سنا ہے مغرب میں ایک دن (اپریل فول) جھوٹ بولنے کے لیے مخصوص ہے…… یعنی 11 مہینے اور 30 دن سچ بولنے کے بعد، وہ ایک دن جھوٹ بھی بول لیتے ہیں۔
اور اِدھر ہم پاکستانی ہیں، جو 365 دن ’’فل ٹائم‘‘ جھوٹ بولتے ہیں، تو پھر سوچا جا رہا ہے کہ کیوں نہ ہم سچ بولنے کے لیے کوئی ایک دن رکھ لیں؟ مثلاً ’’یومِ صداقت!‘‘
یقین مانیں، دل کو یہ خیال بہت بھایا…… لیکن دماغ نے فوراً سوال داغ دیا: ’’اتنے بڑے سچ کو صرف ایک دن میں کیسے سمیٹیں گے؟‘‘
تصور کیجیے …… اگر واقعی ایک دن سچ بولنے کی اجازت دے دی گئی، تو سیاست دان مائیک پر آ کر کہیں: ’’مَیں نے کبھی کام نہیں کیا، بس تقریر میں زور تھا، عوام کو چونا لگالیا۔‘‘
افسر کہے: ’’ساری فائلیں رشوت کے بغیر نہیں چلتی تھیں، لیکن اب چوں کہ آج سچ بولنا ہے ، تو معذرت……!‘‘
شادی شدہ شوہر دبے لہجے میں اعتراف کرے:’’بیگم، تمھارا قورمہ نمکین نہیں، خالص زہریلا ہوتا ہے۔‘‘
اور بیگم جواب میں پھٹ پڑے: ’’تمھاری تنخواہ پچاس ہزار نہیں، صرف پچیس ہے، باقی تو مَیں نے خود کما کے گزارا کیا!‘‘
اب اگر سکول کے پرنسپل سچ بولنے پر آجائیں، تو داخلے کی فیس کے راز کھل جائیں، اور اگر ڈاکٹر سچ بولنے لگیں، تو مریض بھاگ جائیں۔
بینک، پٹرول پمپ، نانبائی، قسائی…… سب کے ہاں قطاریں لگ جائیں۔ جی نہیں، سچ سننے کے لیے نہیں…… بل کہ سچ سے بچنے کے لیے!
اگر اینکر سچ بول دے کہ ’’آج کا پروگرام صرف ریٹنگ کے لیے ہے، اصل میں مجھے خود بھی کچھ معلوم نہیں‘‘ تو ناظرین ہنستے ہنستے ریموٹ بند کر دیں۔
اور سچ بولنے کے دن اگر ایک عام پاکستانی سے پوچھا جائے: ’’تم صبح سے شام تک کیا کرتے ہو؟‘‘
تو شاید جواب آئے:’’جھوٹ سنتا ہوں، جھوٹ بولتا ہوں…… اور شام کو جھوٹے وعدوں پر امید باندھ کر سو جاتا ہوں۔‘‘
لیکن ایک بات طے ہے کہ سچائی کا دن اگر واقعی منایا گیا، تو اگلے دن قومی سطح پر ’’معذرت خواہانہ دن‘‘ بھی رکھنا پڑے گا…… کیوں کہ سچ بولنے کے بعد رشتے، نوکریاں، ووٹ اور شاید عزت تک سب داو پر لگ سکتے ہیں۔
مگر کیا کریں؟
سچ، تلخ ضرور ہوتا ہے …… مگر شفا بھی دیتا ہے ۔
جھوٹ، وقتی سکون دیتا ہے…… مگر دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ جاتا ہے۔
تو پھر فیصلہ آپ کا ہے، 365 دن کا جھوٹ، یا ایک دن کا سچ…… یا کم از کم سچ بولنے کی کوشش ہی کرلیں……؟
ہماری تو یہی رائے ہے کہ اگر ’’یومِ صداقت‘‘ منایا جائے، تو کم از کم کچھ دل، کچھ دفتر، کچھ ادارے جھوٹ سے تھوڑے ہلکے تو ہوں……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










