مینگورہ شہر سے وابستہ یادیں

Blogger Sajid Aman

مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ایک تصویر دی ہے جس میں لنڈیکس مینگورہ حاجی رسول خان صاحب کور، ایلم ہوٹل کے درمیان والا پل، لنڈیکس باغیچہ، فارم (حالیہ ہاکی سٹیڈیم)، کانٹی نینٹل ہوٹل جہاں بنا ہے وہ دھوبی گھاٹ نمایاں ہیں۔ اُس دور میں ’’ہالی ڈے ہوٹل‘‘ کے عقب میں فارم شروع ہوتا […]

جہانزیب کالج میں میرا پہلا دن

Blogger Sajid Aman

جب بھی کبھی جہانزیب کالج کے سامنے سے گزرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی قبر کے سامنے سے گزر رہا ہوں۔ دراصل بچپن سے جہانزیب کالج کا ایک رعب مجھ پر قائم رہا۔ والد (مرحوم)، چچا، ماموں اور جس کو بھی مَیں جانتا تھا، جہانزیب کالج سے گریجویشن کرچکے تھے۔ […]

’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ مارخوڑلے دَ پڑی نہ یریگی

Blogger Fazal Raziq Shahaab

’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ کی طرح کسی بھی آپریشن کی بات چلتی ہے، تو ہم سواتیوں کے دل اور روح کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں۔ جس ذلالت اور بے چارگی سے ہم لوگوں نے وہ مہاجرت کا وقت گزارا، اللہ کسی کافر کو بھی نہ دکھائے۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

اورنگ زیب ایڈوکیٹ کی خدمات

Blogger Sajid Aman

آپ فون کریں یا کہیں ملاقات ہو، انتہائی خلوص، محبت اور احترام سے جواب آئے اور وہ کسی بھی وقت، کسی بھی حالات میں، تو ایسا بڑا پن کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ کو جب غصہ آتا ہے، تو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیتے ہیں۔ وہ شہر کا ایک […]

آر پی اُو ملاکنڈ ریجن محمد علی خان گنڈاپور کے نام کھلا خط

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

محترم محمد علی خان گنڈاپور (ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ریجن)، اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔ محترم! یہ کھلا خط جو آپ پڑھنے جا رہے ہیں، اس سے پہلے محترم ڈاکٹر زاہد اللہ خان (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر) کے نام روزنامہ آزادی کے ان صفحات کی زینت بنایا جاچکا ہے، جسے بدقسمتی سے […]

محمد غفار المعروف مسٹر طوطا

Blogger Sajid Aman

کہتے ہیں بہت ترقی ہوگئی، کیا کیا ایجاد ہوگیا…… ٹرانسسٹر سے تھری ڈی، کسب گر سے آئی فون، تانگے سے فورتھ جنریشن طیارے، و علی ہذا القیاس۔ ویسے اتفاق سے اس ترقی میں ہمارے معاشرے کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے بھروسے ہوتے، تو صبح نتھنے کالے ہی ہوتے اب تک اور گورے انگریز کالے نتھنوں […]

سانحۂ مدین اور زمینی حقائق

Journalist Fayaz Zafar

سوات میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کے الزام میں قتل ہونے والے سیالکوٹ کے سیاح کے بارے میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا کوئی واضح ثبوت نہ مل سکا۔ حالاں کہ ہم جمعے کا پورا دن مدین میں گزارا۔ ہوٹل مالک کے مطابق سلیمان نامی شخص 18 جون کو […]

اہلِ سوات کی آنکھیں کھلنے میں دیر لگتی ہے

Blogger Zubair Torwali

جب 1992ء میں ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات کو صوفی محمد نے اپنی تحریک برائے نفاذِ شریعت کا مرکز بنایا، تو بڑی تعددا میں لوگوں نے اس کا ساتھ دیا۔ وہ سال میں ہر موسمِ گرما کو اُس وقت سوات آنے والی واحد سڑک کو ملاکنڈ ٹاپ پر بلاک کردیتے۔ ہر سال اُن کی تحریک […]

