علامہ اقبالؔ نے اپنے ایک خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ ’’تصوف عالم اسلام میں اجنبی پودا ہے۔‘‘
تصوف اسلام کے ابتدائی دنوں میں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تھا۔ مارٹن لِنگز اپنی کتاب (What is Sufism) میں لکھتے ہیں: ’’جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تصوف، مذہب سے آزاد ہے… وہ جزوی طور پر ایسا کرتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کے خیال میں تصوف کی عالم گیریت داو پر لگی ہے۔‘‘
یا ہم یوں بھی کَہ سکتے ہیں کہ تصوف کو ’’سیکولزائزڈ‘‘ کِیا جارہا ہے، تا کہ وہ باقی مذاہب اور اقوام کے لیے بھی قابلِ قبول ہو۔ یہاں یہ باریک واردات مستشرقین نے ڈالی اور رہی سہی کسر مذہبی اعتدال پسندوں نے پوری کی۔
اقبالؔ کے ہاں تصوف کے انکار کی ایک وجہ تو وہ ہوسکتی ہے، جو مارٹن نے بیان کی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اقبالؔ تصوف کو اسلام کا حصہ اس لیے نہیں سمجھتے تھے کہ اُن کی نظر میں یہ اسلامی تھیسز (Thesis) نہیں، بل کہ سنتھیسز (Synthesis) کا نتیجہ تھا، جس کے اوپر بڑا اثر ’’ہندوستانی یوگیوں‘‘ یا ’’نو افلاطونی سوچ‘‘ کا تھا۔
یہاں اقبالؔ اکیلے تصوف کی نفی نہیں کر رہے، بل کہ مذہبی بنیاد پرستوں کے ہاں بھی یہ ’’اینٹی اسلامک‘‘ اور بیرونی ساخت رکھتی ہے۔ مارکسسٹوں کے ہاں اگر مذہب ’’افیون‘‘ ہے، تو تصوف اس کا ’’ڈبل ڈوز۔‘‘ جب کہ لبرلز، ریاست کو مذہب سے الگ سمجھتے ہیں۔
پادریت اور چرچ نے پہلے ہی عیسائیت کے علمِ نجاتیات‘‘ (Soteriology) کو زخمی کیا تھا۔ اس لیے مغرب، تصوف سے ناآشنا ہے۔ آج تصوف کو مادیت کے دور میں مادیت ہی آنکھ سے دیکھا جا رہا ہے، جس سے تصوف واقعی ’’زمانے سے بیگانہ‘‘ (Anachronistic) ہی معلوم ہوتا ہے… جب کہ عہدِ وسطیٰ (Medieval) دور میں تصوف ہی نے اُس وقت کے ذہین دماغ کو متاثر کِیا تھا… اور آج عمومی راۓ یہ ہے کہ زندگی سے مایوس اور ناکام شخص ہی کا انتخاب تصوف ہوگا۔
’’اقبالیات‘‘ کے ایک ماہر نے تصوف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ لکھا ہے کہ تصوف، بے عملی، ترکِ دنیا، بے فکری اور نفیِ خود پیدا کرتی ہے۔ اس بات کی نفی اقبالؔ کا اپنا ہی ایک شعر کچھ یوں کرتی ہے:
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
دل یا قلب تصوف کی زبان میں وہ مرکز ہے، جس کی پاکیزگی سے انسان میں خدا پرستی پیدا ہوتی ہے۔ جب کہ یہاں آنکھ کے نور سے مراد "Sensuous Knowledge” ہے، جو تصوف میں سیکنڈری ہے۔
اقبالؔ کی شاعری ’’یورپ یاترا‘‘ کے بعد وطن اور تصوف کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے۔ وطن کے بارے میں اقبالؔ کہتے ہیں:
ان تازہ خداؤں میں وطن سب سے بڑا ہے
