بعل: عقیدہ اور تاریخی حقیقت (مختصر جائزہ)

Blogger Fazal Manan Bazda

’’بعل‘‘ کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ یہ لفظ شوہر کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا، جب کہ بعض اوقات بلند درخت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
قرآنِ کریم میں یہ لفظ مختلف مقامات پر آیا ہے۔ جیسے سورت البقرہ (آیت 228) میں ’’بعول‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس سے مراد وہ شوہر ہیں، جو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرنا چاہیں، تو وہ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اُنھیں اپنے گھروں میں واپس لے آئیں۔
سورت النساء (آیت 128) میں ’’بعل‘‘ اس مفہوم میں آیا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے رُخی یا زیادتی کا اندیشہ ہو، تو دونوں باہمی صلح کرلیں، تو بہتر ہے۔
اسی طرح سورت ہود (آیات 71-72) میں حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ حضرت سارہؑ نے ’’بعل‘‘ کا لفظ استعمال کیا، جب فرشتوں نے حضرت اسحاقؑ کی بشارت دی، تو اُنھوں نے کہا: ’’مَیں بوڑھی ہوں اور میرا بعل بھی بوڑھا ہے۔‘‘
سورت النور (آیت 31) میں ’’بعول‘‘ کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے، جہاں خواتین کو اپنی زینت ظاہر کرنے کے احکام بیان کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی زینت صرف اپنے شوہروں اور قریبی محرم رشتہ داروں کے سامنے ظاہر کریں۔
قرآنِ کریم میں ’’بعل‘‘ اور ’’بعول‘‘ کا استعمال مجموعی طور پر ازدواجی تعلقات اور معاشرتی اصلاح کے تناظر میں ہوا ہے۔ تاہم ایک مقام پر ’’بعل‘‘ بہ طور بت بھی ذکر ہوا ہے، جیسا کہ سورت الصافات میں ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟‘‘
بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت طالوتؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے توحید کو مضبوط کیا اور ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھی… لیکن حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد اُن کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ جنوبی حصہ (یہوداہ) آلِ داؤد کے پاس رہا، جب کہ شمالی حصہ ’’اسرائیل‘‘ کے نام سے الگ ریاست بن گیا۔
شمالی ریاست اسرائیل میں بادشاہ اخی اب (Ahab) کی شادی لبنان کے بت پرست بادشاہ کی بیٹی ایزابل (Jezebel) سے ہوئی، جس کے بعد ملک میں شرک، فسق و فجور اور بت پرستی عام ہوگئی۔
قدیم سامی اقوام، خصوصاً فینقی (Phoenicians)، ’’بعل‘‘ کو خدا یا معبود کے معنوں میں استعمال کرتی تھیں اور اُنھوں نے ایک مخصوص دیوتا کو ’’بعل‘‘ کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ اس کو بارش، طوفان اور زرخیزی کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق اس کی عبادت میں غیر اخلاقی رسومات اور حتیٰ کہ انسانی قربانیوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
’’بعل‘‘ کے پجاری اپنے دیوتا سے بلند آوازوں، چیخ و پکار اور خود کو زخمی کرنے جیسی شدت پسندانہ رسومات کے ذریعے دعائیں کرتے تھے، جیسا کہ بائبل (سلاطین 18:28) میں ذکر ملتا ہے۔ بعض حوالوں کے مطابق لوگ اپنے پہلوٹھے بچوں کو بھی اس کی نذر کرتے تھے۔
حضرت یوشع بن نونؑ کے بعد بنی اسرائیل میں آہستہ آہستہ اخلاقی اور دینی زوال شروع ہوگیا۔ بائبل کے مطابق: ’’بنی اسرائیل نے خدا کے حضور بدی کی اور بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے۔‘‘
حضرت الیاسؑ (Elijah) نے بنی اسرائیل کو توحید کی دعوت دی اور اُنھیں سمجھایا کہ وہ ایک بے جان بت کو پکارتے ہیں، جو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان… جب کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رب اور خالق ہے۔
قوم اس قدر گم راہی میں مبتلا ہوچکی تھی کہ اُنھوں نے حضرت الیاسؑ کی بات نہ مانی۔ روایات کے مطابق کئی سال تک بارش نہ ہوئی اور شدید قحط پڑگیا۔ اس کے بعد ایک مشہور واقعہ پیش آیا جس میں حضرت الیاسؑ اور بعل کے پجاریوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ فریقین نے قربانیاں پیش کیں اور طے ہوا کہ جس کی قربانی آسمانی آگ سے قبول ہوگی، وہی سچا ہوگا۔ بعل کے پجاریوں نے بہت شور و غوغا کیا، مگر اُن کی قربانی قبول نہ ہوئی، جب کہ حضرت الیاسؑ کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔
بادشاہ نے حضرت الیاس علیہ السلام سے معافی مانگی اور پجاریوں کو قتل کر دیا۔حضرت الیاس علیہ السلام نے خشوع وخضوع سے اللہ کے حضور بارش کی دعا مانگی۔ دعا قبول ہوئی اور ایسی بارش برسی کہ جل تھل ایک ہوگیا اور خوش حالی لوٹ آئی۔
بادشاہ ’’اخی اب‘‘ کی بیوی ’’ایزابل‘‘ کو جب معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بعل کے پجاریوں کو قتل کر دیا ہے، تو وہ حضرت الیاس علیہ السلام کی جان کی دشمن بن گئی اور تہیہ کرلیا کہ کہ پجاریوں کے قتل کا بدلہ لے گی۔ بت پرستی پر آمادہ قوم نے ملکہ ایزابل کا ساتھ دیا اور ایسے حالات پیدا کیے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا ملک میں رہنا مشکل ہوگیا۔ اس لیے حضرت الیاس ملک چھوڑ کر کوہِ سینا کے دامن میں پناہ گزین ہوئے۔
تورات کے مطابق جب بنی اسرائیل قوم راہ راست پر نہ آئی، تو حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے قوم پر عذاب نازل کرنے کی بددعا کی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ) ’’پس جنہوں نے الیاس کوجھٹلایا، اور وہ بلاشبہ لائے جائیں گے پکڑے ہوئے بجز ان کے جو چن لیے گئے ہیں… اور ہم نے بعد کے لوگوں میں الیاس کا ذکر باقی رکھا، الیاس پر سلام ہو۔ بلاشبہ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں۔ (سورۃ الصافات: 132-127)
آج کا امریکہ اور اسرائیل اُسی ’’بعل‘‘ بت کے پجاری ہیں، جنھوں نے دنیا کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس لیے اہلِ ایران اپنے احتجاجی جلوس میں بعل بت کے مجسمے نذرِ آتش کرتے ہیں، جس سے ذکر شدہ دونوں دشمنوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے