مینگورہ کی صبحیں کبھی دھند، ندیوں کے خوش کن شور اور سرسبز پہاڑوں کے نظارے سے پہچانی جاتی تھیں، مگر اب اس شہر کے نیچے خاموشی سے ایک اور کہانی لکھی جا رہی ہے… زمین کے اندر پانی نیچے جا رہا ہے اور زیرِ زمین پانی کا لیول کم ہوتا جارہا ہے۔ وہ پانی جو کبھی کنوؤں، چشموں اور نلکوں میں زندگی کی صورت بہتا تھا، اب گہرائیوں میں چھپتا جا رہا ہے۔ اوپر، پہاڑوں پر درخت کم ہوچکے ہیں، بارش کا پانی مٹی میں جذب ہونے کے بہ جائے پکے راستوں سے بہہ کر سیلابی ریلوں میں بدل جاتا ہے، اور یوں شہر ہر بارش کے ساتھ ایک نئے امتحان سے گزرتا ہے۔
یہ مسئلہ محض ایک شہر کا نہیں، بل کہ ایک نظامِ فطرت کے بکھرنے کی علامت ہے۔ جب پہاڑوں کی چھاتی سے درخت اکھاڑ دیے جاتے ہیں، تو بارش کا پانی رکنے، جذب ہونے اور زمین میں اترنے کے قدرتی راستے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہی پانی پھر تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف دوڑتا ہے، اپنے ساتھ پتھر، مٹی اور جو سامنے آئے بہاتا نیچے آتا ہے اور ’’شہری سیلاب‘‘ یا ’’اربن فلڈنگ‘‘ (Urban Flooding) کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اربن فلڈنگ… ایسا سیلاب جو دریا، خوڑ، ندی، نالوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں، گلیوں اور گھروں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
خوش قسمتی سے اس کا ایک خاموش مگر طاقت ور حل موجود ہے، جسے ہم نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ ماہرین اسے ’’رین واٹر ہارویسٹنگ‘‘ (Rain Water Harvesting) کا نام دیتے ہیں، یعنی بارش کے پانی کی کاشت۔ یہ کوئی جدید جادو نہیں، بل کہ صدیوں پرانا علم ہے، جسے آج دنیا دوبارہ غور و فکر کرکے اپنا رہی ہے۔ اس کا بنیادی اصول سادہ ہے, جو پانی آسمان سے مفت آتا ہے، اسے ضائع ہونے سے بچا کر زمین اور انسان دونوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔
سوچیے، ایک عام گھر کی چھت جہاں بارش کا پانی سیدھا نالیوں میں بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے، اگر اسے ایک سادہ نظام کے ذریعے پائپوں سے جوڑ کر کسی ٹینک یا زیرِ زمین گڑھے میں جمع کیا جائے، تو یہی پانی نہ صرف گھریلو استعمال کے لیے دست یاب ہوسکتا ہے، بل کہ آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔
ایک عام گھر میں اس کا طریقۂ کار کچھ یوں ہوسکتا ہے کہ چھت کے کناروں پر ’’گٹر‘‘ (Gutter) لگائے جائیں، وہاں سے پائپ کے ذریعے پانی کو فلٹر کیا جائے، جس میں ریت، بجری اور کوئلے کی تہیں شامل ہوں اور پھر اسے یا تو ذخیرہ ٹینک میں رکھا جائے، یا ایک ’’ریچارج پٹ‘‘ (Recharge Pit) میں ڈالا جائے، جہاں سے پانی زمین کے اندر اترتا رہے۔ اگر بارش کے پانی کو گھریلو استعمال سے اجتناب ہے، یا اس میں خرچ اور جھنجھلاہٹ ہے، تو بارش کا پانی سیدھا کھودے ہوئے پٹ، گڑھے، یا چھوٹے سے کنویں میں ڈالیں۔ یہ کوئی مہنگا یا پیچیدہ نظام نہیں، مگر اس کے اثرات حیران کن ہوسکتے ہیں۔
اس طرح پہاڑوں پر ’’چیک ڈیم‘‘ اسی فلسفے کی توسیع ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بند بارش کے پانی کی رفتار کو کم کرتے ہیں، پانی کا زور ٹوٹتا ہے، پہاڑی پانی اور شہری پانی کے ملاپ میں وقفہ پیدا ہوتا ہے، مذکورہ چیک ڈیم پانی کو روک کر اسے زمین میں جذب ہونے کا وقت دیتے ہیں، اور یوں نہ صرف سیلابی ریلوں کو قابو میں رکھتے ہیں، بل کہ خشک موسم کے لیے پانی کا ذخیرہ بھی بناتے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ ڈیم مٹی کے کٹاو کو کم کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف پہاڑوں کی ویرانی کو دوبارہ سرسبزی میں بدلنے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک اس راستے پر آگے بڑھ چکے ہیں۔ بھارت کے شہر ’’چنائی‘‘ میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا، جس کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جہاں پہلے زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلا گیا تھا۔
یوں آسٹریلیا اور جرمنی جیسے ممالک میں گھروں کی تعمیر کے ساتھ ہی ’’رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم‘‘ شامل کیے جاتے ہیں، تاکہ ہر بوند کو ایک وسیلہ سمجھا جائے، ضائع ہونے والا بوجھ نہیں۔
مینگورہ جیسے شہروں میں اگر اس طریقے کو اپنایا جائے، تو اس کے اثرات کئی سطحوں پر ظاہر ہوں گے:
اول، زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو سہارا ملے گا۔
