(نوٹ:۔ زیرِ نظر سطور  یکم اور دوم اپریل 2013ء کو سوات سے شایع ہونے والے ایک اخبار اور ویب سائٹ میں شایع ہوچکی ہیں، قندِ مکرر کے طور پر انھیں ایک بار پھر شایع کیا جا رہا ہے، مدیر)
مینگورہ بلکہ میونسپل کمیٹی مینگورہ کی حدود پر مشتمل زیادہ تر علاقہ تاریخی لحاظ سے بہت اہم رہا ہے۔ یہاں پر پائے جانے والے آثارِ قدیمہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ جگہ ہزاروں سال قبل بھی تہذیب و تمدن او ر ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں لکھی گئی انگریزوں کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تجارتی لحاظ سے چارباغ سوات کا بڑا تجارتی مرکز تھا، جب کہ منگلور دوسرے اور مینگورہ تیسرے نمبر پر تھا۔ تاہم 1915ء میں ریاستِ سوات کے معرض وجود میں آنے اور 1917ء میں باچا صاحب کے حکم ران بنائے جانے کے بعد سیدو شریف کو دارالخلافہ بنائے جانے کی وجہ سے مینگورہ ایک مرکزی قصبہ اور بڑا تجارتی مرکز بننے کا عمل شروع ہوا۔
چونکہ ریاستِ سوات کے تمام مرکزی دفاتر سیدو شریف میں تھے، اس وجہ سے لوگوں کو دفتری امور نمٹانے کی خاطر سیدو شریف آنا پڑتا تھا۔ باچا صاحب نے سیدو شریف کو تجارتی مرکز میں تبدیل ہونے کے عمل سے احتراز و اجتناب برتتے ہوئے مینگورہ کو تجارتی مرکز بننے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس وجہ سے مینگورہ بطورِ تجارتی مرکز اور دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کے قیام گاہ کے طور پر اہمیت اور مرکزی حیثیت اختیار کرنے لگا۔ لہٰذا 1930ء کی دہائی میں مینگورہ، سوات کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا۔ یہاں پر ہوٹل اور نئی دکانیں بننے اور کھلنے لگیں، جس کی وجہ سے باہر سے آنے والوں کو نہ صرف قیام و طعام کی سہولت میسر ہوتی بلکہ خرید و فروخت کی بھی۔
1940ء کی دہائی میں مینگورہ بازارمیں ایک تباہ کن آگ لگنے کے نتیجے میں موجودہ مین بازار کو وسعت دی گئی۔ دکانوں کو نئی طرز پر تعمیرکیاگیا اور کتیڑا میں کار پارکنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔
والی صاحب نے اپنے دورِ حکم رانی (1949ء تا 1969ء) میں مینگورہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کے انتظام و انصرام کی خاطر 1957ء میں ٹاؤن کمیٹی مینگورہ قائم کی، جسے 1976ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دیاگیا اور اس کی حدود و سیع کی گئیں۔ نئے بازار بنوانے اور ٹریفک کے نظام میں بہتری لانے کے لیے متعلقہ مالکانِ اراضی کو راضی کرکے بعض عمارات منہدم کرتے ہوئے موجودہ نیو روڈ بنوایا گیا۔
ریاستِ سوات کے دور میں مینگورہ کی خاطر جو کچھ انتظام وانصرام اورکنٹر ول موجود تھا، ریاست کے ادغام کے بعد اس کو بر قرار نہ رکھا جاسکا۔ مختلف علاقوں سے لوگوں کی آمد اور آبادکاری کی وجہ سے آبادی کا دباو تیزی سے بڑھنا شروع ہوگیا۔ اس دوران میں افرادی قوت پاکستان سے باہر خلیجی ممالک، ملائیشیا، یورپ اور امریکہ وغیرہ جانے اور کثیر دولت کما کر سوات لانے کی وجہ سے اسے رئیل اسٹیٹ یا جائیداد میں لگانے کی وجہ سے مینگورہ میں زمین اور دکان خریدنے کا عمل شروع ہوا۔ نتیجتاً مینگورہ میں نئے ہوٹل، مارکیٹ اور پلازے تعمیر ہونے لگے۔ نہ صرف سوات کے مختلف علاقوں بلکہ سوات سے باہر کے علاقوں سے بھی کاروبار کی غرض اور مختلف دوسری وجوہات کی وجہ سے لوگ آکر مینگورہ میں جائیداد خرید کر آباد ہونے لگے۔ لہٰذا نہ صرف اس وجہ سے شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا بلکہ آبادی میں معمول کا اضافہ بھی شامل رہا۔ مینگورہ کے علاوہ سوات بھر میں آبادی میں اضافے کا دباو بھی مختلف حوالوں سے مینگورہ کو برداشت کرنا پڑا، جن میں گاڑیوں، رکشوں، ہتھ گاڑیوں وغیرہ کی تعداد میں اضافہ بھی شامل ہے۔
اس صورتِ حال سے نبٹنے کی خاطر ایک طویل المیعاد، وسیع البنیاد اور ہمہ جہت منصوبہ بندی کی ضرورت تھی جو کسی بھی حکومت اور متعلقہ حکومتی اداروں کی توجہ اور ترجیح حاصل کرسکی اور نہ میونسپل کمیٹی اور منتخب ارکانِ اسمبلی کی۔ نتیجتاً یہ شہر بے ہنگم اوربلا منصوبہ پھیلتا رہا اور اس کے اندر بھی اسی طرز پر بلامنصوبہ اور بے ہنگم تعمیرات ہوتی رہیں جس میں نہ تو نکاسئی آب، نہ سڑکوں اور گلیوں اور نہ پینے کے پانی کی فراہمی کی منصوبہ بندی کسی کی ترجیح رہی۔ یہ سب کچھ چند سالوں میں آسیب کی شکل اختیار کرنے لگا۔
اس تناظر میں 1994ء تا 1995ء میں اسکول آف آرکی ٹیکچر، یونیورسٹی آف جنیوا، نے سوات کے ایک این جی اُو (ای پی ایس) کے ساتھ اشتراک میں مینگورہ میں ایک ریسرچ ا سٹڈی کی۔ اس کے دوسرے مرحلے 1996ء تا 2000ء کے کام کی باقاعدہ افتتاحی تقریب 1997ء میں سوات سیرینا ہوٹل سیدو شریف میں منعقد ہوئی جس سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر سوات، محمدیوسف صاحب نے کہا کہ ہمیں مینگورہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کی گائڈ لائنز اورپلان ابھی درکار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ ریسرچ ختم ہوتے وقت مینگورہ میں کچھ خالی جگہ بچی ہی نہ ہو اور پھر اس ریسرچ کی فائنڈنگز اور سفارشات کی بنیاد پر کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کیا جاسکتا ہو۔
دلچسپ بات یہ کہ اس ریسرچ اسٹڈ ی کی تکمیل پر ایک رپورٹ تیار ہوئی جس کی بنیا د پر ایک کتا ب’’ مینگورہ :دیِ اَن پلانڈ سٹی‘‘ یعنی ’’مینگورہ:غیر منصوبہ بند شہر‘‘ کے نام سے 2001ء میں سٹی پریس کراچی سے شائع بھی ہوئی، لیکن اس ا سٹڈی اور اس کی بنیاد پر شائع شدہ کتاب سے سرکاری طور پر فائدہ اٹھانے کی کوئی عملی کوشش نظر نہیں آئی۔ لہٰذا گذشتہ بارہ سالوں میں مینگورہ میں جو مزید بے ہنگم تعمیرات ہوتی رہی ہیں، اس کے نتائج و اثرات کسی سے مخفی و پوشیدہ نہیں۔
مینگورہ شہر بلکہ میونسپل کمیٹی کی حدود میں نہ تو گندے پانی اور ٹوائلٹ ویسٹ کے نکاس کا کوئی محفوظ نظام ہے اور نہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا۔ تمام گندا پانی اور پاخانہ وغیرہ براہِ راست نکاسئی آب کی کھلی نالیوں میں آپڑتا ہے جن میں سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی پائپ لائنیں بھی گزر رہی ہوتی ہیں۔ ان پائپ لائنزکے زنگ آلود ہونے کی وجہ سے نہ صرف گھریلو استعمال کا پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ نالیوں کا گندا پانی ان پائپ لائنز میں گھس کر گھریلو استعمال کے پانی کو گندہ، مضرِ صحت اور ناقابلِ استعمال بناتا ہے۔
مینگورہ شہر میں ہر دوسرے تیسرے سال گلیوں میں سیمنٹ کے فرش پر فرش بچھانے پر تو سرکاری رقوم خرچ ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے گلیوں کی سطح گھروں کے صحنوں سے بھی اوپر آچکی ہے، لیکن نہ گھر یلو استعمال کے پانی کی فراہمی والی پائپ لائنز کو کبھی محفوظ طور پر از سرِ نو بچھانے پر توجہ دی گئی ہے، تاکہ گندا پانی ان میں داخل نہ ہونے پائے اور نہ پاخانہ وغیرہ اور گندے پانی کے لیے سیوریج کا کوئی محفوظ نظام بنا یا گیا ہے۔ لہٰذا نہ صرف شہر سے گزرنے والی ندیوں کا پانی گندا اور نا قابلِ استعمال ہوگیا ہے بلکہ بد بو اور بیماریوں کے پھیلنے میں بھی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔
مزید یہ کہ بازار ہیں یا مارکیٹ اور یا گلی کوچے، ہر جگہ ہرکسی نے دکانوں اور ہوٹلوں وغیرہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے سڑکوں اور گلی کوچوں پر دست درازی کی ہوئی ہے۔ سڑکوں اور گلی کوچوں میں نہ صرف بورڈ پر بورڈ باہر آویزاں اور رکھے گئے ہوتے ہیں بلکہ انھیں شوکیس ہی بنایاگیا ہوتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ پوری دکان شٹر سے باہر ہے۔ یہ سب کچھ نہ صرف ٹریفک بلکہ معمول کی آمدو رفت میں بھی بڑی خلل اور رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔
اس تناظر میں ایک طرف اگر تجاوزات کا ہٹانا ناگزیر ہے، تو دوسری طرف پینے کے پانی کو محفوظ بنانے اورسیوریج کے ایک مربوط نظام کا قیام بھی اشد ضروری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مینگورہ میں چینہ مارکیٹ تو وجود میں آگئی اوربہت شہرت بھی حاصل کرگئی لیکن چینہ اور اس کی ر ونق گویا قتل کر دی گئی۔ اس طرح گرین چوک تو ہے لیکن گرینری یا سبزے کا نہ صرف عوامی سطح پر خاتمہ کیا جا رہا ہے بلکہ سرکاری طور پر بھی، جس کی واضح مثال سوات میوزیم کے سامنے نالی نکالنے کے بہانے سدا بہار نارنگی کے ایسے درختوں کی پچھلے سال حکومتی اداروں کے ہاتھوں کٹائی ہے جو نہ تو سڑک کی تنگی کا باعث تھے اور نہ کسی دوسری چیز کے لیے رکاوٹ، بلکہ اس جگہ کی زینت ہی تھے (نالی تو اس کے ساتھ بھی نکالی جا سکتی تھی۔) یاد رہے کہ اختر ایوب اےڈووکیٹ نے ان درختوں کی کٹائی روکنے کی بھر پور کوشش کی تھی اور اس ضمن میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ کے اہل کاروں تک ان درختوں کی کٹائی روکنے کی خاطر اپنی آواز پہنچائی تھی، لیکن بے سود۔
پچھلے سال(اے این پی سے تعلق رکھنے والے مقامی ایم پی اے و وزیرِ ماحولیات و جنگلات کی طرف سے) مینگورہ کو مثالی شہر بنانے کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔ مینگورہ کے مسائل اور اس حوالے سے دوسرے پہلوؤں سے متعلق کئی ایک افراد نے اپنے خیالات اور تجاویزبھی وقتاً فوقتاً پیش کی ہیں۔ ان میں محترم حاجی رسول خان صاحب، پروفیسر سیف اللہ خان صاحب، فضل ربی راہیؔ، شوکت شرار اور احسان الحق حقانی سرفہرست ہیں۔ اب پچھلے دنوں یہاں پر تجاوزات ہٹانے کی خبریں بھی گرم رہیں۔ تجاوزات ہٹانے کی اس طرح کی باتیں اور کچھ لیپا پوتی 1999ء میں جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد بھی ہوئی تھی اورسوات میں 2009ء کے فوجی آپریشن کے بعدبھی۔ تاہم اس دفعہ اس کی ایک امتیازی بات یہ ہے کہ کہاجاتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر تجاوزات کے کامیاب اور مکمل طور پر ہٹائے جانے کو یقینی بنانا سپریم کورٹ کی ذمے داری بنتی ہے، بصورتِ دیگر سپریم کورٹ کی جو ساکھ بن چکی ہے، وہ باقی نہیں رہے گی۔
