پیدایش:۔ یکم اپریل 1936ء
انتقال:۔ 10 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر اے کیو خان مستحق تو پوری کتاب کے ہیں، لیکن ابھی اُن پر یہ مضمون لکھ کر اُن کی محبتوں کا تھوڑا بہت حق ادا کرنا چاہ رہا ہوں۔ مَیں نے اُن کا نام اپنی کتاب ’’پاکستان کی 10 عظیم ترین شخصیات‘‘ میں بھی شامل کر رکھا ہے۔ اُس کتاب کا مسودہ میرے گھر ’’آگ‘‘ لگنے پر جل کر خاک ہوگیا۔
ڈاکٹر عرفان احمد خان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/irfan-khan/
ڈاکٹر صاحب پیدایشی طور پر بڑے انسان تھے۔ جس طرح ہر پھل دار پودا یا درخت جُھک جاتا ہے، وہ بھی عاجزی اور انکسار کا پیکر تھے۔ سادگی اُن کی شخصیت کا حصہ تھی۔ اللہ نے علوم و فنون اِک پیکرِ خاکی میں کچھ اس انداز میں اکٹھے کر دیے تھے کہ اُن کے عہد میں جینا بھی ایک اعزاز لگتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب میری کتابیں شوق سے پڑھتے تھے، اس بات کا انکشاف مجھ پر سعید بُک بنک، جناح سُپر مارکیٹ، F-7 مرکز، اسلام آباد کے سیلز مین نے کیا۔ میرے اس ادارے کے ساتھ 1995ء سے کاروباری مراسم ہیں۔ حساب کتاب کے سلسلے میں وہاں گیا، تو اُس نے بھی بتایا کہ آپ کی کتابیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب بھی پڑھتے ہیں۔ مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ مَیں نے دریافت کیا کہ کیا مجھے ڈاکٹر صاحب کا نمبر مل سکتا ہے؟ اُس نے جواب میں کہا: ’’ہم ڈاکٹر صاحب سے پوچھ کر اُن کا نمبر آپ کو دے دیں گے!‘‘ بات آئی گئی ہو گئی۔ پھر ایک دن مجھے اُن کا نمبر مل گیا، جو مَیں نے اپنے موبائل میں محفوظ تو کرلیا، مگر ڈاکٹر صاحب جیسی بلند مرتبہ شخصیت کو کال کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مَیں نے GPO مری میں 2013ء سے 2016ء تک "BOOK FAIR” لگایا تھا۔ ایک دن میلے پر ہی تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا نام موبائل کی سکرین پر روشن ہوا۔ میرا دل خوشی سے دھڑکنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی۔ میری کتاب : ’’فیس بک‘‘ کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’’عرفان! آپ نے تو کسی کو بھی نہیں بخشا!‘‘
’’جی……!‘‘ مَیں نے اعتراف کر لیا۔
’’اتنی تیز کتاب وہ بھی اُردو میں، مَیں نے آج تک نہیں پڑھی!‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بات آگے بڑھائی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے آگے کیا کہا…… مَیں تو بس ’’جی‘‘، ’’جی‘‘ ہی کرتا رہا۔ پھر مَیں ڈاکٹر صاحب کو روزانہ صبح "GOOD MORNING” والا "SMS” کرنے لگا اور وہ باقاعدگی سے جواب دیتے رہے۔ لاہور میں انھوں نے مینارِ پاکستان کے پاس ’’ڈاکٹر اے کیو خان ٹرسٹ ہسپتال‘‘ کا سنگ ِ بنیاد رکھا، تو مجھے بلایا۔ وہاں انھوں نے میرے ساتھ بطورِ خاص بڑی محبت کے ساتھ تصویر اُتروائی اور میرا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں پُرجوش انداز میں تھاما۔ میری یادگار تصویروں میں ایک تصویر یہ بھی ہے۔ پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔
ڈاکٹر صاحب نے مجھے کراچی میں اپنے ٹرسٹ ہسپتال کا آفس کھولنے کی پیشکش بھی کی، مگر مَیں خود کو اس ذمے داری کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہ کرسکا۔ مَیں نے یہی سوچا کہ اگر کراچی میں ڈاکٹر صاحب کے حسبِ منشا نتائج نہ دے سکا، تو دوستی سے بھی جاؤں گا۔ مجھے ہمیشہ پیسے کی بجائے دوستی ہی عزیز رہی ہے۔
2017ء میں لاہور گیریژن یونیورسٹی (LGU) ڈی ایچ اے، فیز 6 لاہور میں تھا، جب مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب مجھے ارفع کریم ٹاور کے ٹاپ فلور پر ایک گفٹ پیش کر رہے ہیں۔ گفٹ پیک لفافے کی دبازت بتاتی تھی کہ اُس میں کوئی کپڑا ہے۔ صبح جاگ کر بھی یہ خواب میرے ذہن پر چھایا رہا۔ مَیں نے گھر والوں سے بھی اس خواب کا ذکر کیا۔ مَیں نے اس خواب کو سطحی طور پر لیا۔ مَیں نے اُسی دن ڈاکٹر صاحب کو فون کیا اور خواب کی بابت بتایا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری فرمایش پر اپنا استعمال شدہ ایک سفاری سوٹ ٹی سی ایس کے ذریعے کچھ ہی دن بعد مجھے لاہور گیریژن یونیورسٹی بھجوا دیا۔ مجھے بہت خوشی ملی۔ مَیں نے یونیورسٹی میں سب کو یہ گفٹ دکھایا اور گھر لاکر اپنے بڑے بیٹے طلحہ عرفان کو گفٹ کر دیا۔ وہ بھی ڈاکٹر صاحب کا بڑا پرستار ہے۔
کچھ ہی دن بعد یہ ہو ا کہ طلحہ کو ارفع کریم ٹاور میں واقع آئی ٹی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی سکالر شپ مل گیا اور وہ وہاں پی ایچ ڈی کرنے لگا۔ اُس روز مجھ پر خواب کی معنویت آشکار ہوئی اور میرے دل کو بہت سکون و اطمینان نصیب ہوا۔ پاکستان میں ڈاکٹر صاحب کے چاہنے والوں کی اکثریت کے باوجود ایسے لوگ بھی ہیں جو اُن کی جان کے دشمن تھے۔ اُن کے لیے ڈاکٹر صاحب کا وجود ہی قیامت کی علامت تھا۔ وہ اکثر’’فیس بک‘‘ پر اُن کی وفات کی خبریں اُڑاتے رہتے تھے۔ مجھے ایسی خبروں کا سن کر بہت غصہ آتا تھا اور جب ایسی خبروں کی تصدیق کے لیے مجھے فون آتے تھے، مَیں اُنھیں خوب سُناتا تھا۔
10 اکتوبر 2021ء کو اتوار کا دن تھا۔ مجھے صبح صبح ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بارے میں فون آیا۔ مَیں نے اُسے بھی جھوٹ ہی سمجھا۔ جب تواتر سے فون آئے، تو مَیں نے ڈاکٹر صاحب کے قریبی اَدبی دوست لکھویرا صاحب کو کال کی۔ کچھ دیر بعد اُن کا فون آیا اور انھوں نے ڈاکٹر صاحب کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ مجھ پر کیا گزری؟ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ عوام کا معاملہ کیا تھا؟ وہ سب دیوانہ وار ڈاکٹر صاحب کا جنازہ پڑھنے اسلام آباد میں اکٹھے ہوگئے۔ سلطان ٹیپو کی شہادت والے دن میسور میں لال آندھی آئی تھی اور دن میں اندھیرا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات پر بھی فطرت نے اپنا ردِعمل ظاہر کیا۔ دن کے وقت آسمان دیکھتے ہی دیکھتے کالا سیاہ ہوگیا۔ زبردست ژالہ باری ہوئی اور ڈاکٹر صاحب کے لحد میں اُترتے ہی سب کچھ پھر سے معمول پر آ گیا :
لوگ سونا تلاش کرتے ہیں
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب بھی پاکستان کے اُن قابلِ ترین افراد میں سے ایک تھے، جن کی ہم نے قدر نہ کی۔
پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا۔ اس پاکستان کو مضبوط بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے اللہ نے جنت کے سارے دروازے کھول دیے ہوں گے…… میرا دل کہتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