ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب)

مترجم: محمد فیصل (کراچی) اُن دنوں میرے دادا مجھے ساتھ لیے دریا کی جانب چل پڑتے اور اپنی چھوٹی سی کشتی جسے وہ ’’کونچو‘‘ کہتے تھے، میں مجھے بھی بٹھا لیتے۔ وہ بہت آہستگی سے چپو چلاتے۔ چپو شاید ہی لہروں سے ٹکراتے۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پانی کے اوپر ہی اُنھیں […]
دو جنرل اور ایک عام آدمی (روسی ادب)

ترجمہ: ظ انصاری (19ویں صدی کے روسی ادیب ’’میخائیل سلتی کوف شیدرن‘‘ کی تحریر جسے 1962ء میں ظ۔ انصاری نے اُردو کے قالب میں ڈھالا) کہتے ہیں کسی زمانے میں دو جنرل تھے ۔ دونوں تھے بڑے من موجی۔ دونوں نے ساری عمر دفتروں میں کام کیا تھا۔ اُنھیں سوائے حکم دینے کے اور کچھ […]
ناول ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ کی کہانی، مصنف کی زبانی

انتخاب: احمد بلال مَیں جب اپنا ناول ’’برف‘‘ (’’جہاں برف رہتی ہے‘‘، اُردو ترجمہ) لکھنے کی تیاری کر رہا تھا، تو مَیں نے ترکی کے جنوب مشرق میں واقع شہر ’’کاز‘‘ کے کئی چکر لگائے۔ میرا یہ ناول ظاہری طور پر دوسرے ناولوں کی نسبت زیادہ سیاسی ہے۔ ’’کاز‘‘ کے باسی چوں کہ نیک دل […]
علم و عقل

جب عقل تمھیں اپنی طرف پکارے، تو اُس کی بات دھیان سے سنو۔ اُس کی بات سن کر اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کرلو۔ کیوں کہ اللہ تعالا نے عقل سے بڑھ کر کوئی رہنما پیدا نہیں کیا اور نہ عقل سے بڑھ کر کوئی زیادہ موثر ہتھیار ہے۔ جس وقت عقل تمھارے دل […]
ناول ’’باپ اور بیٹے‘‘ (تبصرہ)
تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے اکبر اِلہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوب صورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہ کار ناول […]
ناول ’’زوربا یونانی‘‘ پر اِک نظر

تبصرہ: راجا قاسم محمود ’’نیکوس کینزنزاکیس‘‘ (Nikos Kazantzakis) یونانی ناول نگار تھے۔ اُن کی پیدایش سلطنتِ عثمانیہ میں ہوئی۔ اُن کی زندگی میں ہی یہ سلطنت ختم ہوئی۔ ’’زوربا دی گریک‘‘ (Zorba the Greek) ناول سے اُن کو شہرت ملی۔ اس ناول پر بعد میں ہالی ووڈ میں فلم بھی بنی۔ یہ ناول یونانی زبان […]
دیوانوں کی ڈائریاں (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز عالمی ادب کے مصنفین کی کتب پڑھنے اور اُن کے فلسفیانہ خیالات سے واقفیت بڑھانے کا بہترین موقع ہمیں تراجم کی صورت میں میسر آتا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ جب ہم جیسے قارئین، جو اس میدان میں نئے ہیں، میں عالمی تراجم پڑھنے کا شوق جاگتا […]
شاعر کا انجام (ٹیگور کے رومانوی افسانے کا ترجمہ)

ترجمہ: مجید امجد بادشاہ رائین کے درباری شاعرنے ابھی شہزادی اجیتا کو نہیں دیکھا تھا۔ ایک دن جب اُس نے مہاراج کے حضور میں اپنی نئی نظم پڑھی، اس نے اپنی آواز کو کسی قدر بلند رکھا۔ تاکہ ہال کے اوپر محجب چھجے کے اندر بیٹھنے والوں کے کانوں کو اس کی آواز سنائی دے […]
دربارِ خداوندی میں (مصری ادب)

انتخاب: افتخار شفیع دریائے نیل کے قریب ایک غیر آباد علاقہ میں ایک پاک باز انسان کی انوکھی دنیا سارے جہاں سے الگ تھلگ تھی۔ اُس مقدس اور پاک باز انسان کی زندگی کا بیش تر حصہ عبادت اور ریاضت میں گزرتا تھا۔ وہ ایک ایسا پاک باز انسان تھا کہ لوگ اُسے انسان کے […]
جہاں گرد کی واپسی (تبصرہ)

تجزیہ: سدرہ افضل ’’اوڈیسی‘‘ جسے محمد سلیم الرحمان نے ’’جہان گرد کی واپسی‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے، ہومر کی رزمیہ نظم ہے۔ اس کے پس منظر میں تروئے کی دس سالہ جنگ ہے، جسے ہومر نے ’’ایلیڈ‘‘ کے نام سے 550 قبلِ مسیح میں نظم کیا۔ ٭ ہومر کون تھا؟ خود اہلِ یونان […]
گوشت (برازیلی ادب)

مترجم: محمد فیصل (کراچی) کیوں کہ اُس کی سال گرہ تھی، لہٰذا وہ لڑکا اپنی خواہش ظا ہر کر سکتا تھا۔ ویسے بھی اُس کی زندگی میں خواہشیں کرنے کی گنجایش کم ہی تھی۔ اُسے کھلونے نہیں چاہئیں، وہ بس روز چاول اور لوبیا کھاکھا کر تھک چکا تھا۔ اُس کے والد نے اُسے یاد […]
زمانۂ جاہلیت کے ایک شاعر کا اپنی محبوبہ کے نام قصیدہ

