کا وعدہ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ عقل، توہم پرستی کی جگہ لے گی؛ سائنس جہالت کو ختم کر دے گی؛ آزادی ظلم کو شکست دے گی اور انفرادیت پرانی روایتوں کو توڑ دے گی۔ جب کارخانے چلنے لگے، شہر پھیلنے لگے اور ٹیکنالوجی نے روزمرہ زندگی کو بدلنا شروع کیا، تو انسان سے توقع کی گئی کہ وہ خود مختار اور عقلی ہوگا… مگر جیسے جیسے پرانی دنیائیں غائب ہوئیں، گاؤں شہروں میں بدل گئے، برادریاں ٹوٹ کر قبیلوں اور گروہوں میں بکھر گئیں اور رشتے حقیقی قربت کے بہ جائے سودے بازی میں تبدیل ہونے لگے، جدیدیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا گیا۔ جدیدیت نے نئے مواقع ضرور دیے، مگر ساتھ ہی تنہائی، بیگانگی اور دائمی بے یقینی بھی پیدا کی۔
اب اضطراب ایک نئی معمولی کیفیت بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک شخصی احساس نہیں، بل کہ ایک اجتماعی کیفیت ہے۔ لوگ اپنے روزگار، اپنی سلامتی اور اس غیر یقینی دنیا میں اپنی جگہ کھو دینے سے خوف زدہ ہیں۔ سوشل میڈیا ان خوفوں کو اور بڑھا دیتا ہے۔  زندگی کو ایک ایسے اسٹیج میں بدل دیتا ہے، جہاں ہم ہمیشہ کسی نہ کسی کی نظر میں ہوتے ہیں۔ ہم اُن اَن دیکھی نگاہوں کے لیے اداکاری کرتے رہتے ہیں، جب کہ ہماری شناختیں رجحانات، الگورتھم اور دوسروں کی مسلسل توجہ کے زیرِ اثر بدلتی رہتی ہیں۔
جدید انسان اندر سے منقسم اور زخمی ہے۔ باہر سے ہم کام یابی، پیداواریت اور امید کی باتیں کرتے ہیں، مگر اندر سے تھکے ہوئے اور خالی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے رابطے بڑھ رہے ہیں، مگر قربت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم جڑے ہوئے بھی ہیں اور تنہا بھی۔ ہم بھیڑ میں تنہا ہوچکے ہیں۔  دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر ہماری باطنی روحیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
میرا احساسِ ذات بھی کھو دینے، آگے بڑھنے اور یادوں کو تھامے رکھنے کی اسی مسلسل کش مہ کش سے بنتا ہے۔ میرا ایک حصّہ ٹیکنالوجی، خواہش اور مسلسل سرگرمیوں میں الجھا ہوا ہے۔ دوسرا حصّہ فطرت، پرانے گیتوں اور اچھے نغموں، خاندانی لمسوں اور قریبی رشتوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ مَیں اپنے اندر آج کے خواب بھی اٹھائے پھرتا ہوں اور ماضی کے غم بھی۔ یہی تقسیم میرے ہر احساس اور ہر خیال کو متاثر کرتی ہے۔
خواب انسان کو سہارا دیتے ہیں۔ مشکل وقتوں میں بھی لوگ بہتر دنوں کا تصور کرتے ہیں۔ جدید زندگی ترقی، آزادی، مُساوات اور شناخت کے خوابوں پر قائم ہے… مگر سب سے اہم خواب وہ ہوتے ہیں، جو ذاتی اور نازک ہوں، جو محبت اور آرزو سے جنم لیتے ہوں، نہ کہ بڑے نعروں سے۔ میرے اپنے خواب معنی، تعلق، وقار، تخلیق اور یادوں کو زندہ رکھنے سے جڑے ہیں۔ مَیں چاہتا ہوں کہ محبت مضبوط رہے اور نرمی کو کم زوری نہیں، بل کہ طاقت سمجھا جائے۔
مگر آج کے خواب بہت نازک ہیں۔ وہ معاشی مشکلات، ناانصافی، تشدد اور دل شکستگی سے ٹکرا جاتے ہیں۔ جدید زندگی ہمیں چلتے رہنا تو سکھاتی ہے، مگر شفا پانا نہیں۔ ہم آگے بڑھنا سیکھ لیتے ہیں اور اندر کے زخموں کو ساتھ لیے پھرنے پر مجبور ہیں۔  دل ٹوٹنا، ناکامی اور شک عام ہوچکے ہیں اور درد خاموشی سے زندگی بھر ہمارا ساتھ دیتا رہتا ہے۔
ان زمانوں نے محبت کو بھی بدل دیا ہے۔ رشتے جلدی بنتے ہیں اور اکثر جلدی ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ ہم قربت چاہتے ہیں، مگر کم زور پڑنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم تعلق تلاش کرتے ہیں، مگر خود کو بچاتے بھی رہتے ہیں۔ جدید محبت تضادات سے بھری ہوئی ہے… قربت اور فاصلے، آرزو اور خوف، تھامنے اور چھوڑ دینے کے درمیان لٹک رہی ہے۔
میرے لیے محبت صرف رومانس نہیں۔ یہ زندگی کو معنی دیتی ہے۔ محبت لفظوں میں بھی ہوتی ہے، خاموشی میں بھی، یادوں میں بھی، جگہوں میں بھی، دوستیوں میں بھی اور وابستگی کے احساس میں بھی۔ ہم لوگوں سے محبت کرتے ہیں، مگر دریاؤں، زبانوں، اپنے وطن یا بچپن کے گیتوں سے بھی محبت کرسکتے ہیں۔ محبت ہمیں زمین سے جوڑتی ہے، مگر ساتھ ہی ہمیں کھو دینے کے لیے بھی کم زور بنا دیتی ہے۔
کھو دینا موت کی طرح ہے، جس کا ذائقہ ہر دل  کو چکھنا پڑتا ہے۔ جدید دور کئی طرح کے خسارے پیدا کرتا ہے… رشتوں کا، شناختوں کا، برادریوں کا، زبانوں کا، روایتوں کا، جگہوں کا، اور یقین  کا۔ عالم گیریت اور مرکزی طاقتیں پوری ثقافتوں کو مٹا دیتی ہیں۔ شہر ترقی کے نام پر یادیں ختم کر دیتے ہیں۔ جنگلات سکڑتے ہیں، دریا خشک ہوتے ہیں اور زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ لوگ ہجرت کرتے ہیں اور کبھی کبھی خود اپنے لیے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔
کچھ خسارے نظر آتے ہیں، کچھ اندر چھپے رہتے ہیں۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں، جنھیں زبان بیان نہیں کرسکتی۔ انسان صرف لوگوں کو نہیں کھوتا، بل کہ اپنے وجود کے کچھ حصّے بھی کھو دیتا ہے۔ وہ بچہ جو ہمیشہ باقی رہنے پر یقین رکھتا تھا، غائب ہو جاتا ہے۔ وہ خودی جو آسانی سے اعتماد کرلیتی تھی، ختم ہو جاتی ہے۔ معصومیت کے ساتھ اٹھائے گئے خواب تلخ تجربوں سے نشان زد ہو جاتے ہیں۔ مَیں کبھی اودِن کی آنکھ تھا، شمالی  قطبی ستارہ تھا۔ تب مَیں بہت زیادہ جڑا ہوا نہیں تھا۔ جب اُنس بڑھا، محبت بھی، تو مَیں ثریا سے زمین پر آگرا۔ شاید اسی لیے محبت اور تعلق انسان کو زیادہ کم زور بنا دیتے ہیں اور شاید اسی لیے ہم درد بھرے گیتوں سے محبت کرتے ہیں اور انھیں اپنے ہی لیے گاتے رہتے ہیں۔
درد، زندگی کا ایک لازمی حصّہ بن جاتا ہے… مگر یہی درد ہمیں زیادہ باشعور بھی بناتا ہے۔ جدید ثقافت، درد کو ایک مسئلہ سمجھتی ہے، مگر درد انسان کو گہری بصیرت بھی دیتا ہے۔ جو لوگ دکھ سے گزر چکے ہوتے ہیں، وہ دنیا کی نازکی، اس کی ناانصافیاں اور وہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں، جنھیں دوسرے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ درد ہمارے قابو کے احساس کو توڑ دیتا ہے اور ہمارے نرم پہلو سامنے لے آتا ہے۔ اس لیے درد اپنے اندر ایک عجیب  جزابھی رکھتا ہے۔
جدید زندگی، خاموشی سے بچتی ہے۔ کیوں کہ خاموشی ہمیں اپنے آپ سے بات کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ دنیا شور سے بھری ہوئی ہے۔ یہ شور دراصل اندر کے خالی پن کو چھپانے کا بھیس ہے۔ موسیقی، اشتہارات، مسلسل اسکرولنگ اور ہر وقت مصروف رہنا ہمیں اضطراب سے بچانے کے طریقے بن چکے ہیں… مگر کبھی کبھی ہماری اندرونی روح بغاوت کرتی ہے۔ خاموش لمحوں میں، جیسے بے خوابی کی راتوں میں یا بچھڑے ہوئے لوگوں کو یاد کرتے وقت، ہم اپنے اصل وجود سے رو بہ رو ہوتے ہیں۔ انھی لمحوں میں جینا حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ انسان صرف ایک فرد نہیں، بل کہ وقت اور جگہ سےتشکیل پانے والی ایک پوری زندگی ہوتا ہے۔
میرا احساسِ ذات پرانے زخموں، ذاتی اور ثقافتی یادوں، دور دراز جگہوں، مقامی جڑوں اور سمجھے جانے کی خواہش سے تشکیل پاتا ہے۔ مَیں عالمی طاقت کے مرکز میں نہیں، بل کہ کناروں پر ہوں اور یہی چیز مجھے دنیا کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔
ثقافتی کناروں پر بسنے والوں کے لیے جدید زندگی غیر مساوی انداز میں آتی ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے پہنچتی ہے، مگر انصاف بہت آہستہ ملتا ہے۔ میڈیا پھیلتا ہے، مگر مقامی آواذیں غائب ہوتی جاتی ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں، مگر برادریاں بکھر جاتی ہیں۔ ترقی اکثر ثقافت کو خاموشی سے قربان کرنے کا نام بن جاتی ہے۔ جدیدیت دل کش بھی ہے اور سخت بھی؛ یہ نئے مواقع دیتی ہے… مگر ساتھ ہی معنی اور وابستگی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔
ایسے وقتوں میں یاد رکھنا مزاحمت بن جاتا ہے۔ مقامی کہانیوں، زبانوں، گیتوں اور احساسات کو محفوظ رکھنا انسان کی عزت کو یک سانیت میں گم ہونے سے بچاتا ہے۔ جدید دنیا رفتار کو اہم سمجھتی ہے، مگر یاد نسلوں کو جوڑتی ہے اور یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی محض اعداد و شمار یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں۔
مَیں ماضی کو مکمل طور پر مثالی نہیں سمجھتا۔ روایتی معاشروں میں بھی ناانصافیاں، سخت ضابطے اور آزادی پر پابندیاں موجود تھیں۔ اصل چیلنج جدید زندگی کو رد کرنا نہیں، بل کہ اسے زیادہ انسان دوست بنانا ہے۔ ایک بہتر جدیدیت وہ ہوگی جو ثقافتی تنوع کی حفاظت کرے، جذباتی صحت کو دولت جتنا اہم سمجھے، مقامی دانش کا احترام کرے اور لوگوں کو اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے وسیع دنیا کا حصّہ بننے دے۔
آج کا سب سے بڑا بحران ٹیکنالوجی یا دولت کا نہیں، بل کہ روح اور احساس کا بحران ہے۔ ہمارے پاس معلومات بہت ہیں، مگر حکمت کی تلاش باقی ہے۔ ہم جڑے ہوئے  تنہا  ہیں۔ لوگ ہمیں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت میں جانتے نہیں۔ اضطراب اُس وقت بڑھتا ہے، جب ہم مسلسل بدلتی دنیا میں استحکام تلاش نہیں کر پاتے۔
اس سب کے باوجود امید باقی رہتی ہے۔ لوگ اب بھی شاعری لکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، درخت لگاتے ہیں، مٹتے ہوئے لفظ محفوظ کرتے ہیں، گم ہوتی آوازوں کو بچاتے ہیں اور ماضی کو جمع کرتے ہیں۔ یہ استقامت حیران کُن ہے۔ زخمی لوگ بھی خوب صورتی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ غم کے اندر بھی دل ’’انسان‘‘ رہنا نہیں بھولتا۔ یوں میرا احساسِ ذات خوابوں، محبت، خسارے، یاد، آرزو، مزاحمت اور امید کا ایک امتزاج ہے۔ مَیں ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں، جو پرانی دنیاؤں اور غیر یقینی مستقبلوں کے درمیان کھڑی ہے۔ میرے اندر اضطراب اور امید ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ جدید زندگی شناختوں کو توڑ سکتی ہے،مگر یہ سمجھنے اور جڑنے کے نئے راستے بھی پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ اس خوف کے ساتھ کہ ہم ہمیشہ رقص گاہ کے فرش پر ناچتے رہتے ہیں، سرگرداں ہیں، تیز رفتار ہیں۔ ایک لمحے کے لیے رُک کر اپنی ذات پر غور کرنے کا کوئی لمحہ نہیں ملتا۔
شاید آج انسان ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہم اس کش مہ کش کے ساتھ جئیں۔  دنیا کے مسائل دیکھتے ہوئے بھی خواب دیکھنا، کھو دینے، حقیقت کے باوجود محبت کرنا اور شک کے باوجود معنی تلاش کرتے رہنا۔ آخرِکار اضطراب شاید کوئی خامی نہیں، بل کہ حساسیت کی علامت ہو۔ اس بات کا ثبوت کہ ہماری روح اب بھی جدید زندگی کی سرد مہری کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے اور ایسی محبت کی تلاش میں ہے، جو زخمی دلوں کو شفا دے سکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے