صحت نظام کا مشاہداتی جائزہ

Blogger Sami Khan Torwali

ہم اپنی بات کو مدلل انداز سے سامنے رکھنے کے لیے اسلام آباد کے پمز (PIMS, Pakistan Institute of Medical Sciences) ہسپتال کی مثال رکھنے جا رہے ہیں، جو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری علاج گاہی ادارہ ہے۔ یہاں نہ صرف مقامی شہریوں کا رش ہوتا ہے، بل کہ آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا کے بالائی اور جنوبی اضلاع، پنجاب کے دور دراز علاقوں، گلگت بلتستان اور حتیٰ کہ قبائلی پٹی سے بھی لوگ علاج کی تلاش میں آتے ہیں۔ ملک کے دیگر سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں پمز ایک مرکزی سہارا ہے، کیوں کہ یہاں بڑے شہروں میں موجود باقاعدہ تخصصاتی شعبے، تجربہ کار ماہرین اور پیچیدہ امراض کے لیے نسبتی طور پر بہتر تشخیص اور علاج فراہم کیا جاتا ہے…… لیکن بڑے ہسپتال ہمیشہ بڑے معیار کی علامت نہیں ہوتے۔ عمارت کا سائز، مریضوں کی تعداد یا شہر کا مقام کسی ادارے کی اصل قدر نہیں بناتے؛ اصل قدر اس کے نظام، عملے، سہولیات اور رویوں میں ہوتی ہے۔
گذشتہ ایک مہینے سے ہمارا چھوٹا بھائی یہاں زیرِ علاج ہے اور اس دوران میں ہمیں اس ہسپتال کی حقیقت کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جو منظر حکم راں بیان کرتے ہیں، وہ الگ ہے…… اور جو مریض اور اُن کے تیماردار دیکھتے ہیں، وہ بالکل مختلف۔
پمز ہسپتال کی راہ داریوں میں ایک ایسا ہجوم نظر آتا ہے، جو پاکستان کی معاشرتی ہیئت کا عکاس ہے۔ کسی تخت پر سوتا ہوا مریض، کسی ہاتھ میں رپورٹوں کی فائل، کوئی 20 گھنٹے سے قطار میں کھڑا، کوئی ڈاکٹر کے کمرے کے باہر بے چینی سے چکر لگاتا ہوا۔ ہر چہرہ ایک کہانی ہے، ہر آواز میں بے بسی کی لرزش…… کہیں ماں اپنے بچے کے لیے بیڈ مانگ رہی ہے، کہیں بزرگ مریض ٹیسٹ کے خرچ کا حساب لگا رہا ہے، کہیں نوجوان زندگی کا سب سے بڑا امتحان لڑ رہا ہے۔ یہی وہ مناظر ہیں، جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ قوم کا صحت کا نظام صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بل کہ کروڑوں جانوں کا معاملہ ہے۔
اگرچہ پمز کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں سب سے مضبوط چیز اس کا طبی عملہ ہے۔ یہاں نیفرالوجی سے لے کر کارڈیالوجی، السرری سے لے کر ایمرجنسی تک ایسے ڈاکٹر موجود ہیں، جن کی پیشہ ورانہ قابلیت، تحقیق سے وابستگی اور مریض کے ساتھ انسانی سلوک قابلِ تعریف ہے۔ یہاں ڈاکٹر محض اسکرین پر جھانک کر جلدی فیصلہ نہیں کرتے، بل کہ تفصیل سے سنتے ہیں، سوالات کا جواب دیتے ہیں، جذبات کو سمجھتے ہیں اور مریض کو اپنے علاج کا حصہ بناتے ہیں۔ ہمارے چھوٹے بھائی کے علاج کے دوران میں نیفرالوجی وارڈ کے کنسلٹنٹ نے جس محنت، تحمل اور سچائی کے ساتھ معاملہ کیا، وہ واقعی قابلِ قدر ہے۔ ایک ہی ڈاکٹر کا 60 سے 70 مریضوں کا بوجھ اُٹھانا، ایمرجنسی کالز دیکھنا، ڈائیلاسز یونٹ سنبھالنا اور پھر بھی ہر مریض کو ٹائم دینا آسان کام نہیں…… لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا؛ اصل چیلنج نظام کی کم زوری ہے۔
یہاں حکومت کی طرف سے دست یاب سہولتیں ناکافی ہیں۔ عمارت بڑی ہے، مگر آلات کم ہیں۔ وارڈز زیادہ ہیں، مگر بیڈز کم ہیں۔ ڈاکٹر ماہر ہیں، مگر وسائل ناتمام۔
برسبیلِ تذکرہ، چند روز قبل جب مریض کی طبیعت بگڑی اور آئی سی یو کی ضرورت درپیش آئی، تو جواب ملا کہ کوئی بیڈ دست یاب نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دارالحکومت کے مرکزی ہسپتال میں شدید مریضوں کے لیے خلا نہیں، تو چھوٹے شہروں میں کیا ہوتا ہوگا؟
کیا یہ ملک کی صحت پالیسی کی ناکامی نہیں……؟
اسی طرح لیب کے نظام پر بھی دباو ہے۔ ایک طرف رپورٹیں تاخیر سے ملتی ہیں، تو دوسری طرف غلط رپورٹس کے واقعات بھی دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ایک مریض کا بلڈ سیمپل دوسرے کے ساتھ مل جانا یا نتیجہ کسی اور کو پکڑا دینا تو گویا معمول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مجبوراً باہر کی پرائیویٹ لیبز کا رُخ کرتے ہیں، جس سے اُن پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ غریب مریض جو سرکاری علاج کی آس میں یہاں آتے ہیں، نجی اخراجات کی وجہ سے مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔
نیفرالوجی وارڈ کی حالت کچھ بہتر ضرور ہے، مگر رش یہاں بھی حد سے زیادہ ہے۔ گردوں کے مریضوں کی تعداد ملک میں مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر اس کے مقابلے میں ڈائیلاسز مشینیں بڑھیں، نہ بیڈز اور نہ تربیت یافتہ عملہ ہی بڑھایا گیا۔ ایک وارڈ میں 60، 70 مریضوں کا ہونا اس بہ حالیاتی نظام کی شدید کم زوری کی علامت ہے، جسے نظر انداز کیا گیا۔ ڈائیلاسز کا یونٹ الگ، مگر وہاں بھی انتظار طویل، مشینیں اور عملہ کم ہے۔ اس سارے منظرنامے میں مریض اور تیماردار کا سب سے بڑا سہارا ڈاکٹر نہیں، بل کہ صبر، دعا اور اُمید بنتے ہیں۔
ہسپتال میں قیام کے دوران میں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ یہاں صحت اور غربت کا تعلق کس قدر گہرا ہے۔ کوئی مریض بہتر پرائیویٹ روم افورڈ نہیں کر سکتا، کوئی دواؤں کا خرچ برداشت نہیں کر پاتا، کوئی اندر بینچ پر سوتا ہے، کوئی باہر کیفے کے پاس رات گزارتا ہے۔ علاج، جسمانی کم اور سماجی اور مالی مسئلہ زیادہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں صحت کی پالیسیاں اکثر فائلوں میں رہتی ہیں، عملی اصلاح کبھی نہیں ہوتی۔ بجٹ کا بڑا حصہ سڑکوں، پلوں اور سیاسی منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے، جب کہ صحت کا شعبہ ہمیشہ آخری صف میں کھڑا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہسپتال، عمارتوں کا ڈھانچا تو رکھتے ہیں، مگر اندر زندگی کے تحفظ کے ضروری اوزار موجود نہیں ہوتے۔