توہینِ مذہب اور آئین و قانون

Blogger Advocate Muhammad Riaz

ضلع سوات کے علاقہ مدین میں مشتعل ہجوم نے توہینِ قرآن کا الزام لگا کر سیالکوٹ کے ایک سیاح کو پولیس کی تحویل سے زبردستی نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا۔ سوشل میڈیا کی وساطت سے منظرِ عام آنے والی ہول ناک ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے مشتعل […]

سوات، قرآنِ مجید کی مبینہ بے حرمتی، ایک قتل، تھانا اور گاڑیاں نذرِ آتش

سوات، قرآنِ مجید کی مبینہ بے حرمتی، ایک قتل، تھانا اور گاڑیاں نذرِ آتش

(خصوصی رپورٹ) سوات کے علاقہ مدین میں مبینہ طور پر قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے پر مشتعل لوگوں نے ایک شخص کو پولیس اسٹیشن کے اندر قتل کرکے پولیس تھانے اور موبائل کو آگ لگا دی۔ فیاض ظفر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fayaz-zafar/ مقامی افراد […]

اکرم استاد صاحب

Blogger Sajid Aman

مینگورہ شہر میں جب تعلیم کا شعور دوسری بار اُجاگر ہوا، تو اس میں مادیت نمایاں تھی۔ سائنس کی مدد سے ڈاکٹر بننا، ورنہ انجینئر بننا تو طے تھا…… اور جس نے نہیں پڑھنا، یا گھر والوں کو زیادہ معلومات نہیں تھی، وہ آرٹس لینے لگے۔ پھر سب سے بڑا معرکہ دسویں کا امتحان اچھے […]

ریاستِ سوات کی سول تنظیم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]

سوات کی تاریخ مسخ کی جا رہی ہے

Blogger Fazal Raizq Shahaab

مَیں کوئی محقق ہوں نہ مورخ…… مگر اتنا دعوا ضرور کرتا ہوں کہ مجھے غیر متنازع، مستند اور تسلیم شدہ مورخین سے استفادہ کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اُن سے گھنٹوں پر محیط بامقصد گفت گو کا موقع ملا ہے۔ شکر ہے کہ سوات کے بارے میں اُن عظیم مورخین کی کاوشیں کتابی صورت میں […]

میانگل عدنان اورنگ زیب سے وابستہ یادیں

Blogger Fazal Raizq Shahaab

28 مئی 2022ء کی صبح مجھے محترم عمر حیات میاں نے اطلاع دی کہ شہزادہ عدنان اورنگ زیب جو عوام میں ’’عدنان باچا‘‘ کے نام سے مقبول تھے، اسلام آباد سے آرہے ہیں۔ وہ پانچ دس منٹ کے لیے مجھ سے ابوہا میں ملاقات کریں گے۔ مَیں نے معزز شخصیت کی آمد کے پیشِ نظر […]

ڈاکٹر محمد عارف، ایک عہد کا نام

Blogger Sajid Aman

مشہور ہے کہ جب مینگورہ سوات میں والدین خواب دیکھتے، تو دیکھتے کہ اُن کے بچے ڈاکٹر عارف صاحب کی طرح بن گئے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک سرجن ڈاکٹر عارف صاحب مینگورہ کے لوگوں پر ایک سحر کی طرح طاری رہے۔ آپ اُنھیں ایک ’’ہیرو‘‘ کَہ لیں، ’’بنچ مارک‘‘ کَہ لیں یا اُن کے […]

’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

Blogger Fazal Raziq Shahaab

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]

ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

Blogger Fazal Raziq Shahaab

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]

سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]

9 مئی، ذہن پر نقلِ مکانی کے اَن مٹ نقوش

Blogger Sajid Aman

گلبرگ کے ایک ہوٹل میں ایک رفیقِ کار کے ساتھ موجود تھا۔ ناشتے کا آرڈر دیا تھا۔ یوں ہی ٹی وی آن کیا، تو زمرد کان (سوات) پر شیلنگ اور آبادی خالی کرنے کے احکامات چل رہے تھے۔ اس طرح آبادی کے انخلا کی خبر کی تردید بھی گاہے گاہے آجاتی۔ مَیں نے رابطہ کرنا […]