ہاں، بالکل خوشی دیتا ہے…… لیکن یہ ’’ہاں‘‘ اتنا سادہ اور آسان نہیں۔ اس ہاں میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔ پیسا کیسے خوشی دیتا ہے……؟ یہ سوال آپ کو اس ہاں کے پسِ پشت پیچیدگیوں میں لے کر جائے گا۔
اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ پیسا ہی اِس دنیا میں بد امنی کی وجہ ہے اور اِس کی موجودگی نے انسان کو لالچی اور اپنی ہی دنیا کو تباہ کردینے والا بنا دیا ہے…… جب کہ اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ پیسے کی کمی بد امنی کی وجہ ہے، کیوں کہ لوگوں کو ضروریاتِ زندگی میسر نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اُن طریقوں کا سہارا لیتے ہیں، جو غیر اخلاقی ہیں۔
لیکن ان بڑے سرمایہ داروں کا کیا جن کے پاس ضروریاتِ زندگی سے بھی زیادہ مالی استطاعت ہے، لیکن ان کی لالچ کی اور غیر اخلاقی طریقوں سے پیسا کمانے کی کوئی حد نہیں!
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
پیسا فرشتہ یا شیطان نہیں…… اس سے محبت یا نفرت کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی فائدہ بھی نہیں۔ یہ محض ضرورت ہے، لیکن اس سے خوشی کا بہت گہرا تعلق جڑ چکا ہے ہماری ماڈرن دنیا میں۔ آئیے، اس سوال کی پیچیدگیوں میں چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ نفسیات، فلسفہ اور میرا ذاتی تجربہ ’’پیسے‘‘ کو ’’خوشی‘‘ سے کس طرح جوڑتا ہے؟
کچھ لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ خوشی باہری اشیا سے نہیں بلکہ اپنی ذات کی گہرائیوں سے محسوس ہوتی ہے۔ پیسے سے محبت، مخلص دوستی، ذہنی سکون اور زندگی کے لیے مقصد تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس کچھ سائیکالوجسٹ اور فلسفیوں کا ماننا ہے کہ پیسے سے خوشی حاصل کی جاسکتی ہے…… بس آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے خرچ کیسے کرنا ہے؟
فلسفہ اور سائیکالوجی پیسے اور خوشی کے متعلق کیا کہتے ہیں، آئیے جانتے ہیں:
انسان کی جبلت میں خوشی (Pleasure) کو تلاش کرنا شامل ہے۔ سب کچھ ہم اسی کے لیے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انصاف اور نیکی بھی، تاکہ ہمیں اپنے متعلق اچھا محسوس ہو۔ یونانی فلسفی ایپیکیورس (Epicurus) کہتا تھا کہ زندگی کا مقصد خوشی کو حاصل کرنا اور تکلیف سے نجات ہے…… جس کا تعلق آج کی دنیا میں یقینا مکمل طور پر نہ سہی، لیکن بڑی حد تک پیسوں سے ہے۔
ایپیکیوریس نے انسان کی خواہشات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
٭ ضروری فطری خواہشات۔
٭ غیر ضروری فطری خواہشات۔
٭ بے کار خواہشات۔
ضروری فطری خواہشات:۔ ضروری فطری خواہشات میں بھوک، پیاس، آرام اور سونا شامل ہیں اور یہ چیزیں ہماری بقا کے لیے بھی ضروری ہیں۔
غیر ضروری فطری خواہشات:۔ غیر ضروری فطری خواہشات میں مہنگا، لذیذ کھانا، اچھے دوستوں کا ایک بڑا سرکل اور جنسی سرگرمی شامل ہے۔ اچھا کھانا (زندہ رہنے کے لیے کھانا ضروری ہے البتہ لذیذ اور مہنگا ہو یا نہ ہو)، دوستوں کا ساتھ اور جنسی سرگرمی فطری ہے، لیکن یہ ہماری بقا کے لیے ضروری نہیں۔ ہم اس کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔
بے کار خواہشات:۔ بے کار خواہشات میں وہ چیزیں شامل ہیں، جو غیر فطری اور غیر ضروری ……ہیں جیسے کہ مہنگی گھڑی یا بہت ہی مہنگے کپڑے جو آپ کی فطری ضرورت نہیں اور یہ خواہش صرف اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ چند انسانوں کے گروپ نے مل کر اپنے ہی خیالوں میں اِسے اہم برینڈ قرار دیا ہے۔ البتہ اس کا ہماری حقیقی زندگی پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔
ہم جب بھی کوئی بہت ہی مہنگی چیز خریدتے ہیں، جس کا ہماری زندگی پر کوئی خاص اثر نہ ہو، تو کچھ ہی دیر/ عرصہ میں ہم اس سے بور ہوجاتے ہیں۔
مہنگی چیزوں کی جانب ہماری خواہشات کا گھڑا کبھی نہیں بھرتا۔ کیوں کہ بقول بدھا کے یہ غیر تسلی بخش (Insatiable) ہے (چوں کہ بدھا خود بھی شہزادہ تھا، تبھی اُس نے ساری غیر تسلی بخش چیزوں کو آزمایا ہوا تھا۔) جو شخص اِس غیر تسلی بخش والے چکرویو میں پھنس جائے، اُس کی زندگی میں ڈپریشن بڑھتا ہے۔ کیوں کہ اُسے ایک کے بعد ایک خواہش پوری کرنی ہوتی ہے اور یہ خواہشات پوری کرنا دن رات محنت اور ذہنی اذیت کو جنم دیتا ہے۔
تبھی ایپیکیوریس کہتا ہے کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے بے کار خواہشات کے پیچھے بھاگنے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ ہم اپنی خوشی کو سادہ تجربات (Simple Experiences) سے بھی پورا کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ فطری اور غیر ضروری فطری خواہشات کو پورا کرکے پلیژر حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں، اس کے برعکس مہنگی اور بے کار خواہشات کے پیچھے دوڑنا گھاٹے کا سودا ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ ان خواہشات کو پورا کرنے میں محنت زیادہ ہوتی ہے، لیکن خوشی کا دورانیہ محنت کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ بہت سی بے کار خواہشات تو مرتے دم تک ہماری پہنچ سے باہر ہوتی ہیں، تبھی اُن کے پیچھے دوڑنا آپ کی تکلیف کو مزید بڑھاتا ہے۔
مطلب یہی ہوا کہ چھوٹی فطری خوشیاں حاصل کرنا آسان ہوسکتا ہے اور آپ کی اذیت کم کرسکتا ہے۔ کیوں کہ بہت ممکن ہے کہ مہنگی چیزوں کے انبار لگانے سے خوشی حاصل کرتے کرتے آپ نے پوری زندگی سخت محنت کرکے گزار دی اور آخر میں آپ کو تسلی (Satisfaction) ملی اور نہ ساری خواہشات ہی پوری ہوئیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ بھی اپیکیوریس کے اس فلسفے سے میل کھاتی ہے جس میں الیزبتھ، ڈینیل اور ٹموتھی نے کہا ہے کہ چھوٹے زیادہ پلیژر چند بڑے پلیژر کو حاصل کرنے کی نسبت زیادہ خوشی دے سکتے ہیں۔
فلسفی آرتھر شوپنہار (Arthur Schopenhauer) کا فلسفہ بھی دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کمتر پلیژر وہ ہیں جسے حاصل کرنے میں زیادہ درد (Pain) سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن اُس کی خوشی اُس درد کے مقابلے کچھ دیر کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر (شوپنہار کی نظر میں) گھومنا پھرنا، جوا کھیلنا، مہنگی چیزیں خریدنا اور وہ تمام تفریحی چیزیں جو آپ کی حواس (Senses) کو ضرورت سے زیادہ اُجاگر کرتی ہیں، جب کہ آرتھر اعلا پلیژر کو عقل (Intellect) سے جوڑتے ہیں، جس میں فلسفہ پڑھنا، آرٹ، شاعری، مشاہدہ کرنا، مراقبہ، سوچ بچار، موسیقی، نئی چیزیں سیکھنا، مطالعہ، ایجاد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب بہت مہنگا نہیں…… لیکن ان سب چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے جس چیز کی اشد ضرورت ہے، اس قیمتی ترین چیز کو کہتے ہیں وقت ۔
ہر وہ انسان جو مہنگی مادی اشیا (Expensive Material Things) کے علاوہ درجِ بالا چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے، تو اسے یقینا وقت کو خریدنے کی ضرورت پڑے گی۔
یونیورسٹی آف کولمبیا کی ایک ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیسوں سے کوئی اچھی چیز جو آپ خرید سکتے ہیں جو آپ کی خوشی اور اطمینان میں اضافہ کرے وہ وقت ہی ہے۔ اگر آرتھر صاحب ہماری آج کی دنیا میں زندہ ہوتے، تو انھیں معلوم ہوتا کہ اپنے مشاغل سے ملنے والی خوشی کو محسوس کرنے کے لیے وقت اور پیسے دونوں ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ہم اپنے گھر کے کام یا اپنے لیے یا اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کے واسطے کچھ فارغ وقت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو تنخواہ کے عوض کام پر رکھتے ہیں۔ اسے مالی آزادی (Financial Freedom) کہتے ہیں۔
کتاب ’’دا سم آف اسمال تھنگز‘‘ (The Sum of Small Things) میں سوشیالوجسٹ الیزبتھ کیورڈ ہیلکٹ سب سے قیمتی سرمایہ وقت کو ہی بتاتی ہیں کہ کیسے امریکہ میں ایک نیا امیر طبقہ وجود میں آیا ہے، جو دانش ور اور ذہین ہے اور یہی طبقہ مہنگی چیزوں کی بجائے وقت خریدتا ہے…… تاکہ اس وقت کا استعمال خود کو خوش رکھنے کے لیے کرسکے۔ کیوں کہ کام سے تھکا ہارا انسان جب گھر آتا ہے، تب اُس کے پاس اپنی صحت کا خیال رکھنے، فلسفہ پڑھنے سمجھنے، فیملی کے ساتھ خوش گوار ٹائم گزارنے کے لیے وقت ہوتا ہے اور نہ توانائی۔
اس سوال کا جواب تو مَیں آپ کو دے چکی کہ ہاں! پیسا خوشی دیتا ہے، لیکن اہم سوال یہ تھا کہ کیسے……؟ فرض کریں آپ کے مالی حالات اچھے ہیں، آپ استطاعت رکھتے ہیں خریدنے کی، تو کیا آپ اپنا سرمایہ چیزیں خریدنے پر خرچ کریں گے؟
پیسے آپ کے ہیں، تو مرضی بھی آپ کی…… آپ چاہیں، تو شاپنگ کرکے چیزوں کا انبار لگا سکتے ہیں…… لیکن سائیکالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر تھومس گیلووچ کی 20 سالہ ریسرچ بتاتی ہے کہ چیزوں کو تجربہ کرنا یا پھر انھیں کرنا (Doing) زیادہ خوشی دیتا ہے بہ نسبت ملکیت (Owning) کے۔ اس کی تین وجوہات بتائی جاتی ہیں:
٭ پہلی وجہ یہ کہ کوئی بھی نئی چیز خریدنے کے بعد ہمارے لیے وہ نارمل ہوجاتی ہے۔ آپ مہنگا فون خریدتے ہیں، تو اُس وقت خوشی ملتی ہے، لیکن چند دنوں میں آپ نارمل ہوجاتے ہیں۔
٭ دوسری وجہ یہ کہ جیسے ہی ہم وہ فون خرید لیتے ہیں اور اُسے استعمال کرلیتے ہیں، پھر ہماری تگ و دو اُس سے بھی اچھا فون خریدنے کے لیے لگ جاتی ہے۔ یہ نہ بجھنے والی پیاس ہے، اِن چیزوں کو حاصل کرنے میں جتنی محنت لگتی ہے، اُس کی نسبت اِن کی خوشی جلدی ختم ہوجاتی ہے۔ اپیکیوریس کہتا ہے کہ جو کچھ بھی تمھارے پاس اِس وقت موجود ہے، اِس کا مزا کرکرا نہ کرو اُن چیزوں کے بارے میں سوچ کر جو تمھاری ملکیت میں نہیں۔ کیوں کہ تمھاری پوری ہوچکی خواہشات بھی کبھی ادھوری تھیں۔