پمز جیسے ادارے کو قومی ہیلتھ کیئر ماڈل بننا چاہیے تھا، لیکن یہاں وہ بنیادی چیزیں بھی کم یاب ہیں، جنھیں جدید طبی اداروں میں بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ نہ فری ٹیسٹ کی مناسب تعداد، نہ جدید مانیٹرنگ سسٹم، نہ مریضوں کے لیے نفسیاتی معاونت، نہ ڈیجیٹل ریکارڈ، نہ ایڈمنسٹریٹو اصلاحات…… یہاں محنت کرنے والا ڈاکٹر موجود ہے، مگر اُسے سہارا دینے والا نظام غیر حاضر ہے۔
ایسے ماحول میں اہلِ خانہ کے لیے سب سے بڑی آزمایش انتظار اور بے یقینی ہے۔ ہر صبح اُمید ہوتی ہے کہ آج بہتری کا اعلان ہوگا، ہر رات یہی فکر ہوتی ہے کہ کب حالت سدھرتی ہے؟ ہسپتال محض بیماری کا مرکز نہیں، جذبات کا بوجھ بھی ہے۔ کوئی والد بیٹے کے لیے پریشان، کوئی بہن دعاؤں میں مصروف، کوئی ماں ہاتھ جوڑے اللہ سے اُمید لگائے بیٹھی ہے ۔ زندگی کے کوریڈور میں موت کے سائے بھی چلتے ہیں…… اور انھی کے درمیان ایمان اور دعا کا سہارا انسان کو تھامے رکھتا ہے۔
یہ تجربہ ہمیں دو اہم نتائج دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ پاکستان کے ڈاکٹر، اپنی تمام تر کم زوریوں کے باوجود، اس ملک کا سب سے بڑا طبی سرمایہ ہیں۔ ان کی بہتر تربیت، سہولیات اور عزت میں اضافہ قومی ترجیح ہونا چاہیے۔
دوسرا یہ کہ صحت کا نظام عمارتوں سے نہیں بنتا۔ پالیسی، نیت، مالی ترجیح اور انتظامی استحکام سے بنتا ہے۔ جب تک حکومت صحت کو دفاع، انفراسٹرکچر اور سیاست کی طرح مرکزی ترجیح نہیں دے گی، ہر سرکاری ہسپتال ایک ہی جملے میں سمٹ جائے گا: ’’ڈاکٹر اچھے ، نظام ناکام۔‘‘
اب ضرورت اصلاحات کی ہے۔ اس ضمن میں میری طرف سے چند تجاویز ہیں:
1) آئی سی یو کی گنجایش بڑھائی جائے۔
2) لیب سسٹم ڈیجیٹل کیا جائے۔
3) نرسنگ اسٹاف میں اضافہ کیا جائے۔
4) حکومتی بجٹ کا بڑا حصہ صحت پر لگایا جائے۔
5) غریب مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ریاستی ضمانتوں والا نظام قائم کیا جائے۔
دنیا کے مہذب ممالک میں صحت ’’شہری حق‘‘ ہے؛ یہاں اسے اب بھی ’’نصیب‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
جاتے جاتے ہم اُن ڈاکٹروں کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے اپنے فرائض ایمان داری سے نبھائے…… مگر ہماری اصل امید اللہ کی ذات اور آپ سب کی دعا ہے ۔ علاج صرف دواؤں اور رپورٹوں سے نہیں چلتا؛ حوصلے ، اُمید اور صبر سے بھی زندگی جڑی ہوتی ہے۔ ہسپتال کے اُن طویل دنوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانی جسم کم زور ضرور ہے، مگر روح اور ارادے کا بوجھ بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ پاکستان کا صحت کا نظام اس وقت فیصلہ کن مرحلے پر ہے۔ اگر آج ہم نے توجہ نہ دی تو کل ہر مریض کے لیے ایک ہی جواب ہوگا: ’’بیڈ خالی نہیں……!‘‘
اور اگر ہم نے ہمت کی، اصلاحات کیں اور صحت کو قومی ترجیح بنایا، تو یہی پمز آنے والے وقت میں پاکستان کی طبی شناخت بن سکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے