ناول ’’درخت نشین‘‘ کا مختصر جائزہ

تبصرہ: سفینہ بیگم قارئین! دو سال قبل یہ ناول پڑھا تھا، لیکن وہ میری ذاتی کاپی نہیں تھی۔ اجمل کمال صاحب کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر پوسٹ دیکھ کر ناول کو خریدنے کا ارادہ کیا، لیکن پیاری بہن نرگس حور نے یہ خوب صورت کتاب تحفے میں بھیج دی، تو دل […]
ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ کا ترجمہ کیسے ہوا؟

تحریر: محمد زبیر یونس آج کل میرے زیرِ مطالعہ ’’کوشلیہ کمار سنگھے‘‘ کا ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ ہے جس کا شان دار ترجمہ ’’آج‘‘ رسالے کے بانی ’’اجمل کمال صاحب‘‘ نے کیا ہے۔ یوں تو ناول بہترین ہے، مگر ناول سے پہلے اجمل کمال کے قلم سے مصنف کے تعارف اور ترجمہ […]
خوش ونت سنگھ کا ناول ’’دلی‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کنول اقبال جب برصغیر کی بات آتی ہے، تو یہ سوچ کر دل کو تسلی نہیں دی جا سکتی کہ یہ محض کہانی ہے۔ فرضی کرداروں کے ساتھ قاری کے تخیل کی دنیا وسیع ہوتی ہے، وہ جیسا چاہے سوچتا رہے، لیکن ایسے کردار جو کبھی موجود تھے، اُنھیں پڑھتے وقت دل ہچکولے کھاتا […]
اُردو فکشن کے دیوتا، شوکت صدیقی

کامریڈ تنویر احمد خان (لاہور) نے مجھے شوکت صدیقی سے متعارف کرایا۔ اُن کے گھر کا پتا دیا اور لینڈ لائن فون نمبر بھی۔ شوکت صدیقی صاحب سے خط و کتابت شروع ہوگئی اور کبھی کبھار فون پر بھی بات ہونے لگی۔ بہت ملن سار، سنجیدہ، دبنگ اور انسان دوست شخصیت تھے۔ اُن کی تحریروں […]
لیو ٹالسٹائی کے ناول ’’اینا کریننا‘‘ کا جدید ایڈیشن

تبصرہ: امر شاہد ’’یہ ناول…… اور مَیں اِسے ناول ہی کہنا چاہتا ہوں…… یہ میری زندگی کا پہلا ناول ہے، جو میری رُوح پر چھا گیا ہے اور مَیں پوری طرح اس کی رو میں بہہ گیا ہوں۔ باوجود اس کے کہ اس بہار میں فلسفیانہ مسائل نے مجھے بہت ہی مصروف کر رکھا ہے۔ […]
کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]
زاہدہ حنا کے ناولٹ ’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ کا تنقیدی جائزہ

1996ء میں لکھا گیا یہ وہ ناولٹ ہے جو زاہدہ حنا کے افسانوی مجموعے ’’راہ میں اجل ہے‘‘ میں شامل ہے…… مگر اسے افسانوں سے علاحدہ ’’ناولٹ‘‘ ہی کی حیثیت دے کر باعزت مقام عطا کیا گیا ہے۔ زاہدہ حنا کے بارے میں ادیب سہیل صاحب لکھتے ہیں: ’’زاہدہ حنا کی تحریروں کا خمیر بغاوت، […]
الکیمسٹ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: طیبا سید یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک ویران چرچ سے جس کی چھت گرچکی ہوتی ہے…… اور وہاں ایک شامی انجیر نشو و نما پاتے ہوئے ایک بڑے درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ ایک ہسپانوی چرواہا ’’سینتیاگو‘‘ اپنی بھیڑوں کے ساتھ رات گزارنے کا ارادہ کرتا ہے۔ سینتیاگو کے والدین ایک […]
جارج آرویل کا ناول ’’1984‘‘ (تبصرہ)

جارج آرویل 25 جون 1903ء میں بنگال کے شیر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدایش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہوگیا۔ 1922ء سے 1927ء تک جارج آرویل (George Orwell) نے برما میں پولیس میں ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر سپین چلا گیا، جہاں سے اُس […]
لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’اعتراف‘‘ اور ہم

تبصرہ: ایڈوکیٹ ابوبکر گجر کتاب ’’اعتراف‘‘ کا آغاز لیو ٹالسٹائی نے 1879ء میں کیا، جب وہ عالمی شہرت یافتہ مصنف بن چکا تھا۔ اُس وقت لیو کی عمر 55 سال تھی۔ اس کا ناول ’’وار اینڈ پیس‘‘ دنیا میں اس موضوع پر سب سے مقبول ناول بنا، جو آج تک ہے۔ شہرت ملنے کے باوجود […]
انگریزی ناول ’’دا نوٹ بک‘‘ سے ترجمہ شدہ اقتباسات

ترجمہ: رومانیہ نور ’’دا نوٹ بک‘‘ (The Notebook) امریکی ناول نگار ’’نکولس سپارکس‘‘ (Nicholas Sparks) کا 1996ء میں شائع ہونے والا رومانوی ناول ہے، جس نے پہلے ہی ہفتے میں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے سب سے زیاد ہ بکنے والے ناولوں کی فہرست میں جگہ بنالی۔ یہ ناول دو مرکزی کرداروں ’’ایلی‘‘ اور ’’نووا‘‘ کی دہائیوں […]
مشہورِ زمانہ ناول ’’اینمل فارم‘‘ (تبصرہ)

تحریر: انیس رئیس انسان اور جانور جنم جنم کے ساتھی ہونے کے باوجودکہیں ایک دوسرے کے رقیب نظر آتے ہیں، تو کہیں ان دونوں کی ایک دوسرے سے دشمنی جان لیوا حد تک خطرناک ہوجاتی ہے۔ ایک طرف اشرف المخلوقات کا عقیدہ انسان کو دیگر تمام چرندوں، پرندوں اور خزندوں سے برتر قرار دیتا ہے، […]
جاپانی ناول ’’کچن‘‘ پر مختصر سا تبصرہ

تبصرہ: محمد محی الدین شاہ ’’کچن‘‘ جدید جاپانی ادب کا مقبول ترین ناول ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ خرم سہیل نے کیا ہے۔ اس مقبول ناول ’’کچن‘‘ کی ناول نگار ’’بانانا یوشی موتو‘‘ کا تعلق جاپان سے ہے، جہاں ناول تخلیق کرنے والے کئی بڑے نام پیدا ہوئے، جن میں 2 نوبیل انعام یافتہ ناول […]