فلاحی ریاستوں میں یہ تصور ایک مسلمہ حقیقت سمجھا جاتا ہے کہ صحت، تعلیم اور انصاف ہر شہری کو بلامعاوضہ یا کم از کم ضرورت کے وقت بغیر بہ راہِ راست ادائی کے میسر ہوں۔ اِسکنڈے نیویا سے لے کر مغربی یورپ تک، شہری نسبتاً زیادہ ٹیکس اس یقین کے ساتھ ادا کرتے ہیں کہ ریاست اُنھیں مضبوط عوامی نظاموں کی صورت میں تحفظ اور سہولت فراہم کرے گی، جہاں کسی کو بھی غربت کی وجہ سے علاج، تعلیم یا قانونی تحفظ سے محروم نہیں رکھا جاتا۔
اس کے برعکس پاکستان میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ یہاں عام شہری اپنی آمدن کا بڑا حصہ اُن حقوق کے حصول پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، جنھیں دنیا بھر میں ’’بنیادی انسانی حقوق‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ ’’پاکستان میں بنیادی حقوق اتنے مہنگے کیوں ہیں؟‘‘
اس مسئلے کی جڑیں پاکستان کی سیاسی اور ادارہ جاتی تاریخ میں پیوست ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ریاست کا تصور ایک ایسے نظام کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جو سماجی انصاف فراہم کرے اور کم زور طبقات کا تحفظ کرے، جس کی بنیاد اسلامی اصولوں اور جدید فلاحی تصورات پر رکھی گئی تھی۔ تاہم، بہت سی فلاحی ریاستوں کے برعکس، پاکستان اس وژن کو مکمل طور پر قابلِ نفاذ آئینی ضمانتوں میں تبدیل نہ کرسکا۔ اگرچہ آئین میں سماجی بہبود، تعلیم اور عوامی فلاح کا ذکر موجود ہے، لیکن ان میں سے بیش تر شقیں ’’اصولِ حکمتِ عملی‘‘ کے طور پر شامل کی گئی ہیں، نہ کہ بنیادی حقوق کے طور پر۔ اس فرق کی عملی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جن ممالک میں صحت اور تعلیم قانونی طور پر بنیادی حقوق ہیں، وہاں ریاست کو ان کی فراہمی میں ناکامی پر عدالتوں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ پاکستان میں یہ ذمے داریاں زیادہ تر اخلاقی یا سیاسی نوعیت کی ہیں، قانونی نہیں۔
مالی حقائق بھی نیت اور عمل کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتے ہیں۔ پاکستان مسلسل قومی آمدن کا نہایت کم حصہ سماجی شعبوں پر خرچ کرتا ہے۔ صحت پر سرکاری اخراجات کئی برسوں سے مجموعی قومی پیداوار کے ایک فی صد سے بھی کم ہیں، جو نہ صرف عالمی اوسط، بل کہ ہم پلہ ترقی پذیر ممالک سے بھی کم ہے۔ اس کا نتیجہ سرکاری ہسپتالوں میں رش، ادویہ کی قلت اور کم تنخواہیں پانے والے طبی عملے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب سرکاری نظام ناکام ہوتا ہے، تو شہری نجی علاج کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جہاں معمولی علاج بھی مالی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ایسے متعدد واقعات دستاویزی شکل میں پیش کیے ہیں، جہاں خاندان دائمی بیماریوں کے علاج کے لیے طویل مدتی قرضوں میں ڈوب گئے۔
تعلیم کا شعبہ بھی اسی نوعیت کے مسائل کا شکار ہے۔ بار بار کے وعدوں کے باوجود پاکستان میں تعلیمی اخراجات عالمی سفارشات سے کہیں کم ہیں۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، اور جو بچے سرکاری اسکولوں میں داخل ہیں، اُنھیں ناقص عمارتوں، بھری ہوئی کلاسوں اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ پرائمری تعلیم بہ ظاہر مفت ہے، لیکن یونیفارم، کتابوں اور آمد و رفت کے اخراجات غریب خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ یہی ’’پوشیدہ اخراجات‘‘ بہت سے بچوں کو تعلیم سے محروم کردیتے ہیں اور غربت کے چکر کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔
ان کم زور نظاموں کے پیچھے ایک گہرا ساختی مسئلہ موجود ہے… یعنی پاکستان کا محدود مالیاتی دائرہ۔ ملک کا ٹیکس تا مجموعی قومی پیداوار تناسب خطے میں سب سے کم ہے۔ غیر رسمی معیشت، ٹیکس وصولی کا کم زور نظام اور بااثر طبقات کو دی گئی چھوٹ ریاست کی آمدن کو شدید حد تک محدود کرچکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومتی وسائل کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائی اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جس کے باعث صحت، تعلیم اور انصاف کے لیے بہت کم گنجایش بچتی ہے۔
گورننس یا حکم رانی کے مسائل اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ جہاں وسائل مختص بھی کیے جاتے ہیں، وہاں بدانتظامی، نااہلی اور غیر مساوی تقسیم ان کے اثرات کو کم کر دیتی ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جہاں سرکاری ہسپتال یا عدالت تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں کا سفر درکار ہوتا ہے۔ انصاف کے نظام میں تاخیر، وکلا کی فیسیں اور غیر رسمی ادائیاں عام شہری کے لیے انصاف کو نہ صرف مہنگا، بل کہ اکثر ناقابلِ رسائی بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ یا تو نجی سمجھوتوں پر اکتفا کرتے ہیں، یا قانونی راستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ریاست نے سماجی تحفظ کے کچھ پروگراموں کے ذریعے ان مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ اور ’’صحت سہولت پروگرام‘‘ جیسے اقدامات نے لاکھوں خاندانوں کو سہارا دیا ہے۔ یہ پروگرام اہم ہیں، جن سے کئی زندگیاں بچ گئی ہیں، مگر یہ جزوی حل ہیں۔ نقد امداد اور انشورنس کم زور سرکاری اداروں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں، اور نہ وہ مضبوط اور معیاری عوامی خدمات کے طویل المدتی فوائد فراہم ہی کرسکتی ہیں۔
فلاحی ریاستوں کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے سبق آموز ہے۔ وہ ممالک جہاں صحت اور تعلیم بہ ظاہر ’’مفت‘‘ ہیں، یہ سہولت کسی اتفاق سے نہیں، بل کہ شعوری سیاسی فیصلوں کے نتیجے میں فراہم کی جاتی ہے۔ وہاں سماجی اخراجات کو بوجھ کے بہ جائے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اور ٹیکس وصولی اور خدمات کی فراہمی کے لیے مضبوط ادارے قائم کیے جاتے ہیں۔ شہری بھی اس اعتماد کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں کہ اُنھیں بدلے میں تحفظ اور مواقع میسر آئیں گے۔
پاکستان میں بنیادی حقوق کی بھاری قیمت کم کرنے کے لیے محض جزوی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے ترجیحات میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ صحت اور تعلیم کو قابلِ نفاذ بنیادی حقوق کے طور پر آئین میں شامل کرنے کا عمل ریاستی جواب دہی کو مضبوط بناسکتا ہے۔ سماجی شعبوں کے لیے اخراجات میں بہ تدریج اضافہ، ٹیکس نظام کی توسیع اور بہتر طرزِ حکم رانی عوامی اداروں پر اعتماد بہ حال کرسکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر، پالیسی سازوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شہریوں کو بنیادی حقوق کے لیے جیب سے ادائی پر مجبور کرنا نہ صرف ناانصافی ہے، بل کہ معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہے، کیوں کہ یہ عدم مساوات کو بڑھاتا اور طویل المدتی ترقی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان میں بنیادی حقوق کی بھاری قیمت کوئی ناگزیر حقیقت نہیں۔ یہ پالیسی انتخاب، ادارہ جاتی کم زوریوں اور ضائع شدہ مواقع کا نتیجہ ہے۔ اس رجحان کو پلٹنا مشکل ضرور ہے، مگر اس کے بغیر ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کا خواب لاکھوں شہریوں کے لیے محض خواب ہی رہے گا۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیے بغیر اُنھیں غربت کی طرف دھکیل دے، بالآخر کسی بھی فلاحی بجٹ سے کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