٭ تیسری وجہ یہ کہ چیزیں ہمیں موازنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر آپ نے اچھی گاڑی خریدی اور آپ کے دوست نے اُس سے بھی اچھی خرید لی، تب آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا موازنہ کرتے ہوئے اپنی گاڑی کو بدلنے (Upgrade) کرنے کے متعلق سوچیں گے۔ یہ دوڑ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اس کی نسبت اچھا سرمایہ تجربہ (Experience)ہوتا ہے، لیکن کیوں……؟
اگر دیکھا جائے، تو مادی اشیا سالوں سال رہتی ہیں جب کہ کسی جگہ تفریح، سفر یا کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا تجربہ تو اُسی وقت ختم ہوجاتا ہے، پھر یہ مادی اشیا سے زیادہ بہتر کیوں؟
کیوں کہ ریسرچ کے مطابق تجربات سے ملنے والی خوشی دیرپا ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جب ہم کوئی تجربہ کرنے جانے کا سوچتے ہیں، تو اس تجربہ کے لیے تیاری کرنا، اُس کے متعلق سوچنا اور وہ تجربہ خود اور اُس سے ملنے والی یادیں ہمارے لیے خوشی کو دیرپا بناتی ہیں۔ تجربات آپ کی شناخت (Identity) بن جاتے ہیں، مادی چیزوں کی مانند کوئی بھی آپ سے ان تجربات کو چھین نہیں سکتا وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر تجربات کا کوئی موازنہ نہیں ہوتا، ہر تجربہ ہر انسان کے لیے نیا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسکی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
ایک اور طریقہ بھی ہے پیسوں کے ذریعے دیرپا خوشی حاصل کرنے کا، جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائیکالوجسٹ کی تحقیق کہتی ہے دوسروں پر خرچ کرنا یا پھر دان دینا……!
جی ہاں، ہمارے مذہبِ اسلام (اسلام میں زکوٰۃ، صدقہ) سمیت باقی مذاہب میں بھی دوسروں کے ساتھ سخاوت کی تلقین کی جاتی ہے۔ لیکن کیوں……؟
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی پروفیسر الیزبتھ ڈن کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ہم اپنے متعلق اچھا محسوس کرنے کے لیے صدقہ دیتے ہیں…… کیوں کہ اس سے ہمیں خوشی ملتی ہے……لیکن الیزبتھ کہتی ہیں کہ ہم صرف تب ہی اچھا محسوس کرتے ہیں، جب ہمیں معلوم ہو کہ ہماری رکوٰۃ کی رقم صحیح جگہ پہنچ رہی ہے۔ پھر ہم ان لوگوں سے یا ادارے سے جن کی ہم مدد کرنے لگے ہیں، متصل (Connected) محسوس کرتے ہیں…… اور جب ہمیں محسوس ہو کہ ہماری مدد سے کوئی مثبت نتائج آرہے ہیں، تب ہمیں جذباتی طور پر بھی سخاوت کے فوائد (خوشی) محسوس ہوتے ہیں کہ ہم کسی کے کام آرہے ہیں۔ ہمارا اس دنیا میں آنے کا کوئی مقصد ہے۔
سخی لوگوں کو عموماً لوگ پسند بھی کرتے ہیں اور پسند کیے جانا ہم سب انسانوں کی سب سے بڑی چاہ/ خواہش ہوتی ہے۔
لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر زبردستی ہم سے سخاوت کا مظاہرہ کرنے کو کہے، تو پھر ہمیں وہ خوشی نہیں ملتی جو اپنی مرضی اور رضا سے کرنے میں حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ڈاکٹر ڈن کہتی ہیں۔
