زیرِ زمیں معدنیات اور برسرِ زمیں ظلم

پچھلے کچھ مہینوں سے مکرر یہ عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ شمالی اور جنوبی علاقوں میں ’’سب اچھا‘‘ نہیں…… بلکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ’’کچھ بھی اچھا نہیں!‘‘ مجھے قطعاً خوشی نہیں ہوتی جب اس قسم کی باتوں کو دہراتا ہوں…… لیکن کیا کروں: ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا […]
کیا ریاستی ادارے ابلاغیاتی ناکامی کا شکار ہیں؟

گذشتہ کچھ مہینوں سے یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سب کچھ میڈیائی پابندیوں سے ممکن نہیں۔ اس لیے ملک کے شمال اور جنوب کے حوالے سے جو غیر علانیہ میڈیائی پالیسی اپنائی گئی ہے، وہ بری طرح فیل ہوچکی ہے۔ اب تو خیر باقی ملک کی بات بھی بدل سی گئی […]
پابندی نہیں، مکالمہ حل ہے

قارئین! ہٹلر کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔ جرمنی کا کسی زمانے میں مشہور آمر گزرا ہے۔ وہ ’’نازی پارٹی‘‘ کا سربراہ اور پھر جرمنی کے مطلق العنان حکم ران اور آخر میں جرمنی کے زوال کا ذمہ دار بھی تھا۔ اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک […]
سیاسی جنگ آر یا پار کے مدار میں داخل

پچھلے ہفتے کے آخری دِنوں جو کچھ ہوا، وہ انتہائی افسوس ناک ہے…… مگر حیران کن قطعاً نہیں۔ آخر 74 سال سے زائد کا تجربہ ہے کہ اس ملک میں ہر چیز داو پر ہے۔ اگر آپ اقتدار میں ہیں، تو کم زور حکومت بھی قبول، لیکن اقتدار ختم تو ریاستی استحکام بھی سوالیہ۔ اکرام […]
بدلتی دنیا اور ہم

عید کی مصروفیات سے فراغت ملی، تو کرنے کو کچھ ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کا خیال آیا۔ پھر کیا تھا فورا ہی موبائل فون نکالا اور چیٹ جی پی ٹی کھولا۔ جن قارئین کے لیے یہ لفظ نیا ہے، اُن کے لیے عرض ہے کہ یہ ایک نئی ٹیکنالوجی […]