26 نومبر: کون جیتا، کون ہارا؟

قلم کار کی مجبوری یہ ہے کہ وہ سماج سے لاتعلق نہیں رہ سکتا اور سماج سے سیاست کو نکالا نہیں جاسکتا۔ یوں نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی معاملات پر لکھنا پڑتا ہے۔ 26 نومبر کو شہرِ اقتدار میں جو ہوا، اُس حوالے سے ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے۔ احتجاجی پارٹی کا لاشوں کے حوالے […]
سیاسی رواداری وقت کی اہم ترین ضرورت

ہمارے ملک میں ہمارے اربابِ اختیار نے یقینا کچھ بہتر اور کچھ بہت بہتر کام کیے، لیکن اس کے ساتھ کچھ برے اور کچھ بہت ہی برے کام بھی کیے۔ برے کاموں میں سے جو بہت برا کام تھا، وہ ہے ’’سیاسی انارکی۔‘‘بے شک مذہبی شدت پسندی زیادہ خطرناک ہے، لیکن یہ بات قابلِ غور […]
پروپیگنڈوں سے حالات سدھرنے والے نہیں

گذشتہ ہفتہ سے چند خبریں ملاحظہ کیجیے، پھربات کرتے ہیں۔پہلی خبر ہے کہ دبئی نے پاکستانیوں کے لیے ویزا کی اجرا میں سختی شروع کردی۔ علاوہ ازیں اس وقت مختلف الزامات اور جرائم میں جتنے لوگ دبئی میں قید ہیں، اُن میں نصف تعداد پاکستانیوں کی ہے…… یعنی اگر دس ہزار لوگ قید ہیں، تو […]
کیس مت نمٹائیں، انصاف دیں
بلاول بھٹو پھر ناراض ہوگئے
علی امین گنڈاپور کی روپوشی و رونمائی بارے چند چبھتے سوالات

علی امین گنڈاپور اپنے لاؤ لشکر اور سرکاری وسائل کے ساتھ جوں جوں اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، پی ٹی آئی کے ورکروں کا جوش اُس سے دُگنی رفتار سے آسمانوں کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ راستے بھر جوشیلا خطاب کرتے ہوئے ورکروں میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتے چلے آ […]
نئی آئینی عدالت کے قیام کا اصل مقصد

آج کل آئینی ترمیم کا بڑا زور و شور ہے۔ اسے منظور کروانے کے لیے بڑے جتن ہو رہے ہیں، لیکن قانونی ماہرین اور وکلا نے اس ترمیم کو ذاتی مفادات کا شاخ سانہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایک ملک گیر تحریک اس آئینی ترمیم کے بطن سے جنم لے رہی ہے، […]
نواز شریف، ’’رول آف دی گیم‘‘ طے کریں

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمان انتہائی منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور اُنھیں بہ خوبی علم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کس طرح نبرد آزما ہو نا ہے۔ آج کل مولانا کا جلال اپنے عروج پر ہے اور اُنھوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔پی ٹی آئی شاید […]
سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ضروری ہے

جب گھٹن بڑھ جائے، تو تازہ ہوا کے جھونکے کے لیے کوئی کھڑکی کھولنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ورنہ دم گھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 2006ء میں ایسے ہی گھٹن زدہ سیاسی حالات تھے۔ پرویز مشرف ملک پر قابض تھے۔ ق لیگ اُن کے فرنٹ مین کے طور پر موم کا ناک بنی ہوئی تھی۔ […]
فارم 47 کی پیداوار جمہوریت

جو لیڈر جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں، اُن کا اگر بہ غور جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوگا کہ سب نے آمریت کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اکثر سوال اُٹھتا ہے کہ ہماری جمہوریت ہے کیا؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ پاکستانی جمہوریت کسی طور جمہوری اور عوامی جد و […]
آصفہ بھٹو زرداری

مَیں یہ کالم گذشتہ کالم کی جگہ لکھنا چاہتا تھا، لیکن نہ لکھ سکا اور مَیں نے اس کی وجوہات بھی اپنے گذشتہ کالم میں درج کر دی تھیں۔ بہ ہرحال بہ ظاہر آصفہ بی بی پر ایک مکمل کالم لکھنا اس وجہ سے بھی مشکل ہے کہ ابھی تک آصفہ کی پہچان فقط بلاول […]
لیڈروں کی بے حسی اور پارٹی ورکروں کی موت

کسی بھی سیاسی پارٹی میں جب تک ورکر نہ ہوں، تب تک لیڈر پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ورکر ہی اُنھیں زمین سے اُٹھا کر آسمان تک لے جاتا ہے۔ اُن کی خاطر لڑائیاں کرتا ہے۔ بغیر کسی لالچ اور فیس کے وہ ان کا ہر جگہ وکیل بنا پھرتا ہے۔ اور تو اور یہ ایک […]
آخری موقع

پی ڈی ایم حکومت کی 16 ماہ کی بری کارکردگی نے عوام کو شعوری اور لاشعوری طور پر بدظن کر دیا تھا۔ اپنے دعوؤں اور وعدوں کے برعکس عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کے بعد جب یہ لوگ عوام میں گئے، تو انھیں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی انھیں اُمید تھی۔ […]
مریم نواز پر وقت سے پہلے تنقید جائز نہیں

ہم نے اپنی پچھلی تحریر جو ’’بھٹو ریفرنس‘‘ بارے تھی، میں یہ تحریر کیا تھا کہ تاریخ بہت بے رحمی اور غیر جانب داری سے فیصلہ کرتی ہے۔ اِس دور میں ایک فیصلہ مریم نواز شریف کی بہ طورِ وزیرِاعلا نام زدگی اس احتساب کی ایک کڑی ہے۔ کیوں کہ مجھے یاد ہے کہ کس […]
قیدی نمبر 804

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قیام کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدہ صدرِ مملکت کے انتخاب میں آصف علی زرداری نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور 10 مارچ کی شام عہدے کا حلف اُٹھا کر مسندِ صدارت پر براجمان ہوگئے۔ بہ ظاہر حلف برداری کی تقریب اک معمول کی کارروائی […]
خاموش انقلاب

اس میں کوئی وو رائے نہیں کہ ملکِ عظیم اس وقت طو فا نوں کی زد میں ہے۔ اس کی کشتی طوفانوں میں ہچکولے کھا رہی ہے اور اس کے ناخدا بندر بانٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو وزارت چاہیے اور کسی کو صدارت ۔ پروٹو کول کی خواہش ملکی سلامتی سے بالا تر […]
صدرِ مملکت کے انتخاب کا طریقۂ کار

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کا ایک صدر جو ریاست کا سربراہ ہوگا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمایندگی کرے گا۔ صدارتی اُمیدوار کی کم از کم عمر 45 سال اور مسلمان ہونا لازم ہے۔ ایسا شخص جو قومی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل بھی ہو، یعنی آرٹیکل 62 اور 63 […]
واہ، کیا بیانیہ ہے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں پی ٹی آئی نے مزاحمتی سیاست کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس مزاحمت میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا بھرپور کردار شامل ہے۔ قبل ازیں ایسا ہوتا تھا کہ حکومتیں اور مقتدرہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اپنے ہاتھ میں رکھنے […]
کانٹوں بھرا تاج

سب ایک دوسرے کو پھنسانا چاہتے ہیں۔ خود کوئی بھی آگے بڑھ کر تاج و تخت کو چومنا نہیں چاہتا۔ سبھی کو تاجِ شاہانہ نوکیلے کانچ سے بنا ہوا لگ رہا ہے۔ تختِ شاہی کو اقتدار کے بھوکے سیاست دان کانٹوں کی سیج سمجھ کر اس سے دور بھاگ رہے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم میں […]
بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز

ذوالفقار علی بھٹو پانچ جنوری 1928ء کو متحدہ ہندوستان میں سندھ کے معروف سیاست دان سر شاہ نواز بھٹو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بمبئی سے حاصل کی۔ بارکلے (Barkley) اور آکسفورڈ (Oxford) یونی ورسٹی سے پولی ٹیکل سائنس (Political Science) کی اعلا تعلیم کے بعد ’’لنکن ان‘‘ سے وکالت کی ڈگری حاصل […]
باہر شیر اندر ڈھیر

سال 2014ء کے دوران میں 126 روزہ تاریخ ساز دھرنے کے دوران میں عمران خان کا قول: ’’ہفتے کی رات ایمپائر کی اُنگلی اُٹھ جائے گی!‘‘ بہت ہی مشہور ہوا۔ پھر 13 اور 14 جنوری 2024ء کی درمیانی ہفتہ کی رات پاکستان کی سب سے بڑی آئینی عدالت میں سچ مچ ایمپائر کی اُنگلی اُٹھ […]