تحریر: شاہد انصاری عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات کی لکھی ہوئی کتاب بنام ’’تاریخِ ادبِ عربی‘‘ کا مطالعہ کرنے سے زمانۂ جاہلیت کے اہلِ عرب کی مثبت زندگی کا مختصر پہلو ہاتھ آتا ہے۔ زہے عشق زہے خوبی ہوئی رخصت یہ محبوبی اٹھا گھونگٹ تو حق دیکھا، ازل عشقا ابد عشقا زمانۂ جاہلیت […]
اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی

تبصرہ نگار: فرخ سہیل گوئندی زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی‘‘ دو یہودی مصنفین کی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے۔ یہ جناب اسرائیل شحاک اور نارٹن میزونسکی کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسرائیل شحاک پولینڈ میں اپنی والدہ کے ہم راہ ایک نازی کیمپ صرف اس بنیاد پر قید کردیے گئے کہ وہ یہودی […]
ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیملیٹ‘‘ کا اُردو ترجمہ

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز شہرت یافتہ لکھاری کی لکھی کوئی بھی تصنیف، چاہے وہ عام ہو یا خاص، ہمیشہ شہرت یافتہ کہلاتی ہے۔ اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت شیکسپیئر کا ڈراما ’’ہیلمیٹ‘‘ ہے۔ مَیں واضح کرنا چاہوں گی کہ مَیں لکھاری یا اس کی تصنیف پہ سوال نہیں داغ رہی، بلکہ کتاب کے ترجمے کے […]
ننھا شہزادہ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز ’’ننھا شہزادہ‘‘ بڑے آدمی کے نام بچوں کے مزاج پر مبنی چھوٹی مگر بڑی کتاب ہے۔ قارئین! آج بھی کہیں نہ کہیں انسان کے اندر ایک جیتا جاگتا بچہ پنہاں ہے، جو حساس مگر سنجیدہ ہے۔ سال ہا سال جب وہ اپنی عمر کی منزلیں طے کرتا ہے، تو اُس کے […]
ناول ’’درخت نشین‘‘ کا مختصر جائزہ

تبصرہ: سفینہ بیگم قارئین! دو سال قبل یہ ناول پڑھا تھا، لیکن وہ میری ذاتی کاپی نہیں تھی۔ اجمل کمال صاحب کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر پوسٹ دیکھ کر ناول کو خریدنے کا ارادہ کیا، لیکن پیاری بہن نرگس حور نے یہ خوب صورت کتاب تحفے میں بھیج دی، تو دل […]
کافکا کے افسانے (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز کھبی کسی چوہے کی زبانی زندگی کے متعلق حیران کر دینے والا فلسفہ سنا ہے……؟ افسوس……! چوہے نے کہا۔ دنیا روز بہ روز چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ شروع شروع میں یہ اتنی بڑی تھی کہ مجھے خوف آتا تھا۔ مَیں بھاگتا رہا، بھاگتا رہا…… اور جب آخرِکار مجھ کو دور پر […]
ناروے کی لوک کہانیاں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: منیر فراز ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ صاحبہ نے اپنی ترجمہ کی ہوئی کتاب ’’ناروے کی لوک کہانیاں‘‘ بڑے خلوص و اہتمام کے ساتھ مجھے بھیجی ہے۔ یہ چند مہینوں میں اُن کی ترجمہ کی ہوئی دوسری کتاب ہے، جو غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے والوں کی ’’بُک شلف‘‘ کی زینت بنی […]
سورج مکھی (برازیلی ادب)

مترجم: محمد فیصل (ملتان) آسمان پر صبح کے آثار نمودار ہوچلے تھے۔ یوراگوئے کے اُس سرحدی گاؤں میں مقیم ’’فریڈریکو‘‘ کچی سڑک کے پار سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت کو گھور رہا تھا۔ اُس کے قیمتی جوتوں پر مٹی تھی یا ریت، اُسے اندازہ نہ تھا۔ ہاں! البتہ اس کی بیوی ’’لوئیسا‘‘ فوراً بتا […]
ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ کا ترجمہ کیسے ہوا؟

تحریر: محمد زبیر یونس آج کل میرے زیرِ مطالعہ ’’کوشلیہ کمار سنگھے‘‘ کا ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ ہے جس کا شان دار ترجمہ ’’آج‘‘ رسالے کے بانی ’’اجمل کمال صاحب‘‘ نے کیا ہے۔ یوں تو ناول بہترین ہے، مگر ناول سے پہلے اجمل کمال کے قلم سے مصنف کے تعارف اور ترجمہ […]
نظم ’’راکھ کی جنمی، سگریٹ کی بیٹی‘‘ کی شاعرہ

تحریر: ارسل بلوچ بیٹی کی جیت کیسی لگتی ہے؟ یہ تو وہی جانیں جنھیں یہ خوشی ملتی ہے۔ گذشتہ دنوں یہ خوشی ہمارے یارِ غار، عاصم علی شاہ کے حصے میں آئی اور اس کے صدقے اپنا دل بھی خوشی سے بھرگیا۔ کچھ عرصہ قبل مَیں نے اُس کی ایک نظم ترجمہ کی تھی جو […]