اس ضمن میں ایک کامیاب اور بلا تفریق کام کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان تجاوزات کو ختم کیا جائے اور ہٹا دیا جائے جو سرکاری اداروں نے اور سرکاری اداروں کے زیرِ نگرانی ریاستی خزانہ اور امدادی رقوم سے کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ رسولؐ اللہ نے حجتہ الوداع کے موقع پر جاہلیت کے خون اور سود کے ابطال کا اعلان کرتے ہوئے ابتدا اپنے چچا عباسؓ کے سود کی بقایا رقم اور اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ بن حارث کے بیٹے کے خون کی معافی کے اعلان سے کیا تھا، اور جس طرح کہ عمر بن عبدالعزیز نے غصب شدہ جائیداد اور اموال کی واپسی کی ابتدا اپنے آپ اور اپنے خاندان سے کی تھی۔ اگر تجاوزات ختم کرنے کے اس کام کا آغاز حکومتی اداروں کا سرکاری خزانہ اور امدادی رقوم سے کیے گئے تجاوزات، خاص کر مینگورہ کی ندیوں اور دریائے سوات کی حدود میں کیے گئے تجاوزات، کے ہٹانے اور ختم کرنے سے نہیں کیا جاتا اور یہ اور ان جیسے دوسرے تمام تجاوزات ہٹائے اور ختم نہیں کیے جاتے، تو تجاوازت ختم کرنے کا یہ کام بھی اس مقولہ کے مانند ہوگا کہ’ ’قانون کی مثال مکڑی کے جال جیسی ہے جس میں کم زور چیزیں (مچھر وغیرہ) تو پھنس جاتی ہیں لیکن پتھر اسے تہس نہس کرکے اس کے آر پار نکل جاتا ہے۔‘‘
اگر سرکار اور طاقت ور و با اثر افراد کے تجاوزات کو ہٹایا نہیں جاتا، تو پچھلے دو دفعہ کی طرح لیپاپوتی سے سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ منفی طور پر متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ سپریم کورٹ کو یہ بھی یقینی بناناچاہیے کہ تجاوزات کے ہٹانے اور ختم کرنے کا یہ کام 1980ء کی دہائی میں تیار کردہ محکمہ مال کے بندوبستِ اراضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر بلا تفریق ہو، جیسا کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر قبرستانوں کے ضمن میں شروع کیا گیا ہے۔ خاص کر 2010ء کے سیلاب کے بعد مینگورہ میں ندیوں اور دریائے سوات میں ایوب پل کے مغرب کی طرف دریا کے بیچ حفاظتی پشتوں کے نام پر سرکاری تجاوزات کو ترجیحی بنیادوں پر ختم اور اکھاڑ پھینکنا لازمی ہے۔ تاکہ آئندہ کے لیے ـ’’مشتری ہوش یار باش‘‘ کے مصداق سرکاری رقوم کو ندیوں اور دریاؤں کی حدود میں تجاوزات کرنے اوردریا اور ندیوں کے رُخ اصل جگہوں سے موڑنے کے اقدامات پر صرف نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں مینگورہ بائی پاس پر تجاوزات کا ایک نیا سلسلہ بھی شرو ع ہو چکا ہے۔ اس میں بائی پاس سے لے کر دارالقضا کی حدود تک کے علاقے میں فش ہٹس کی صورت میں تجاوزات ایک وبائی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس طرف بھی خاص توجہ درکار ہے۔
تجاوزات کے ضمن میں بڑی سڑکوں اور دریا و ندیوں کے ساتھ ساتھ شہر کے اندر گلی کوچوں میں بھی اس کی طرف توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ ان گلی کوچوں کی مثال بدن کی ان چھوٹی چھوٹی رگوں کی سی ہے جو بڑی رگوں سے خون بدن کے کونے کونے تک پہنچاتی ہیں۔ اگر یہ چھوٹی رگیں بند ہوں، تو خون پورے بدن کو نہیں پہنچ پاتا اور اپاہج ہونے کا خطرہ ہوتاہے۔ اور یہ کوئی راز نہیں کہ اپاہج ہونے کی صورت میں زندگی، اصل زندگی اور زندہ، اصل زندہ نہیں رہ پاتا۔
مینگورہ کو ایک مثالی شہر بنانے کی خاطر باقاعدہ منصوبہ بندی اور نئی منصوبہ بند سڑکوں کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام رقبہ کی پیمائش کرکے سڑکیں نکالنے کے بعد باقی زمین کومتعلقہ مالکانِ زمین کے درمیان ان کی پیمائش شدہ زمین کے تناسب سے تقسیم کی جاسکتی ہے۔ اس طرح حصہ بقدرِجثہ کے مصداق ہر کوئی نفع و نقصان میں اپنی زمین کے تناسب سے حصہ پائے گا۔
مینگورہ میں ایک اہم مسئلہ گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ کا ہے۔ اس ضمن میں بعض معزز اہلِ قلم یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ خوڑوں یا ندیوں پر لینٹر ڈال کر پارکنگ کا مسئلہ حل کیا جائے۔ تاہم ایک توندیوں پر لینٹر ڈال کر انھیں اوپر سے بند کرنے کی اجازت قانون نہیں دیتا اور یہ بھی تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے، اور دوسرا اس صورت میں چوں کہ ان خوڑوں کی حدود پہلے سے ہی بہت تنگ اور محدود کردی گئی ہیں، لہٰذا ان ندیوں میں گند اور کچر ہ آنے سے یہ جلد ہی بھر جائیں گی۔ پھر نہ تو ان کی صفائی ممکن ہو سکے گی اور نہ وہ طوفانی پانی کے بہاؤ کے لیے کافی ہوں گی جس کی وجہ سے معمولی سیلاب کی صورت میں بھی اگر ان میں درخت یا جھاڑیاں وغیرہ پھنس گئیں، تو 2010ء والی تباہی سے بڑی تباہی ہوگی۔ پارکنگ کے لیے شہر کے اندر یا سڑکوں کے کنارے انتظام ہو سکتا ہے اور یہ دنیا کے کئی ایک ممالک کی طرح کئی منزلہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر تجاوزات کوسڑ کوں اور گلی کوچوں دونوں سے حقیقی طور پر ہٹا دیا جائے اور بازاروں کے ساتھ ساتھ مارکیٹوں جیسے ادھیانہ بازار، سوات مارکیٹ، ملک سپر مارکیٹ وغیرہ وغیرہ (پورے شہر میں جہاں کہیں بھی ہوں) میں دکان داروں پر سخت پابندی عائد کی جائے کہ وہ اپنی دکان کے شٹرسے باہر کوئی بورڈاور سامان وغیرہ نہیں رکھیں گے، تو پارکنگ کا مسئلہ نوے فی صدسے زیادہ ویسے بھی حل ہوجائے گا۔
یہ سب کچھ ابھی یا کبھی نہیں کی بنیاد پر 1980ء کی دہائی میں تیار کردہ محکمہ مال کے بندوبستِ اراضی کے ریکارڈ کی بنیادپر حقیقی معنوں میں کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اب جب کہ مجسٹریسی نظام بحال ہوچکا ہے اور حکم سپریم کورٹ کا ہے، ایسا نہ کرنے کا کوئی جواز اورعذر بھی باقی نہیں رہتا۔ سونے پر سہاگا یہ کہ حکومت بھی سیاسی نہیں رہی(یعنی عبوری حکومت ہے) کہ جس پر کوئی عوامی یا سیاسی دباؤ اور پریشر ہو اور اس طرح سیاسی مداخلت آڑے آئے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