دوم، بارش کے دوران میں پانی کا بہاو کم ہوگا، جس سے ’’اربن فلڈنگ‘‘ کے خطرات میں کمی آئے گی۔
سوم، ماحول میں نمی اور سبزہ بڑھے گا، جو مقامی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دے گا۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ کہ یہ ایک ایسا حل ہے، جو حکومت کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی خود اپنے گھروں میں نافذ کرسکتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کرے گا کون…؟ اس کا جواب کسی ایک ادارے یا فرد کے پاس نہیں۔ بلدیاتی ادارے، واٹر مینجمنٹ کے محکمے، واسا، ماحولیاتی ایجنسیاں، تعلیمی ادارے اور سب سے بڑھ کر خود شہری… یعنی سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت اس ضمن میں قانون سازی کرسکتی ہے، سبسڈی دے سکتی ہے اور آگاہی مہم چلاسکتی ہے۔ سول انجینئرنگ، انجنیئرز اور ماہرین سادہ و سستے ڈیزائن فراہم کرسکتے ہیں۔ اور عام لوگ اپنے گھروں کی چھتوں کو محض کنکریٹ کا ٹکڑا سمجھنے کے بہ جائے ایک ’’پانی جمع کرنے والی سطح‘‘ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
اصل تبدیلی فکر کی ہے۔ جب ہم بارش کو مسئلہ نہیں، بل کہ نعمت سمجھنا شروع کریں گے، تبھی اس کا حل بھی نظر آئے گا۔ مینگورہ کے پہاڑ، اس کی گلیاں، اس کے گھر سب اس تبدیلی کے منتظر ہیں۔ پانی اب بھی آسمان سے اترتا ہے… سوال صرف یہ ہے کہ ہم اسے سنبھالتے ہیں یا پھر روٹین کی طرح بہنے اور ضائع ہونے دیتے ہیں؟
سول سوسائٹی، صحافیوں، ماہرین ، بلدیاتی نمایندوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، وکلا، علما اور اساتذہ اس پر بات کریں۔ عوام کو بتائیں کہ زمین سے نکلنے والا سب سے قیمتی چیز پانی ہے۔ گیس، تیل اور معدنیات پانی کے بعد آتے ہیں، زندگی پانی کی وجہ سے ہے، زندگی کو بچانا ہے، تو پانی کے بہت بڑے ذخیرے ہونے چاہییں۔ (ختم شد!)
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’شہری سیلاب‘‘ یا ’’اربن فلڈنگ‘‘ (Urban Flooding):۔ اربن فلڈنگ اس وقت ہوتی ہے، جب بارش کا پانی قدرتی راستوں (ندی، نالے، دریا) کے بہ جائے سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں بھر جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر اُس وقت ہوتا ہے، جب زمین پانی جذب نہیں کر پاتی، درخت کم ہو جاتے ہیں اور بارش کا پانی پکے راستوں سے بہہ کر تیزی سے نشیبی علاقوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر شہر کے اندر ہی سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل قدرتی نظام کے بکھرنے اور پانی کے غیر مؤثر انتظام کی علامت ہے۔
2) ’’رین واٹر ہارویسٹنگ‘‘ (Rain Water Harvesting):۔ یہ اصطلاح دراصل بارش کے پانی کو جمع کرکے دوبارہ استعمال میں لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔یعنی چھتوں، زمین یا راستوں سے بہنے والا پانی ضائع نہ ہو، بل کہ ٹینک یا گڑھوں میں محفوظ کرکے گھریلو، زرعی یا زیرِ زمین پانی کی سطح کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔
3) ’’گٹر‘‘ (Gutter):۔ سادہ الفاظ میں گٹر، چھت کا بارش کا پانی سنبھالنے اور آگے لے جانے کا نظام ہے۔ یعنی وہ نالی یا پائپ، جو چھت کے کنارے لگایا جاتا ہے، تاکہ بارش کا پانی جمع ہو کر بہہ سکے۔ یہ پانی پھر پائپ کے ذریعے کسی ذخیرہ ٹینک یا زمین میں بنائے گئے گڑھے (Recharge Pit) میں ڈالا جاسکتا ہے۔
4) ’’ریچارج پٹ‘‘ (Recharge Pit):۔ یہ اصطلاح ایک سادہ مگر مؤثر طریقے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس میں زمین میں گڑھا یا کنواں سا کھودا جاتا ہے، تاکہ بارش کا پانی بہ راہِ راست اس میں ڈالا جائے۔ یہ پانی آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح کو سہارا دیتا ہے اور پانی کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے میں مدد کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، ’’ری چارج پٹ‘‘ بارش کے پانی کو زمین کے اندر واپس پہنچانے کا قدرتی راستہ ہے۔
5) ’’چیک ڈیم‘‘ (Check Dam):۔ یہ اصطلاح اُن چھوٹے بند یا رکاوٹوں کے لیے مستعمل ہے، جو پہاڑی یا دیہی علاقوں میں بارش کے پانی کے بہاو کو روکنے یا سست کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد پانی کو زمین میں جذب ہونے کا وقت دینا، زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر کرنا، اور مٹی کے کٹاو کو کم کرنا ہوتا ہے۔
تحریر میں شامل سبھی نمایاں مشکل اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










