بیسویں صدی کے آخری برسوں میں دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا، جس نے عالمی سیاست، معیشت اور نظریاتی کش مہ کش کی پوری تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ 1991 عیسوی میں سوویت یونین کا انہدام محض ایک ریاست کا خاتمہ نہ تھا، بل کہ اس نظام کے بکھرنے کا اعلان بھی تھا، جس نے تقریباً سات دہائیوں تک عالمی سیاست کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ اس ڈرامائی تبدیلی کے مرکز میں ایک شخصیت ایستادہ تھی… میخائیل گورباچوف (Mikhail Gorbachev)۔ وہ شخص جو سوویت یونین کو ختم کرنے نہیں، بل کہ اسے بچانے کے عزم کے ساتھ اقتدار میں آیا، مگر تاریخ نے اُسے اسی ریاست کا آخری راہ نما بنا دیا۔
1985 عیسوی میں جب گورباچوف، سوویت کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنے، تو ملک طویل معاشی جمود، سیاسی سختی اور سماجی بے چینی کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا۔ ان سے پہلے کے راہ نماؤں، خصوصاً ’’لیونڈ بریژنیف‘‘ (Leonid Brezhnev) کے دور میں، سوویت ریاست بہ ظاہر مستحکم دکھائی دیتی تھی، مگر اندرونی طور پر زوال کے آثار نمایاں ہوچکے تھے۔ معیشت مرکزی منصوبہ بندی کے سخت ڈھانچے میں جکڑی ہوئی تھی، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کم ہو رہی تھی اور عوام کی زندگی میں ضروری اشیا کی قلت بڑھتی جا رہی تھی۔ مغربی دنیا کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور پیداوار کے میدان میں پیچھے رہ جانا بھی سوویت قیادت کے لیے مستقل تشویش کا باعث بن چکا تھا۔ مزید برآں، اندرونی مسائل کے ساتھ سرمایہ دارانہ دنیا کی جانب سے مسلسل دباو، کشیدگی اور نظریاتی خوف کی فضا بھی موجود تھی۔
گورباچوف نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ محسوس کیا کہ اگر نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں، تو سوویت یونین نہ صرف عالمی سیاست میں اپنا مقام کھو دے گا، بل کہ اندرونی بحران بھی شدت اختیار کر جائیں گے۔ اسی سوچ کے تحت اُنھوں نے اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس کا مقصد ریاستی نظام کو ٹوٹنے سے بچانا تھا۔ ان اصلاحات کا سب سے نمایاں تصور ’’پیریستروئیکا‘‘ تھا، جس کا مفہوم تھا تعمیرِ نو یا ڈھانچے کی تبدیلی۔
گورباچوف چاہتے تھے کہ سوویت معیشت کو زیادہ لچک دار اور مؤثر بنایا جائے۔ اس پالیسی کے تحت کارخانوں کو محدود خودمختاری دی گئی، نجی کاروبار کی جزوی اجازت دی گئی اور زرعی شعبے میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، تاکہ سوشلسٹ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں کارکردگی اور پیداوار کو بہتر بنانے والے عناصر شامل کیے جاسکیں اور بیرونی دباو کا مقابلہ کیا جاسکے۔
معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ گورباچوف نے ایک اور اہم پالیسی ’’گلاسنوست‘‘ (Glasnost) متعارف کرائی، جس کا مطلب تھا کھلاپن۔ اس کے ذریعے اظہارِ رائے کو نسبتاً آزادی دی گئی۔ اخبارات اور ادبی حلقوں کو ماضی کی غلطیوں پر بحث کی اجازت ملی۔ سنسر شپ نرم ہوئی اور عوام کو ریاستی پالیسیوں پر تنقید کا موقع فراہم ہوا۔ سوویت تاریخ کے کئی ایسے پہلو، جو پہلے دبائے جاتے تھے، اب کھل کر سامنے آنے لگے۔ خاص طور پر جوزف اسٹالن (Joseph Stalin) کے دور کی سختیوں اور سیاسی جبر پر ہونے والی بحث نے معاشرے میں ایک نئی فکری بیداری پیدا کر دی۔
گورباچوف کا خیال تھا کہ ایک کھلا اور متحرک معاشرہ ریاستی نظام کو مزید مضبوط کرے گا، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی۔ گلاسنوست نے جہاں فکری آزادی کو فروغ دیا، وہیں برسوں سے دبے تضادات کو بھی نمایاں کر دیا۔ مختلف قومیتوں میں خودمختاری اور آزادی کے مطالبات زور پکڑنے لگے۔ بالٹک ریاستوں، قفقاز اور دیگر علاقوں میں قوم پرست تحریکیں شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیں۔
گورباچوف کی خارجہ پالیسی بھی سوویت تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ انھوں نے مغرب کے ساتھ تصادم کے بہ جائے تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن (Ronald Reagan) کے ساتھ مذاکرات نے سرد جنگ کی کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے طے پائے اور دہائیوں سے جاری خوف کی فضا میں نرمی آئی۔ مشرقی یورپ میں سوویت فوجی مداخلت کے خاتمے نے وہاں کمیونسٹ حکومتوں کے زوال کی راہ ہم وار کی۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں گورباچوف کو 1990 عیسوی میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔
لیکن اندرونی سطح پر حالات مسلسل پیچیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ معاشی اصلاحات فوری نتائج دینے میں ناکام رہیں اور معیشت مزید دباو کا شکار ہوگئی۔ ریاستی منصوبہ بندی کم زور پڑگئی، جب کہ مکمل مارکیٹ نظام ابھی تشکیل نہیں پاسکا تھا، جس کے باعث معیشت میں غیر یقینی بڑھ گئی۔ اشیائے ضروریہ کی قلت اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہونے لگا۔
1991 عیسوی میں گورباچوف نے سوویت یونین کو بچانے کی ایک آخری کوشش کے طور پر ’’نیو یونین ٹریٹی‘‘ (The New Union Treaty) پیش کیا، جس کے تحت ریاست کو ایک ڈھیلی فیڈریشن میں تبدیل کیا جانا تھا، تاکہ مختلف جمہوریاؤں کو خودمختاری مل سکے، مگر اتحاد برقرار رہے۔ تاہم، اسی دوران میں قدامت پسند عناصر نے اصلاحات کے خلاف بغاوت کی کوشش کی۔ اگست 1991 عیسوی کی یہ بغاوت ناکام تو ہوگئی، مگر اس نے ریاستی ڈھانچے کو مزید کم زور کر دیا۔ اس بحران کے دوران میں ’’بورس یلسن‘‘ (Boris Yeltsin) ایک طاقت ور سیاسی راہ نما کے طور پر سامنے آئے اور روسی خودمختاری کو تقویت دینے لگے۔
چند ہی مہینوں میں حالات نے تیزی سے کروٹ لی۔ مختلف جمہوریاؤں نے آزادی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ دسمبر 1991 عیسوی میں ’’بیلوویژا معاہدے‘‘ (Belovezha Accord) کے ذریعے سوویت یونین کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا گیا اور آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ قائم ہوئی۔ گورباچوف نے استعفا دے دیا اور یوں ایک عظیم سپر پاور تاریخ کے اوراق میں دفن ہوگئی۔
سوویت یونین کے خاتمے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے گئے۔ سرد جنگ کا اختتام ہوا اور امریکہ واحد سپر پاؤر کے طور پر ابھرا۔ سابق سوویت ریاستوں میں سیاسی و معاشی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا اور یہ ریاستیں نئے نظام کی تلاش میں سرگرداں ہوگئیں۔
گورباچوف آج بھی ایک متنازع مگر اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک وہ ایک اصلاح پسند راہ نما تھے، جنھوں نے جمود کو توڑنے کی کوشش کی، جب کہ دوسروں کے نزدیک ان کی اصلاحات نے ریاستی زوال کو تیز کر دیا۔ خود گورباچوف نے اپنی تحریروں میں واضح کیا کہ ان کا مقصد ریاست کو بچانا تھا، نہ کہ اسے ختم کرنا۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ گورباچوف اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہیں کہ اصلاحات بعض اوقات ایسے نتائج پیدا کر دیتی ہیں، جو توقعات کے برعکس ہوتے ہیں۔ سوویت یونین کو بچانے کی کوششیں بالآخر اسی کے خاتمے پر منتج ہوئیں، مگر ساتھ ہی انھوں نے دنیا کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا دور بیسویں صدی کے اہم ترین سیاسی تجربات میں شمار ہوتا ہے۔
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا مسلسل جنگوں اور علاقائی تنازعات کا شکار رہی ہے۔ امریکہ واحد سپر پاؤر کے طور پر ابھرا اور سرمایہ دارانہ نظام کے نقائص نے عالمی سطح پر نئے بحرانوں کو جنم دیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










