شرمیلا فاروقی کا دعوا اور مولانا کا تاریخی مؤقف

Blogger Hilal Danish

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض مباحث ایسے ہیں، جو محض وقتی سیاسی شور نہیں ہوتے، بل کہ وہ قوم کے فکری رُخ، نظریاتی سمت اور تہذیبی شناخت کا تعین کرتے ہیں۔ کثرتِ ازدواج سے لے کر کم عمری کی شادی تک، یہ مباحث محض قانون سازی کے سوالات نہیں، بل کہ اُس بنیادی مسئلے کی علامت ہیں کہ ریاست کا فکری اور آئینی معیار کیا ہونا چاہیے؟
کثرتِ ازدواج کا مسئلہ آج نہیں، بل کہ کئی دہائیوں پہلے قومی اسمبلی کے ایوان میں زیرِ بحث آچکا تھا۔ اُس وقت قومی اسمبلی کے فلور پر ایک خاتون رکن نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ اگر مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے، تو خواتین کو بھی چار شادیوں کا حق دیا جانا چاہیے۔ بہ ظاہر یہ مطالبہ مساوات کے نام پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ سوال محض قانونی نہیں، بل کہ نظریاتی، تہذیبی اور فکری تھا۔
اُس موقع پر معروف عالمِ دین مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے نہایت بصیرت اور سیاسی شعور کے ساتھ جواب دیا۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ قانون سازی جذباتی نعروں کے تابع نہیں ہوسکتی، بل کہ اسے فطرتِ انسانی، معاشرتی حقائق اور تاریخی تجربات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ اگر کسی مطالبے کو قانون کا حصہ بنایا جائے، تو اس کے نتائج اور مضمرات کا سنجیدہ جائزہ ناگزیر ہے۔
اس بحث کا بنیادی سوال نسب اور ریاستی نظم سے متعلق تھا۔ اگر ایک خاتون کے چار شوہر ہوںم تو یہ طے کرنا عملاً ممکن نہیں رہے گا کہ پیدا ہونے والا بچہ کس شوہر سے منسوب ہے، جس سے نسب، وراثت، خاندانی شناخت اور قانونی ذمے داریوں جیسے بنیادی مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں، بل کہ ریاستی، عدالتی اور قانونی بحران کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک مرد کی چار بیویاں ہوں، تو ہر بچے کا والد اور والدہ واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں، نسب کا تعین ممکن ہوتا ہے اور خاندانی و قانونی نظام کسی ابہام کا شکار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانون اور فطری نظام میں کثرتِ ازدواج کی اجازت مرد کے لیے مخصوص کی گئی ہے، نہ کہ عورت کے لیے۔
یہ بحث دراصل پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قانون سازی کے رخ کی علامت تھی۔ ایک طرف وہ فکر جو مغربی تصوراتِ مساوات کو بلاتنقید قبول کرنا چاہتی تھی، اور دوسری طرف وہ فکر تھی، جو قانون کو فطرت، دین اور معاشرتی حقیقت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتی تھی۔ یہی وہ نظریاتی محاذ ہے، جہاں آج بھی سیاسی و فکری کش مہ کش جاری ہے۔
وقت گزرا، مگر بحث ختم نہ ہوئی۔ آج وہی کش مہ کش 18 سال سے کم عمر شادی کے مسئلے پر ایک نئی صورت میں سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر شرمیلا فاروقی کا یہ کہنا کہ ’’کم عمری کی شادی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں!‘‘ محض ایک سیاسی بیان نہیں، بل کہ ایک فکری مؤقف ہے۔ اس مؤقف میں دراصل یہ تصور پوشیدہ ہے کہ مذہب کو قانون سازی سے الگ رکھا جائے اور سماجی مسائل کو صرف مغربی قانونی پیمانوں پر پرکھا جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو محض عمر کی حد سے نہیں، بل کہ بلوغت، عقل، ذمے داری اور فریقین کی رضامندی سے مشروط کیا ہے۔ اس حساس مسئلے کو مذہب سے کاٹ کر صرف قانونی یا سماجی بحث بنا دینا، نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے، بل کہ معاشرتی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف بھی ہے۔ بچوں کے حقوق اور تحفظ پر بات ضرور ہونی چاہیے، مگر اسلام کو اس سے الگ ثابت کرنے کی کوشش علمی ہے اور نہ انصاف پر مبنی ہی ہے۔
یہ بحث اسی مقام پر جاکر مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے جڑ جاتی ہے، جو آج پارلیمان کے اندر اور باہر ایک واضح نظریاتی موقف کے ساتھ سامنے آئے۔ مولانا فضل الرحمان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، مگر آئین نے اس اختیار کو قرآن و سنت کے تابع قرار دیا ہے۔ اگر اکثریت کے زور پر کوئی ایسا قانون بنایا جائے، جو قرآن و سنت سے متصادم ہو، تو اسے چیلنج کرنا جرم نہیں، بل کہ آئینی حق ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے نزدیک ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے قوانین بناتی ہے، بل کہ یہ ہے کہ وہ کس نظریاتی بنیاد پر قانون سازی کرتی ہے۔ اگر قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف ہوگی، تو اس کی اطاعت لازم نہیں، کیوں کہ اسلامی اُصول یہ ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
یہاں سوال صرف مذہب اور قانون کا نہیں، بل کہ آئین کی روح کا ہے۔ پاکستان کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ اگر یہی آئینی اصول نظر انداز کر دیا جائے، تو پھر پارلیمان کی قانون سازی محض عددی اکثریت کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ نظریاتی ریاست کا اظہار۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ اس نوعیت کی بحثیں پاکستان میں نئی نہیں۔ ماضی میں بھی جب مذہب اور قانون کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں فکری انتشار پیدا ہوا۔ آج بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ ایک طرف وہ فکر ہے، جو ریاست کو مغربی ماڈل کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے… اور دوسری طرف وہ نظریہ ہے، جو پاکستان کو اس کے آئینی اور اسلامی تشخص کے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اصل جنگ قانون اور مذہب کے درمیان نہیں، بل کہ تشخص اور سمت کے درمیان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کم عمری کی شادی یا کثرتِ ازدواج کا قانون کیا ہونا چاہیے، بل کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کا معیار کیا ہوگا، قرآن و سنت یا مغربی تصورات…؟
جب تک اس بنیادی سوال کا جواب طے نہیں ہوگا، پاکستان کی سیاست میں ایسی بحثیں بار بار جنم لیتی رہیں گی۔ کیوں کہ یہ محض قانونی تنازع نہیں، بل کہ پاکستان کی روح، اس کے آئین اور اس کی نظریاتی شناخت کا معاملہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے