ایران، قومی اتحاد سے حاصل شدہ سبق

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف ہتھ یاروں، معیشت یا وسائل کے بل بوتے پر مضبوط نہیں بنتی، بل کہ اس کی اصل طاقت اس کے عوام کے اتحاد، شعور اور اپنے وطن سے محبت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم باشعور ہو، اپنے قومی مفادات کو ذاتی اختلافات پر ترجیح دے اور اپنے وطن سے بے لوث محبت کرے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے زیر نہیں کرسکتی۔
آج کے عالمی حالات اس حقیقت کو مزید واضح کر رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی اور جنگی ماحول میں مختلف ممالک کے رویے ہمارے سامنے ایک سبق کے طور پر موجود ہیں۔ جہاں کچھ ممالک میں جنگ یا بحران کی صورت میں عوام خوف و ہراس کا شکار ہوکر اپنے ہی وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، وہیں کچھ قومیں ایسی بھی ہیں، جو ہر مشکل گھڑی میں اپنے ملک کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہتی ہیں۔
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض خطوں میں جیسے ہی جنگ یا عدم استحکام کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، عوام کی بڑی تعداد نقلِ مکانی شروع کر دیتی ہے۔ لوگ اپنے مستقبل کے خوف میں اپنے گھر، کاروبار اور وطن سب کچھ چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک سے بھی لاکھوں افراد بہتر مواقع یا تحفظ کی تلاش میں یورپ اور دیگر خطوں کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جہاں قومی وابستگی کم زور ہو، وہاں مشکل وقت میں استقامت بھی کم زور پڑ جاتی ہے۔
اس کے برعکس، ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں شدید دباو اور بہ راہِ راست جنگی صورتِ حال کے باوجود عوام نے غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں افراد، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، مگر اس کے باوجود عوام کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے ملک کو چھوڑنے سے انکار کیا، بل کہ ہر سطح پر یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔
ایرانی معاشرے میں ایک دل چسپ اور قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں روزمرہ زندگی کا تسلسل برقرار ہے۔ بازار کھلے ہیں، اشیائے ضروریہ دست یاب ہیں اور عوام معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں بڑے پیمانے پر افراتفری یا انتشار دیکھنے کو نہیں ملتا… نہ پناہ گزینوں کے کیمپوں کی بھرمار ہے اور نہ اجتماعی ہجرت کا کوئی رجحان ہی ہے۔ اس کے برعکس، لوگ سڑکوں پر نکل کر زندگی کو معمول کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے عوام کے حوصلے اور ذہنی استحکام میں ہوتی ہے۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ اختلافات کے باوجود قومی سلامتی اور بقا کو مقدم رکھا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت سے اختلاف بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کو کم زور کیا جائے، بل کہ ایسے وقت میں قوم کا متحد ہونا ہی اس کی سب سے بڑی کام یابی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس استقامت کو سراہا گیا ہے۔ یہاں تک کہ مخالف ممالک کے راہ نماؤں کو بھی اس عوامی حوصلے کا اعتراف کرنا پڑا۔ یہ کسی بھی قوم کے لیے ایک بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اس کے دشمن بھی اس کی ثابت قدمی کی تعریف کریں۔
اس تمام صورتِ حال میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم پر بھی کبھی ایسا وقت آتا ہے، تو کیا ہم اسی طرح متحد رہ سکیں گے؟
کیا ہم اپنے ذاتی، سیاسی یا گروہی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف اپنے وطن کے لیے کھڑے ہوسکیں گے؟
بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں اکثر اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ قومی مفاد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ سیاسی تقسیم، لسانی تعصبات اور ذاتی مفادات ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں۔ یہی وہ کم زوری ہے، جسے بیرونی طاقتیں استعمال کرتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط قوم بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے اندر اتحاد اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔
حب الوطنی کا مطلب صرف نعرے لگانا نہیں، بل کہ عملی طور پر اپنے ملک کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ یہ اُس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے، جب حالات مشکل ہوں۔ آسان وقت میں وطن سے محبت کا دعوا کرنا آسان ہوتا ہے، مگر اصل امتحان مشکل گھڑی میں ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی یہ شعور دینا ہوگا کہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بل کہ ہماری شناخت، ہماری عزت اور ہمارا مستقبل ہے۔ جب تک ہم اس احساس کو دل سے نہیں اپنائیں گے، ہم ایک مضبوط اور خودمختار قوم نہیں بن سکتے۔
ایک قوم کی کام یابی کا راز اُس کے اتحاد، شعور اور حب الوطنی میں مضمر ہے۔ اگر ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہو جائیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں ایران سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنے اندر وہی استقامت، حوصلہ اور یک جہتی پیدا کرنی چاہیے۔ کیوں کہ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں، جو مشکل وقت میں بکھرتی نہیں، بل کہ مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے