کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

میری سروس کے آخری تین سال تمام تر مشکلات کے خلاف زندہ رہنے کی میری جد و جہد کا تسلسل تھے۔ مینگورہ کے ایک پرانے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص کی سربراہی میں کنٹریکٹر مافیا نے ہر ممکن طریقے سے میری مخالفت کی۔ چوں کہ وہ مجھ سے بے جا مفادات […]

ریاستِ سوات کی افواج کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) فوج ریاست کی قوت کا بنیادی ذریعہ اور طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ بادشاہ صاحب (میانگل عبدالودود) بھی مستقل اور باقاعدہ فوج کے قیام میں خصوصی دل چسپی رکھتے تھے، لیکن انھیں عبد الجبار […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]

ریاستِ سوات کی سول تنظیم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]

سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]

ریاستی دور، سوات سنیما اور ودودیہ سکول کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جناب نعیم اختر کی ایک پوسٹ سے شہ پاکر آپ سے چند یادیں شیئر کرتا چلوں، جس میں اُنھوں نے سوات کے ایک مایہ ناز آرٹسٹ مراد کا ذکر کیا تھا، جو سنیما کے لیے سائن بورڈ بناتے تھے۔ خاص کر نئی فلم کے بارے میں مختلف سائز کے بورڈ تیار کرتے تھے۔جیسا کہ نعیم […]

تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے […]

خونہ چم کا تاریخی چشمہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں

٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]

امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

Swat State by Blogger Fazal Raziq Shahaab

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

سفید محل (وائٹ پیلس) سے جڑی یادیں

White Palace

2 9 اکتوبر کو بعد از دوپہر ابوہا سے چلے سوئے مرغزار۔ کئی سال بعد اس سحر آنگیز گوشۂ عافیت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں چند لمحے گزار کر عہدِ گذشتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ کچھ ماضی کی جھلکیاں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

ماضی کی پوٹلی سے

Fazal Raziq Shahaab

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]

ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]

سوات کے 1975ء کے ایک رقت انگیز مشاعرے کی روداد

Fazl e Mahmood

ماسٹر محمد جان لوہارؔ کے فرزندِ ارجمند بخت سلیمان شہاب کی یاد میں 1975ء میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا ،جس کی صدارت سوات کے نامی گرامی شاعر خانے قصاب نے کی تھی۔ مہمانِ خصوصی پاکستان نیشنل سنٹر مینگورہ اے آر ڈی عنایت اللہ خان تھے۔ سٹیج سیکرٹری رحیم شاہ رحیمؔ تھے۔ اس مشاعرے کا […]

حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

Fazal Raziq Shahaab

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]

علامہ نورالاسلام (فلائنگ کوچ مولوی صیب)

Comrade Amjad Ali Sahaab

آج سے 22 یا 23 سال قبل نمازِ تراویح پڑھنے کے لیے ہمیں ’’محمد رحمان مسجد‘‘ (زڑہ ڈاکخانہ، مینگورہ) جانا پڑتا تھا، جہاں ’’فلائنگ کوچ مولوی صیب‘‘ محض 17، 18 منٹ کے دورانیے میں مختصر تراویح کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ بلا کے خوش طبع تھے لیکن رُکیے، اُن کے بارے میں کچھ رقم کرنے […]

محمد افضل خان لالا کی یاد میں

Fazl e Mahmood Rokhan

سوات بلکہ پورے پاکستان میں محمد افضل خان ’’خان لالا‘‘ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہین۔ وہ اپنے نام کے ساتھ خان نہیں لکھتے تھے۔ گو کہ وہ سوات کے نامی گرامی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنا نام صرف ’’محمد افضل‘‘ لکھا کرتے تھے۔ فضل محمود روخان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:  https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]

افسر آباد کی کچھ یادیں

Afsar Abad Saidu Sharif

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]