سوات: گندھارا ورثہ اور معاشی امکانات

Blogger Noor Muhammad Kanju

​سوات کی وادی، جسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، محض بلند و بالا برف پوش چوٹیوں، گنگناتی جھیلوں اور سرسبز چراگاہوں کا نام نہیں، بل کہ یہ خطہ انسانی تاریخ کی اَن گنت تہوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ حال ہی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے پیروکاروں کی سوات آمد نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ یہ وادی نہ صرف قدرتی حسن کا شاہ کار ہے، بل کہ مذہبی ہم آہنگی اور قدیم تہذیبی ورثے کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے، جس کی تاب ناکی صدیوں بعد بھی مدھم نہیں ہوئی۔ سوات کی مٹی میں گندھارا تہذیب کی مہک رچی بسی ہے اور یہاں کے پتھر آج بھی بدھ مت کے اُس سنہری دور کی گواہی دیتے ہیں، جب یہ علاقہ علم و عرفاں اور امن و آشتی کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔
​آج کی مادی دنیا میں سیاحت محض سیر و تفریح کا نام نہیں رہی، بل کہ یہ ایک ایسی عالمی صنعت کی شکل اختیار کرچکی ہے، جو کئی ممالک کی معیشت کی شہ رگ بن چکی ہے۔ دنیا بھر کی اقوام اپنے تاریخی مقامات اور قدرتی وسائل کو نکھار کر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارا وطنِ عزیز اور بالخصوص سوات اس معاملے میں قدرت کی فیاضیوں کا مرکز رہا ہے۔ جہاں ایک طرف یہاں کی آب و ہوا اور مناظر مسحور کن ہیں، وہیں دوسری طرف بدھ مت کے مقدس مقامات، اسٹوپے اور خانقاہیں اس وادی کو مذہبی سیاحت (Religious Tourism) کے لیے ایک عالمی مرکز بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ سوات کسی دور میں بدھ مت کی تعلیمات کا منبع تھا، جہاں دور دراز سے زائرین اور بھکشو علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔ آج بھی اودھیانہ (سوات کا قدیم نام) کی زمین اپنے سینے میں ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار چھپائے ہوئے ہے۔ سوات کے طول و عرض میں بکھرے ہوئے بت کدے، چٹانوں پر تراشے گئے بدھا کے مجسمے اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں بنی عبادت گاہیں محض پتھروں کے ڈھیر نہیں، بل کہ ایک عظیم الشان تاریخ کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔
​اگر ہم دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں، تو مذہبی سیاحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے سعودی عرب سے بہتر کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ ملک جس کی معیشت کا سارا دار و مدار دہائیوں تک صرف تیل کی فروخت پر رہا، آج وہ اپنی معیشت کو ’’وِژن 2030‘‘ کے تحت متنوع بنا رہا ہے۔ سعودی عرب نے اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے کہ تیل کے ذخائر ختم ہوسکتے ہیں، لیکن مذہبی اور ثقافتی ورثہ ایک دائمی دولت ہے۔ آج حرمین شریفین کی زیارت کے لیے ہر سال دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین نہ صرف وہاں کی روحانی فضاؤں سے فیض یاب ہوتے ہیں، بل کہ سعودی معیشت میں اربوں ڈالر کا زرِ مبازلہ بھی شامل کرتے ہیں۔ سعودی حکومت نے جس طرح بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا، ہوائی اڈوں کی توسیع کی اور زائرین کے لیے ویزا کے عمل کو سہل بنایا، وہ ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اگر سعودی عرب اپنے مذہبی مقامات کے ذریعے ملکی معیشت کا رُخ بدل سکتا ہے، تو سوات بھی بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے وہی حیثیت اختیار کرسکتا ہے، جو ٹیکسلا یا کپل وستو کی ہے۔
سوات کی سرزمین پر گندھارا تہذیب کے آثار وہ ’’سفید سونا‘‘ ہیں، جنھیں اگر درست طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، تو ہمیں بیرونی قرضوں کے لیے کسی کا دست نگر نہیں ہونا پڑے گا۔ تاہم، اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے اور اس عظیم صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
سب سے پہلی اور اہم ضرورت مکمل اور دیرپا امن کا قیام ہے۔ سیاحت کا پرندہ وہاں پرواز کرتا ہے، جہاں امن کی فضا سازگار ہو۔ جب تک امن کی ضمانت میسر نہیں ہوگی، غیر ملکی سیاحوں اور زائرین کا اعتماد بہ حال کرنا مشکل ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان قدیم مقامات کی حفاظت، بہ حالی اور تشہیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔ بین الاقوامی سطح پر ان مقامات کا ایکسپوژر دینا اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے سہولیات فراہم کرنا وقت کی پکار ہے۔
​اگر ہم ان مذہبی اور تاریخی اثاثوں کو درست طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کام یاب ہو جائیں، تو اس سے نہ صرف ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، بل کہ مقامی سطح پر روزگار کے بے پناہ مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سوات کی مقامی افرادی قوت، جو محنت کش اور باصلاحیت ہے، اسے اپنے ہی گھر کی دہلیز پر باعزت روزگار میسر آئے گا۔ ہمارے نوجوانوں کو پردیس کی خاک چھاننے اور اپنوں سے دور نامساعد حالات میں خوار ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سیاحت کے فروغ سے ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، گائیڈز اور دست کاری جیسے شعبوں میں انقلاب آئے گا، جس سے عام آدمی کی زندگی میں خوش حالی آئے گی۔ سوات کی تقدیر بدلنے کا راز اس کی تاریخ اور فطرت کے ملاپ میں چھپا ہے، بس ذرا سی توجہ اور مخلصانہ کوشش کی ضرورت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے