کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘، غورہ خیل یوسفزئی چکیسر سابق ریاستِ سوات کے رہایشی تھے۔ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے فلک بوس پہاڑوں کے عقب تک ریاستِ سوات کی حدود پہنچنے لگیں، تو وہاں کے بہادر سپوتوں نے سیدو بابا کے احترام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور اپنی وفاداری پہلے باچا صاحب اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھارھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (سولھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (چودھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
مکان باغ مسجد، ریاستِ سوات اور قاضی حبیب الرحمان

1905ء میں جہاں مکان باغ مسجد موجود ہے، سپیروں کی ایک چھوٹی بستی تھی، جو چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھی۔ اسی بستی کو مکان باغ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ پشت پر باغ تھے اور اس علاقے میں واحد آبادی تھی، جو ہریالی اور پانی کے قریب تھی۔ یہ آبادی ایک طرح سے جنگل تھی، […]
قوم کا پیسا مَیں معاف نہیں کرسکتا (والئی سوات)

یہ نہایت خوش آیند بات ہے کہ اس سال پانچ جون کو مرحوم والیِ سوات میاں گل جہان زیب کا یومِ ولادت شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل اُس طلسماتی شخصیت کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کے ادغام پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود […]
ریاستِ سوات کی سول تنظیم

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]
ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]
سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]
ریاستِ سوات کے الحاق بارے نیا شوشا

اچھا جناب……! عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘ فضل […]
دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]
عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں

6 مئی 2020ء کے ایک بہت ہی تھکا دینے والے دن عین نمازِ عصر کی اذان کے ساتھ عجب خان حاجی صاحب نے اذان کا جواب دینا اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اذان ختم ہوئی اور حاجی صاحب خاموش ہوگئے۔ فوراً رحمان اللہ بابو صاحب کو بلایا گیا، وہ لمحوں کے حساب سے پہنچے […]
ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]
ریاستِ سوات کی سرکاری زبان بارے ایک ضروری وضاحت

مَیں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر ایک پوسٹ انگریزی میں پیش کی تھی، جس کا اُردو ترجمہ یہاں ملاحظہ ہو: ریاستِ سوات کی سرکاری زبان پشتو تھی۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے…… مگر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ریاست کی عدالتی زبان پشتو تھی۔ والئی سوات کے تمام فرامین […]
والئی سوات کے پرائیویٹ سیکرٹری پردل خان لالا

بیورو کریسی چاہے پاکستان جیسے بڑے ملک کی ہو، یا سوات کی مختصر سی ریاست کی۔ کئی مشترک قدریں رکھتی ہے۔ مثلاً: ’’کرپشن۔‘‘ یہ ضروری نہیں کہ سول اور ملٹری بیورو کریسی "As a whole” بدعنوانی میں ملوث ہو۔ وہ جو کہتے ہیں: ’’ہر بیشہ گمان مبر کہ خالی است، شاید کہ پلنگ خفتہ باشد۔‘‘ […]