مینگورہ شہر کی شاید ہی ایسی کوئی دیوار بچی ہو، جس پر چچا عبد القیوم دامت برکاتہم العالیہ کے اچار کا ’’فرمان کسکرانہ ٹائپ شعر‘‘ والا اشتہار موجود نہ ہو۔ سرِ دست مذکورہ اشتہار ملاحظہ ہو:
ہر کھانے میں اچار
عبدالقیوم کے اچار
مجھ جیسا متشاعر، جس کی خدمات چوبیس گھنٹے بلا معاوضہ و بلا تقاضا ایک برقی پیغام کی دوری پر دست یاب ہوتی ہیں، چچا (دامت برکاتہم العالیہ) نے اپنے اس ہمہ وقت دست یاب و ’’گنجِ ارزاں مایہ‘‘ بھتیجے کو صفر سے ضرب دے کر محولہ بالا بے وزن، بے قافیہ و بے ردیف ٹائپ شعر کا سہارا لے کر اپنے اچار کے اشتہار کے لیے پورے شہر کا اچار ڈال دیا۔
آمدم بر سرِ مطلب، آج کی نشست ایک پیارے سے نوجوان کے لیے مختص ہے، جس کا نام بھی بہت پیارا ہے… ایمان کریم!
یہ سطور پڑھنے والے سوچتے ہوں گے کہ اس نوجوان میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں، جس کے لیے آج کی پوری نشست مختص ہے اور جو نہ صرف چچا کے اچار کا، بل کہ میرے ایک فلسفے کا بھی اچار ڈال چکا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ اپنے 25، 26 سالہ تدریسی تجربے سے مَیں اس نکتے پر پہنچا تھا کہ کلاس ٹاپ کرنے والے طلبہ ’’سیلف سینٹرڈ‘‘ (Self Centered) قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اُن کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوچکی ہوتی ہے کہ ہم تو پیدایشی ذہین ہیں۔ ہماری کام یابی خالصتاً ہماری اپنی محنت ہے، و علی ہذاالقیاس۔ اس لیے ’’ٹاپر حضرات‘‘ سکول کے ساتھ ساتھ اپنے اُن درویش صفت اساتذہ کو بھی بھول جاتے ہیں، جنھوں نے ننھے پودوں کی آب یاری کرکے اُنھیں شجرِ سایہ دار بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہوتی۔ مذکورہ ’’’ٹاپر حضرات‘‘ کے مقابلے میں ’’ایورج‘‘ اور ’’بیلو ایورج‘‘ طلبہ (Average & Below Average Students) مست مولا ہوتے ہیں۔ اُن سے کہیں بھی سامنا ہو، تو راستے میں بچھے چلے جاتے ہیں۔ چائے پانی کا پوچھتے نہیں، بل کہ باقاعدہ پلانے کی خاطر دھینگا مشتی پر اُتر آتے ہیں۔ اور اپنے ربع صدی کے تدریسی تجربے کی روشنی میں، مَیں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ معاشرہ ’’ٹاپر حضرات‘‘ نہیں، بل کہ ایورج اور بلو ایورج طلبہ ہی چلاتے ہیں۔
اب آتے ہیں ایمان کریم کی طرف، جو میرے اس بیان کردہ فلسفے کے آدھے حصے کا اچار ڈال چکا ہے۔ ان گزرے ہوئے پچیس، چھبیس سالوں میں کسی بھی ’’ٹاپر حضرت‘‘ کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ایک عدد برقی پیغام ہی ہمارے منھ پر دے مارے اور پوچھے کہ ’’میاں! سدھار گئے ہو یا ابھی تک آکسیجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کرنے کی خاطر روٹیاں توڑ رہے ہو؟