نام نہاد غیرت کا المیہ

Blogger Ikram Ullah Arif

غیرت ایک لفظ ہے، جس کو پختونوں کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ پختونوں کے ساتھ جہاں کئی اور زیادتیاں کی گئی ہیں، وہاں ان کی جھوٹ پر مبنی ذہن سازی بھی کی گئی ہے۔ اسی ذہنیت نے پختون کو خود ساختہ تصورات کے ساتھ باندھ رکھا ہے، جس میں شان دار ماضی کی دل فریب کہانیاں اور بہادری کے فرضی قصوں کے ذریعے جنگ جویانہ مزاج کی آب یاری نمایاں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان سب فرضی کہانیوں میں کچھ حقیقت بھی ہے، یا یہ صرف پختونوں کو مزید پستیوں تک محدود رکھنے کا سوچا سمجھا عمل ہے؟
مَیں مجبور ہوں کہ اُن پختون قوم کے دانش وروں سے اتفاق نہیں کرسکتا، جنھوں نے ’’غیرت‘‘ کو پختون ثقافت کا جزوِ لاینفک قرار دیا ہے۔
پختون قوم کے غم خواروں میں وہ بھی شامل ہیں، جن کے ہاں یہ دعوا کیا جاتا ہے کہ ’’دنیا کو تہذیب پختونوں نے سکھائی ہے!‘‘ اس جملے میں مبالغہ کچھ زیادہ ہوگیا ہے، وگرنہ یہ کیسی تہذیب ہے، جس نے ابھی تک اس قوم کو ایک مخصوص دائرے تک ہی محدود رکھا ہے۔ ان کی سوچ ابھی تک جنگ جویانہ ہی ہے۔ ان کے ہاں ’’غیرت‘‘ کے نام پر انسانوں کا قتل کیا جاتا ہے۔
تازہ ترین مثال، بچوں کی دس روپے کی لڑائی پر سوات میں وہ کچھ ہوا کہ بندہ کان کی لو کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائے۔ ایک مقامی مشہور قوم پرست وکیل اور ایک اس کا محلے دار دنیا سے چلے گئے… یعنی دس روپے دو انسانوں کے قتل سے قیمتی تھے…! مگر سوئی پھر اسی نام نہاد ’’غیرت‘‘ پر آکر اٹک جاتی ہے۔
یہ کہانی صرف سوات کے حالیہ دل خراش واقعے تک محدود نہیں۔ پشاور سے ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ رمضان سے ایک دو دن قبل کینو پر لڑائی ہوئی اور نتیجے میں دو بندے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
خیبر پختونخوا ہی کے وسطی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کہتے ہیں کہ گذشتہ سال ماہِ رمضان میں اس کے آبائی ضلع میں 30 تک لوگ لڑائی جھگڑوں میں قتل ہوئے تھے۔ وہ تشویش میں مبتلا تھے کہ اِمسال پختون رمضان میں کیا گل کھلائیں گے؟
ماضیِ قریب میں بھی ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ فُلاں شخص نے خواجہ سرا کو اس لیے قتل کیا کہ خواجہ سرا اس کے ساتھ دوستی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ پشتو زبان کی کئی نام ور گلوکارائیں اسی نام نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھ کر جان دے چکی ہیں۔ خواجہ سراؤں کی تو شاید تعداد بھی معلوم نہ ہو… اور وجہ، صرف غیرت۔
افسوس یہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں خواجہ سرا پیدا ہو جائے، تو اُس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے غیرت نہیں جاگتی، بل کہ شرم کے مارے اُسے گھر سے بے دخل کیا جاتا ہے… اور پھر خوں خوار معاشرے میں پہلے اس کی عزت کا قتل کیا جاتا ہے اور پھر غیرت کے نام پر اس کی جان لے لی جاتی ہے۔ واہ…! کیا غیرت ہے!
ہم پختونوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ کیسی غیرت ہے، جس میں صرف جانیں لی جاتی ہیں؟ عورتوں، بچوں اور جانوروں تک پر ظلم کیوں کر گوارا کیا جاتا ہے؟ کیا پختونوں کے کئی علاقوں میں بے چاری خواتین کھیتی باڑی کے سخت کام نہیں کرتیں؟ اس پر تو کسی مرد کی غیرت نہیں جاگتی کہ خود کام کرے اور بیوی بچوں کے لیے دو وقت کی باعزت روٹی کمائے۔
کیا آج تک ہمارے اکثر نالے گندے اور راستے گرد آلود نہیں پڑے؟ روزانہ گندگی کے ڈھیر سے گزرتے کسی پختون کی غیرت نہیں جاگتی کہ محلے داروں سے پیسا جمع کرائے اور اپنے راستوں کو لالہ زار میں تبدل کرے؟
آپ نے یقیناً ایسے علاقے دیکھے ہوں گے، جہاں خواتین میلوں دور سے سروں پر مٹکے رکھے گھریلو استعمال کے لیے پانی ڈھوتی ہیں۔ وہاں پر کسی کی غیرت نہیں جاگتی کہ گھر محلہ نہ سہی، پورے محلے کے لیے ایک کنواں کھود کر پانی کی دست یابی یقینی بنائے، تاکہ خواتین مشقت سے آزاد ہوں۔
اسی طرح بچوں کو نجی اسکولوں میں پڑھانا اور بچیوں کو سرے سے پڑھنے ہی دینے پر تو کسی کی غیرت نہیں جاگتی… کیوں کہ صنفی امتیاز برتا جاتا ہے۔ کیا سبھی پختون اپنی بہنوں کو وراثت میں حصہ دیتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو نام نہاد غیرت کی کہانیوں کو دہرانا چہ معنی دارد…؟
میرے پیارے بھائیو! خدا کا واسطہ ہے، اس نام نہاد غیرت سے چھٹکارا پائیں، زمینی حقائق دیکھیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ہیں کہ غیرت کی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں۔ اپنے آپ اور اپنی نسل پر رحم کیجیے۔ غیرت کے نام پر قتل سے مزید انکار کیجیے۔ قانونی راستے موجود ہیں۔ قتل سے مسائل حل نہیں، بل کہ مزید بڑھ جاتے ہیں۔
امید ہے قوم کے دانش ور آیندہ خالی خولی تہذیبی برتری کے بہ جائے زمینی حقائق کی روشنی میں قوم کی راہ نمائی کریں گے، تاکہ پختون پُرامن اور خوش حال دن دیکھ سکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے