’’اب کی بار آنکڑا چار‘‘

گذشتہ انتخابات کہ جو بھارت جیسے بڑے ملک میں منعقد ہوئے اُن کے نتائج بہت غیر متوقع سامنے آئے۔ ایک بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھارت نے سول اِدارے نہ صرف بنالیے، بل کہ بہت حد یہ تمام ادارے بہتر سے بہتر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے […]
مذاکرات ہی واحد حل ہیں

اس خبر کو سیاسی حلقوں میں بڑی پذیرائی مل رہی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں جناب عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ دیکھا جائے، تو پاکستانی سیاست میں یہ ایک بڑا بریک […]
بجٹ سے ریلیف کی اُمید دیوانے کی بڑ ہے

’’پاکستانی عوام وفاقی بجٹ سے ریلیف کی امید نہ لگائیں۔‘‘ یہ مَیں نہیں کَہ رہا اور نہ حزبِ اختلاف کا کوئی لیڈر ہی کَہ رہا ہے، بل کہ یہ سنہری الفاظ وفاقی وزیر اور حکومتی جماعت ’’پاکستان مسلم لیگ (ن)‘‘ کے جناب احسن اقبال کے ہیں۔ اُنھوں نے مزید ارشاد فرمایا کہ عوام کو ریلیف […]
ٹریفک حادثات، وجوہات اور روک تھام

آئے دن ٹریفک حادثات کی خبریں، ٹریفک جام کے معاملات، کہیں ٹریفک پولیس سے چالان کٹنے پر منھ ماری کرتے نوجوان، کہیں آپس میں گتھم گتھا عوام، تو کہیں ہاتھا پائی کے واقعات…… یہ خبریں اور واقعات روزمرہ کے معمول ہیں۔ یہ کسی ایک علاقہ، شہر یا صوبہ کی بات نہیں، بل کہ یہ واقعات […]
ججوں کی اہلیت، تعیناتی و سبک دوشی بارے قیاس آرائیاں

ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ کے حوالہ سے آئے روز نت نئی خبریں اور تجزیے دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ بسااوقات کئی یوٹیوبر اپنے بے تکے تجزیوں میں دُور کی کوڑی لانے کی ناکام کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں بے چارے یوٹیوبروں کا بھی کوئی قصور نہیں۔ کیوں کہ ان […]
توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ

توشہ خانہ کی شروعات ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمی کے دوران میں ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد اُن تحائف کو جمع کرنا اور رکھنا ہے، جو پارلیمنٹ کے ارکان، وزرا، خارجہ سیکرٹری، صدر اور وزیرِ اعظم وصول کرتے ہیں۔ 2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے توشہ خانہ زبان زدِ عام موضوعِ بحث چل رہا […]
کبوتر بازی جیسے ظالمانہ کھیل کو روکا جائے

امسال موسمِ گرما اچانک شروع ہوا ہے۔ مئی کے آغاز میں موسم اچھا بھلا خوش گوار تھا، مگر مئی کے پہلے ہفتے کے اختتام پذیر ہوتے ہی مئی کے مہینے میں پڑنے والی گرمی اچانک آن وارد ہوئی اور چند ہی دنوں میں گرمی اس قدر شدید ہو گئی کہ صوبہ پنجاب کے سکولوں میں […]
سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ضروری ہے

جب گھٹن بڑھ جائے، تو تازہ ہوا کے جھونکے کے لیے کوئی کھڑکی کھولنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ورنہ دم گھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 2006ء میں ایسے ہی گھٹن زدہ سیاسی حالات تھے۔ پرویز مشرف ملک پر قابض تھے۔ ق لیگ اُن کے فرنٹ مین کے طور پر موم کا ناک بنی ہوئی تھی۔ […]
بجٹ اور سرکاری ملازمین

یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی سے لے کر مڈل کلاس طبقے تک سب کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ مہنگائی نے ڈاکٹر کے نسخے کا روپ دھار رکھا ہے۔ صبح، دوپہر اور شام کے حساب سے عوام مہنگائی کی ’’نئی خوراک‘‘ کھانے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی […]
عوامی فلاحی منصوبے اور عدالتی رکاوٹیں