٭ میرا ذاتی تجربہ:۔
مَیں اپنے اس مضمون سے متفق ہوں، البتہ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ میرے پاس بہت مہنگی چیزیں، کپڑے یا کوئی زیور موجود نہیں۔ البتہ میرے پاس وقت ضرور ہوتا ہے جسے میں خریدتی ہوں اپنی پسند کی کتابیں پڑھنے کے لیے، ورزش کرنے، اپنی فیملی کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، مضامین لکھنے اور وڈیوز بنانے اور انھیں ایڈٹ کرنے کے لیے…… ان سب کاموں کے لیے وقت اور توجہ درکار ہوتی ہے، جو گھر کے نہ ختم ہونے والے کاموں کے ساتھ اور زیادہ بچوں کی ماں ہونے کے ساتھ کرنا ناممکن ہے۔ کیوں کہ میں ’’سپر وومن‘‘ (Super Woman) بالکل بھی نہیں ہوں۔
جہاں تک میرا تجربہ اور تحقیق ہے، تو وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وہ سب کرسکتے ہیں، یقینا غلط بیانی سے کام لے رہے ہوتے ہیں اور آپ کو گم راہ کررہے ہوتے ہیں۔ وہ کامیاب خواتین/سیلبرٹی جو انٹرویو میں ہم عام عورتوں سے خود کو منسلک کرنے کے لیے کہتی ہیں کہ وہ گھر اور باہر کا کام سب کرلیتی ہیں، اور کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا، وہ مشکلات سے اکیلی لڑیں، شاید ان میں اسکا ٹیلنٹ ہوتا ہوگا، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ کامیاب عورت ہو یا مرد…… اس کے پاس سپورٹ سسٹم ضرور ہوتا ہے۔
مَیں نے پچھلے کئی سالوں میں اپنی استطاعت کے مطابق مختلف تجربے کیے اور ہر تجربہ نے میری شناخت (Identity) میں شامل ہوکر مجھے ایک انسان کی حیثیت سے نشو و نَما کرنے اور بہتر ہونے کا موقع دیا۔ تجربات حاصل کرنے پر پیسے لگتے ہیں۔ کسی جگہ تفریح کے لیے جانے کا تجربہ ہو، شوقیہ طور پر غیر ملکی زبان سیکھنے کا، کسی گروپ تھراپی کا حصہ بننا، یا کوئی ’’اسکل‘‘ (Skill) سیکھنا اپنے شوق کے لیے وغیرہ…… یہ تجربات اچھے ہوتے ہیں، لیکن انھیں کرنے کے لیے ’’پیسوں‘‘ اور ’’وقت‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن میں شعور کی دیوی ہمیشہ سے نہیں رہی اور نہ ہمیشہ سے میری زندگی بہت آسان رہی۔ زندگی آسان ہوتی نہیں۔ اسے کسی حد تک آسان بنانا پڑتا ہے۔ انرجی اور پیسوں کو فالتو جگہ سے ہٹا کر صحیح جگہ لگانا باقاعدہ طور پر سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ چیزوں کو خرید کر اپنے اندر کے خالی پن کو بھرنے کے بھنور میں ایک عرصہ مَیں بھی پھنسی رہی ہوں۔
خوشی کو دیرپا بنانے کے لیے ضرورت کی اشیا اور سیونگ (Saving) کے بعد تجربات اچھا سرمایہ ہوسکتے ہیں۔
اکثر جن لوگوں کو پیسا خوشی نہیں دیتا، بہت ممکن ہے کہ وہ اسے ایسی جگہ لگا رہے ہوتے ہیں جہاں محنت زیادہ لیکن پلیژر بس کچھ دیر کا ہی ہوتا ہے۔
بہت ممکن ہے کہ وہ اپنے ارد گرد مہنگی اشیا کا ڈھیر لگا رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ صاحبِ استطاعت ہیں، تو کوشش کریں کہ پیسے کسی ایسی جگہ لگائیں جو آپ کو خوشی تو دے، لیکن ایک انسان کی حیثیت سے نشو و نَما کرنے کا موقع بھی دے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