‘‘ بس، ایک ایمان کریم ہے، جو ہر بار میڈیکل کالج سے چھٹی پر آتا ہے، تو فون کڑکا کر جان دار آواز میں سلام کرتا ہے اور دوسرے ہی لمحے پوچھتا ہے: ’’سر، قدم بوسی کا شرف حاصل ہوسکتا ہے؟‘‘ اور ہم اپنے فلسفے کے آدھے حصہ کا اچار ڈلتا ہوا دیکھ کر ڈنٹونک کے اشتہار کا عمر رسیدہ ماڈل بن کر سامنے والے آدھے قدرتی اور آدھے مصنوعی ہلتے ہوئے دانت دکھا کر اور ’’ہاں…!‘‘ کَہ کر رابطہ منقطع کردیتے ہیں۔
اب اُس کہانی کی طرف آتے ہیں، جس کی وجہ سے میرا اور ایمان کا بانڈ بنا۔
ایمان کریم دراصل پروفیسر فضل کریم (چیئرمین شعبۂ انگریزی جہانزیب کالج، سیدو شریف، سوات) کا جگر گوشہ اور ہمارے سٹار اشراق کریم کا بڑا بھائی ہے۔ ایمان جب نویں جماعت کا طالب علم تھا، تو روزانہ مارننگ اسمبلی والے میدان میں اس سے ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔ دیگر لڑکوں کی نسبت ایمان ہنس مکھ تھا، جو اس کی شخصیت کا مضبوط پہلو تھا، مگر اس کے ساتھ وہ حد درجہ شرمیلا تھا۔ بہ الفاظِ دیگر وہ میری طرح ’’انٹرورٹ‘‘ تھا… کہ مَیں بھی سکول لائف میں ایسا ہی تھا۔
بھری اسمبلی میں جب اسے آدھے نام (ایمان) سے مخاطب کرتا، تو اس کے گال ٹماٹر کی طرح لال ہوجاتے۔ والدِ بزرگوار پروفیسر فضل کریم نے اپنے جگر گوشے کی بہتر تربیت کی تھی، اس لیے ایمان آج کا کام کل پر ٹالنے کو بے ایمانی سمجھتا تھا۔ کلاس یا سکول کی حد تک پوزیشن ہولڈر تو تھا ہی، مگر جب میٹرک میں سوات بورڈ ٹاپ کیا، تو سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ شاید میرے اور ایمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ معرکہ سر کیسے ہوا؟ بہ قول محمد شعیب مرزا
پست ہمت سے کہاں معرکہ سر ہوتا ہے
سر کو ٹکراؤ، تو دیوار میں در ہوتا ہے
کہانی کا یہ حصہ بڑا دل چسپ ہے، اگر بور نہیں ہوچکے ہوں، تو جڑے رہیں…!
کہانی رقم کرنے سے پہلے یہ جتانا ضروری ہے کہ اُستاد وہ کوزہ گر ہے، جو عام سی مٹی کو ہر بار چاک پر رکھنے کے بعد ایک نئی شکل دیتا ہے۔ اور یہ مَیں نہیں کہتا، یہ تو ہر بار جب ایمان چھٹی پر آتا ہے، گرم جوشی سے ملتا ہے اور چھوٹتے ہی کہتا ہے: ’’سر! مجھ میں یہ روح آپ ہی کی پھونکی ہوئی ہے!‘‘
معذرت خواہ ہوں، تحریر پر خودنمائی کا رنگ غالب ہونے لگا ہے، اس لیے باقی باتیں چھوڑ کر اُس نکتے پر آتے ہیں کہ اُستاد کیسے کوزہ گر ہے؟
اگر کسی روز مَیں ایمان کو بلند آواز سے مخاطب نہ کرتا، تو وہ مارننگ اسمبلی ختم ہونے کے بعد آتا اور گرم جوشی سے ملتا۔ چھوٹتے ہی انٹرورٹ ایمان سے پوچھتا: ’’ایمان، نتیجے (سوات تعلیمی بورڈ) کا کیا ہوگا؟‘‘ ایمان ایم کیو ایم والے الطاف حسین کی طرح مکا ہوا میں لہرا کر کہتا: ’’سر، اس بار ہم ہی ٹاپ کریں گے۔‘‘