گذشتہ روز ٹی وی چینلوں پر ہوش رُبا خبر دیکھنے سننے کو ملی کہ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو طلبہ کو الیکٹرک بائیکس چند روز تک تقسیم کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے الیکٹرک بائیکس کی قرعہ اندازی عدالتی حکم کے ساتھ مشروط کردی۔ معزز جج نے کہا کہ طلبہ کو پبلک ٹرانسپورٹ کی […]
خزانے پر پنشنر نہیں، اشرافیہ بوجھ ہے

آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ وطنِ عزیز کے وزیرِ خزانہ جناب محمد اورنگ زیب نے کابینہ کے دو دیگر بھاری بھرکم وزرا جناب عطاء اللہ تارڑ اور جناب اعظم نذیر تارڑ کے ہم راہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پنشن کو ملکی خزانے پر بہت بڑا بوجھ قرار دیا ہے۔ […]
گندم بحران، کیا ذمے دار سزا پائیں گے؟

گندم بحران نے کسان طبقے میں بے چینی کی لہر ہی پیدا نہیں کی، بلکہ اسے کاشت کاری سے بھی متنفر کر دیا ہے۔ کس قدر قابلِ رحم صورتِ حال ہے کہ پروڈیوسر اپنی پراڈکٹ یا پروڈکشن کی قیمت کا تعین بھی نہیں کرسکتا۔ ایک قلفی فروش، چھابڑی والا، ریڑھی پر رکھ کر چیزیں فروخت […]
سوات میں پولیس گردی نامنظور

جب قانون نافذ کرنے والے یہ سمجھنے لگیں کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس کو توڑنا، مروڑنا یا صریحاً اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا کوئی معیوب بات نہیں، تو سمجھیں کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے۔ کچھ اس قسم کی دال کا نظارہ راقم نے اپنی ایک پیدل […]
گندم سکینڈل، حکومت کہاں کھڑی ہے؟

بات انتہائی سادہ سی ہے۔ آپ کو اپنے خرچ کے لیے گُڑ کی دو ڈلیاں چاہیے ہوں…… اور آپ کے پاس گُڑ کی ایک پوری بوری پڑی ہو۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اس بوری کے علاوہ بھی آپ کو کوئی کہے کہ نہیں آپ دو بوریاں اور خرید لیں، تو یقینا آپ وہ دو […]
پنجاب، جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پولیس افسران صحافیوں کے پریس کارڈ چیک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کے پاس غیر رجسٹرڈ اخبار، چینل یا پریس کلب کا کارڈ ہوا، تو اُس کے خلاف دفعہ 468, 459 اور 471 کے تحت […]
ڈپٹی وزیرِ اعظم کا تقرر، پسِ پردہ حقائق

قارئینِ کرام! عید سے ایک ہفتہ قبل 3 اپریل کو مَیں اپنے کالم بہ عنوان ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ میں پیش گوئی کرچکا ہوں کہ عید کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہوجائے گی۔ اسی کالم میں، مَیں نے جناب اسحاق ڈار کے ڈپٹی وزیرِ اعظم بننے کی پیش گوئی بھی کی […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
مریم نواز اور تتے توے پر جلتی مخلوق

ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون، ملک معراج خالد، غلام مصطفی کھر، محمد حنیف رامے ، میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف، منظور احمد وٹو، چوہدری پرویز الٰہی جیسی نامی گرامی قد آور شخصیات نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر راج کیا۔ پھر پنجاب کی تاریخ میں اِک ایسا سنہری دور […]
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان اور امریکی خفگی کی اصل وجوہات

ایران کے صدر جناب ابراہیم رئیسی پاکستان کا کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں بعد کسی ایرانی سربراہِ مملکت کا پاکستان کا دورہ تھا، جس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری برقرار رہی ہے۔ اس دورے […]
ضلع اَپر سوات کے قیام کی بہ جائے تحصیلِ بحرین کی تقسیم؟

باوثوق ذرائع کی خبر تو نہیں، تاہم افواہ ضرور ہے اور اس پر یقین اس لیے آتا ہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے وقت ایسے مشورے انفرادی سطح پر بااثر افراد سے کیے گئے تھے کہ موجودہ تحصیل بحرین کو دو تحصیلوں میں تقسیم کیا جائے۔ شاید اب بھی کہیں بلدیاتی الیکشن قریب ہیں، اس […]
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا استحصال

اطلاعات ہیں کہ مالی خسارے کے باعث نئے مالی سال 2024، 25ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے، تاہم شدید مجبوری کے عالم میں 5 تا 10 فی صد اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے […]