پروفیسر خواجہ عثمان علی کی آمد اور کچھ پرانی یادیں

ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا […]
فتنۂ قادیانیت اور لڑکپن کی یادیں

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔ 1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے […]
افسر آباد (سیدو شریف) سے جڑی یادیں

ہمارے افسر آباد میں اکثر پڑوسی بدلتے رہے، مگر ایک ہم تھے کہ آخری حویلی کی مسماری تک وہیں پر رہے۔ اُس کے بعد بھی افسر آباد سے نہ نکل سکے۔ وہیں پر سڑک کنارے جدید طرز کے 4 بنگلوں کے بلاک میں سے ایک میں شفٹ ہوگئے۔ اُسی میں 14 سال مزید گزارے اور […]
بزوگر حاجی صاحب

ہمارے یہاں سوات میں کئی بزرگوں کے نام ایسے ہیں، جنھیں سن کر عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے ناموں میں خچن، چڑی، بدے، خڑے اور ہمارے دادا (مرحوم) کا نام ’’بزوگر‘‘ شامل ہیں۔ اولاد اچھی ہو، تو صدقۂ جاریہ کے مصداق والدین کے لیے دعاؤں کا ذریعہ بنتی ہے۔ بری ہو، تو اولاد کے […]
ریاست سوات دور کا شگئی سکول

شگئ سکول سیدو شریف کے ساتھ ہماری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ مرغزار روڈ کے کنارے ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے ۔ 1949ء کے ابتدا میں ودودیہ ہائی سکول کے پرائمری بلاک میں مختصر مدت کے بعد ہم کو اس نئے تعمیر شدہ سکول میں منتقل کیا گیا۔ یہاں پر ہمارے اولین […]
ریاستی دور، سوات سنیما اور ودودیہ سکول کی یادیں

جناب نعیم اختر کی ایک پوسٹ سے شہ پاکر آپ سے چند یادیں شیئر کرتا چلوں، جس میں اُنھوں نے سوات کے ایک مایہ ناز آرٹسٹ مراد کا ذکر کیا تھا، جو سنیما کے لیے سائن بورڈ بناتے تھے۔ خاص کر نئی فلم کے بارے میں مختلف سائز کے بورڈ تیار کرتے تھے۔جیسا کہ نعیم […]
سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر (دوسرا حصہ)

سوات پی ڈبلیو ڈی کے کچھ امتیازی پہلو یہ بھی ہیں کہ اس کی سپریم اتھارٹی والئی سوات خود تھے۔محکمے کے سربراہ محمد کریم صاحب اور حکم ران کے درمیان براہِ راست رابطہ رہتا تھا۔ والئی سوات اس محکمے کو ’’اپنا محکمہ‘‘ کہتے تھے۔ محمد کریم صاحب، ڈائریکٹر تعلیم سید یوسف علی شاہ اور ڈائریکٹر […]
سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر

قرائین سے پتا چلتا ہے کہ باچا صاحب میاں گل عبدالودود کے عہد میں بعض محکموں کے واضح خدوخال نہیں تھے۔ فوج ابتدا ہی سے تعمیری سرگرمیوں میں مصروفِ عمل تھی۔ مثال کے طور پر قلعوں کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع، پلوں وغیرہ کی تعمیر میں فوج ہی سے لیبر کا کام لیا جاتا تھا۔ […]
تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ

جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے […]
خونہ چم کا تاریخی چشمہ

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
یادوں کی پوٹلی سے

سرِ دست اہل دانش سے ایک سوال ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کروں کہ مَیں ذات پات کے حوالے سے قرآنی رہنمائی کا قائل ہوں کہ شعوب و قبائل صرف پہچان کے لیے ہیں…… اور اکرام صرف اعمال و تقوا کی بنیاد پر ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]
سوات میں کسی خان یا پختون کو بادشاہ کیوں نہیں بنوایا گیا؟

کئی سالوں سے عام لوگوں اور تحقیق کرنے والے طلبہ کی طرف سے اس سوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یا بار بار یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ سوات میں بڑے بڑے اور طاقت ور یوسف زی خوانین موجود تھے، تو ضرورت پڑنے پر اُنھوں نے اپنے میں سے کسی کو سوات […]
عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں
٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]
امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]
سفید محل (وائٹ پیلس) سے جڑی یادیں

2 9 اکتوبر کو بعد از دوپہر ابوہا سے چلے سوئے مرغزار۔ کئی سال بعد اس سحر آنگیز گوشۂ عافیت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں چند لمحے گزار کر عہدِ گذشتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ کچھ ماضی کی جھلکیاں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
ماضی کی پوٹلی سے

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]
ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]
حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]
تاریخی ’’گیمن کمپنی‘‘ کا ریاستِ سوات میں کام

آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: […]
چکیسر سے جڑی چند یادیں

سنہ 1962، 63ء کی بات ہے۔چکیسر میں ایک شادی کے موقع پر رات کو رقص اور موسیقی کا پروگرام تھا، جو کھلی جگہ میں ہورہا تھا۔ چند معزز صاحبان تو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔باقی سب لوگ کثیر تعداد میں دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ مَیں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ نسبتاً ایک نیم تاریک […]
وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]