کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (پینتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

17 اگست 1969ء کو جناب ہمایون جو اُس وقت پی اے ملاکنڈ ایجنسی تھے، سوات پہنچ گئے اور مقبوضہ ریاست کا چارج سنبھال لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انضمام کا اعلان عجلت میں کیا گیا تھا۔ بغیر اس منصوبہ بندی کے، کہ نیا نظام کیسے متعارف کرایا جائے اور عوام کو تبدیلی کو قبول کرنے […]

دیر: تحقیق کے لیے کھلا میدان

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’سوات‘‘ ہمیشہ سے تاریخ دانوں، سیاحوں، ماہرینِ بشریات (Social Anthroplogists) اور عُمرانیات کے ماہرین کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے ہمسایہ ریاستِ دیر کی بہ نسبت، سوات ہمیشہ ہر قسم کے حملوں کے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]

سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]

بونیر میں مہمان نوازی کی روایت

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بنیادی انفراسٹرکچر اور جدید ذرائع آمد و رفت کی ترقی کے ساتھ پختون معاشرت کی ایک اہم روایت، مہمان نوازی، تقریباً قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ اس سے پہلے، کوئی مسافر یا اجنبی جو ’’خچر پگڈنڈیوں‘‘ […]