کلال بابا

ہمارے گھر جس زمین پر سڑک کے کنارے بنے ہیں، یہ ہمارے پرکھوں کی ملکیت تھی اور سامنے والے پہاڑ کے دامن تک پھیلی ہوئی تھی۔ پھر میانگل عبدالودود بادشاہِ سوات نے اس کے درمیان سے سڑک گزاری۔ اس کی وجہ سے زمین کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
ولی عہد میانگل اورنگزیب (مرحوم) سے وابستہ کچھ یادیں

آج جب مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، 3 اگست ہے، جو ریاستِ سوات کے ولی عہد میانگل اورنگزیب کا یومِ وفات ہے۔ اُن کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ کئی ڈاکیومینٹریز اُس سدا بہار شخصیت کے بارے میں ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر […]
توپوں کی صفائی اور پریڈ کے نہ بھولنے والے دن

بچپن میں ہم ہفتے کے دو دن بہت خوش رہتے۔ ایک دن توپوں کی صفائی کا اور دوسرا رسالے، بگلرز اور مشین گن دستے کی مشترکہ پریڈ کا۔ توپ خانے کے کمان افسر عبدالحنان ہمارے پڑوسی تھے اور ہمیں اپنے بیٹوں اسفندیار اور اختر حسین کی طرح پیار کرتے تھے۔ صفائی کے مقررہ روز ہم […]
وادئی چغرزئی (بونیر) سے وابستہ چند یادیں

1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد بھی چغرزئی کا پورا علاقہ کئی سال تک سڑک سے محروم رہا۔ ریاستی دور میں بدال تک ایک کچی سڑک بنی ہوئی تھی، جو اُسی دور میں تعمیر شدہ سٹیٹ ڈسپنسری بدال کے قریب ختم ہوجاتی تھی۔ آگے چغرزئ کے مختلف دروں اور دیہاتوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل […]
سوات ہوٹل

’’سوات ہوٹل ‘‘، جسے اَب ’’سوات سیرینہ ہوٹل‘‘ کے نام سے پہچانا اور یاد کیا جاتا ہے، ریاستِ سوات کے دور میں میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کے دورِ حکم رانی میں سرکاری ہوٹل کے طور پر وجود میں آیا۔ سرکاری ہوٹل میں تبدیل کرنے یا سرکاری ہوٹل قرار دینے سے قبل اس […]
بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]
یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]
میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]
ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]
60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]
5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]
ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]