جب کہ تصوف کے بارے میں اُن کی راۓ منفی اس لیے ہوگئی تھی کہ اُن (اقبالؔ) کی نظر میں اسے ’’ویدانت‘‘ سے اخذ کِیا گیا تھا (ویدانت، ہندو فلسفے کا وہ مکتب ہے، جو نجات، حقیقتِ کائنات اور روح کے تعلق پر بحث کرتا ہے۔)
فلسفۂ ویدانت کو اقبالؔ ایک ’’سرد فکر‘‘ کہتے تھے۔ اقبال کے ہاں تصوف کی بہت ساری اصطلاحات ویدانت سے لی گئی ہیں… جیسے کہ ’’فن‘‘ اقبالؔ کے بہ قول ’’نِروان‘‘ ہی ہے… لیکن یہاں ایک تضاد جنم لیتا ہے، جب اقبالؔ، اسمائیلیوں کی ’’تمثیلی تفسیر‘‘ کی خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ اور اُن (اقبالؔ) کے بہ قول: یہی تمثیلت، تصوف کے پھیلاو کا سبب ہے۔
اقبالؔ جہاں ایک طرف تصوف کو ویدانت سے اور صوفیوں کو بھیڑ بکریوں سے تشبیہ دے رہے تھے، وہاں دوسری طرف نہ صرف شہاب الدین سہروردی کے قصیدے لکھے، بل کہ اُن کے مقتولین کو ’’اندھے‘‘ اور ’’جاہل مولوی‘‘ کَہ کر پکارا۔
اقبالؔ کے خیالات میں بڑی تبدیلی یورپ نے پیدا کی۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ’’یورپ نے مجھے مسلمان بنایا۔‘‘
یورپ جانے سے پہلے اقبالؔ اُردو میں لکھتے تھے، لیکن واپسی پر فارسی میں لکھنا شروع کیا۔ اقبالؔ کا فارسی کا انتخاب، شہاب احمد کی زبان میں Balkan to Bengal Complex کا نتیجہ ہوسکتا ہے… لیکن کولونیل دور میں لوکل زبان کا تنزل اور اس کی جگہ انگریزی کے استعمال سے یہ دعوا درست معلوم نہیں ہوتا۔ زیادہ امکانات ’’پان اسلامک آئیڈیا‘‘ کے فروغ ہی ہوسکتے ہیں۔
اقبالؔ ایک طرف فارسی کا انتخاب کرتے ہیں، تو دوسری طرف فارس (ایران) کو بھیڑ اور عرب کو شیر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اقبالؔ کے بہ قول، عرب شیر جیسے تھے، جنھوں نے فتوحات حاصل کیں اور اسلام کو پھیلایا، جب کہ فارس ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔
فارس پر اقبالؔ کی تنقید کی ایک وجہ اُن (اقبالؔ) کا تصوف کی طرف مائل ہونا ہے اور دوسری وجہ اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینا ہے۔ اقبالؔ نے فارس کے لیے ’’عجمیت‘‘ کی اصطلاح دوبارہ متعارف کی۔ اُن کے بہ قول، ’’صوفی ازم کو عجمی صوفی ازم کہا جاۓ۔‘‘ کیوں کہ زیادہ تر صوفیا کا تعلق ایران سے تھا۔ تصوف سے اقبالؔ کا جھگڑا نظریاتی بھی تھا۔
اقبال کا فلسفۂ خودی کا اور تصوف کا ’’فنا‘‘ کا تصور ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اقبال کا فلسفۂ خودی ایک جارحانہ سوچ ہے، جس کی پہچان سے انسان نہ صرف اپنے آپ، بل کہ پوری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔
کچھ سکالرز کے ہاں اقبالؔ کا یہ تصور دراصل نیطشے کا "übermensch” ہے… اور خودی اس کا صرف ایک ’’اسلامی لباس‘‘ ہے۔ اقبالؔ، نیطشے کو ’’مجذوب فرنگی‘‘ کہتا ہے۔ مجذوب خود ایک صوفی اصطلاح ہے۔ اقبالؔ اپنا خودی کا فلسفہ سب سے زیادہ ’’مسولینی‘‘ میں دیکھتا تھا۔ اُس کی شان میں ایک نظم بھی لکھی، لیکن جب مسولینی نے ایتھوپیا پہ حملہ کیا، تو اقبالؔ اُس کے خلاف ہوگۓ۔
اقبالؔ اسلامی فکر میں احمد سر ہندی کی طرف مائل ہیں۔ سر ہندی کا ’’وحدت الشہود‘‘، ابنِ عربی کے ’’وحدت الوجود‘‘ کے ردِعمل میں سامنے آیا تھا۔ حکم رانوں میں اقبالؔ، اورنگزیب کو ’’بت شکن‘‘ اور ’’بت کدے میں ابراہیم‘‘ سمجھتے تھے… جیسے کہ وہ اپنے ہی ایک شعر میں کہتے ہیں:
جدا ہو دیں سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی
لیکن چنگیز کا پوتا ’’تیمور‘‘ جو بربریت میں اپنے پر دادا سے کم نہیں تھا، اقبالؔ اُس کے مداح تھے۔ وہ مسلمانوں کو اکثر ’’ماتِ تیمور‘‘ (The Spirit of Taimur) بھی یاد دلاتے رہے۔
اپنے فلسفۂ خودی کے لیے اقبالؔ نے کئی بت تخلیق کیے اور کئی زمین پر پٹخ دیے۔ ’’وحدت الوجود‘‘ اقبالؔ کی نظر میں بدھ مت کا اثر ہے۔
افلاطون، اقبالؔ کی نظر میں اہلِ فارس جیسا ہی ایک بھیڑ ہے، جس نے انسانوں سے حقیقی دنیا چھپائی۔
اس طرح اقبالؔ کی افلاطون، ابنِ عربی اور باقی صوفیا پر تنقید کی وجہ ذکر شدہ لوگوں کا اپنی خودی کو نہ پہچاننا ہے اور ان کا فنا جیسے تصور پر اصرار تھا، جس نے خودی کو اور مفلوج کردیا۔
اقبالؔ خودی کی بلندی کی بات کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر خودی اتنی بلند ہو بھی گئی، تو انسان خدا کے پاس جائے گا کیوں…؟ ایک طرف اقبالؔ، ابنِ عربی کے لیے ’’زندیق‘‘ جیسی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، وہاں دوسری طرف منصور حلاج اور رومی کو تاج پہناتے ہیں۔
کچھ سکالر کے ہاں اقبالؔ کا رومی کی طرف معتدل رویہ دراصل اُن کا ’’وحدت الوجود‘‘ کے نہ اپنانے کی وجہ سے ہے۔ وہ صوفی اصطلاحات کا بھی برملا استعمال کرتے ہیں، جیسے: عشق، رِند، فقر، قلندر۔
اقبال کی تصوف پر تنقید دراصل نظریاتی ردِعمل ہی کی ایک صورت تھی۔ برصغیر میں جہاں ایک طرف حملہ آور آۓ، وہاں دوسری طرف صوفیا بھی آۓ… اور ان صوفیا ہی نے ایک متوازی ثقافت (Parallel Culture) کی بنیاد رکھ دی۔ اگر غزنوی آئے تھے، تو اُسی دور میں سید علی ہجویری بھی موجود تھے۔ علاؤالدین خلجی تھے، تو ساتھ خسرو بھی بھائ چارے کے گیت گا رہے تھے۔ جہاں اورنگزیب دکن پر چڑھائی کر رہے تھے، تو دارا بھی ویدانت پر لکھتے پائے گئے۔ ان صوفیا نے اسلام کو ہندوستان کی ثقافت میں ضم کیا۔ انھی کی وجہ سے ہندوستان کی ثقافت چلینج نہیں ہوئی، بل کہ اُسی رنگ میں رنگ گئی۔
دراصل تصوف تو بھائی چارے، امن اور محبت کا درس دیتا ہے… جس کی بڑی مثال میاں میر کا گولڈن ٹیمپل کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