اس طرح ایمان کبھی پانی پینے یا رفع حاجت کی خاطر کلاس سے باہر آتا اور ہم فاصلے سے ایک دوسرے کو دیکھتے، تو مَیں اونچی آواز سے پوچھتا: ’’ایمان…!‘‘ اور ایمان ’’الطافانہ انداز‘‘ میں مکا لہرا کر جواب دیتا: ’’سر! ٹاپ کرکے ہی دم لیں گے!‘‘
ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ آپ کے الفاظ، سننے والے کی زندگی بدل سکتے ہیں، یعنی اُس کی زندگی جنت بھی بن سکتی ہے اور جہنم بھی۔ الفاظ کا انتخاب درست ہو، تو قبلہ درست… بہ صورتِ دیگر
ورنہ یہ زندگی کا سفر رائیگاں تو ہے
اسی دوران میں سکول، جہاں مَیں پڑھاتا ہوں، کو سوات تعلیمی بورڈ کی طرف سے کال موصول ہوئی کہ آپ کے کچھ طلبہ ٹاپ پوزیشن لے چکے ہیں، نتائج کے اعلان کے لیے طلبہ اور اُن کے والدین کو بھی اطلاع دی جاچکی ہے۔ دوسری طرف کال پروفیسر فضل کریم کو بھی موصول ہوئی۔ ہم سکول کی طرف سے گئے اور ایمان اپنے والدین کے ساتھ ہولیا۔ نتائج کا اعلان ہوا، اور وہی ہوا جو ایمان پورا سال ’’الطافانہ انداز‘‘ میں کہا کرتا تھا…. جی ہاں، وہ ٹاپ کرگیا تھا۔
اُس روز میرا اس بات پر یقین اور بھی مستحکم ہوگیا کہ اُستاد کے منھ سے نکلنے والے الفاظ بے اثر نہیں ہوتے۔ بس اُستاد مخلص ہونا چاہیے۔
ابھی کل 27 مارچ 2026 عیسوی کو نمازِ عصر سے تھوڑی دیر پہلے ایک اہم میٹنگ کے دوران میں میرے فون کی گھنٹی بجی۔ کاٹنے کی غرض سے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سکرین پر "Iman Karim” نام سے گھنٹی بجی دکھائی دی۔ میٹنگ سے اٹھا اور کال ریسیو کی۔ دوسری طرف سے اُسی انٹرورٹ ایمان کریم کی آواز آئی، جس کا نام جب بھی مَیں اسمبلی کے بھرے میدان میں لیتا، تو اُس کے گال ٹماٹر کی طرح لال ہوجاتے۔ سلام دعا کے بعد ایمان کہنے لگا: ’’سر! نتائج کا اعلان ابھی ابھی ہوا۔ میرے ساتھ بابا (پروفیسر فضل کریم) موجود ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو انفارم کیا جائے۔ اب آپ کا شاگردِ رشید باضابطہ طور پر ڈاکٹر کہلوانے کے قابل ہے۔‘‘
مگر ذرا دم لو یار…!
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اب ہاؤس جاب کا مرحلہ آئے گا اور پھر سپیشلائزیشن…. اُس کے بعد جب تو شجرِ سایہ دار کی شکل اختیار کرے گا، تو ہم تیری کسی گھنی شاخ کے نیچے بیٹھ کر سکون کا سانس لیں گے۔ اس طرح اگر قسمت نے یاوری کی، تو پھل بھی کھانے کو ملے گا۔ بھلے ہی ثمر ہمیں کھانے کو نہ ملے، اطمینان تو مل ہی چکا ہے کہ کل کا وہ انٹرورٹ ایمان آج ایکسٹورٹ بن کر اپنا رنگ جمانے لائق ہے۔
آخر میں ایک شعر کے ساتھ اجازت کا خواست گار ہوں۔ شعر ہر اُس فرد کے نام، جسے معاشرے میں اُستاد کی حیثیت حاصل ہے:
ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
خدا حافظ و ناصر…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










