نوجوان کی عالمی تعریف کچھ یوں ہے: ’’نوجوان ایک ایسا فرد ہے جس کی عمر 15 تا 30 سال ہو۔‘‘ اس تعریف میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔
نوجوان کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شعبہ ہائے زندگی کے تمام افراد نوجوانوں سے امیدیں وابستہ کیے ہوتے ہیں۔نوجوانوں کا معاشرے کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ہے۔ ہم نے تو نوجوانوں کی پارٹیوں پر بوڑھوں کو عہدے دے رکھے۔ موت کی طرح سیاست کی بھی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ آزادکشمیر میں بچپن سے چند روایتی پارٹیوں کو دیکھتے آئے ہیں۔ آج تک ان پارٹیوں نے کسی نوجوان کو کوئی قابلِ قدر عہدہ عنایت نہیں فرمایا۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟گود سے گور تک چند افراد اور کچھ پارٹیوں میں ایک ہی فرد قابض رہے کیا یہ جمہوریت ہے؟
مسلم کانفرنس اور پی پی کے بعد ن لیگ اور پی ٹی آئی نے جنم لیا، مگر نوجوانوں کو ایک بار پھر دیوار سے لگاتے ہوئے ماضی کی طرح انہیں اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسے آپ نوجوانوں کا احساسِ کمتری سمجھیں، روایتی سیاست میں قدم رکھنے کے لیے روایتی سرمایہ کاری کی کمی…… یا غیر سیاسی پس منظر یا ان کی خداداد صلاحیتوں سے خوف زدگی یا بے توقیری…… یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
کشمیر میں پی ٹی آئی کی آمد پر نوجوان پھولے نہیں سمائے تھے۔ کچھ نے تو تاو دینے کے لیے موچھیں بھی بڑی کرلیں…… مگر نوجوانوں کے نام اور نوجوانوں کا نعرہ لگانے والے بھی انہیں شرمدہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ نے سابقہ روایتی سیاست دانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نوجوانوں کو پسِ پشت ڈال کر موروثیت اور سرمایہ داروں کو مسلط کیا۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں، تونوجوانوں کا کردارایک اٹل حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔ ہم محمد بن قاسم کی مثال تو دیتے کہ وہ 17 سال کی عمر میں سپہ سالا تھا…… مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نوجوان 17 سال کی عمر میں اس پریشانی میں مبتلا ہو تے ہیں کہ پڑھ کر کوئی نوکر ی بھی ملے گی یا نہیں؟ تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیں، ہر دور میں نوجوانوں کا کلیدی کردار آشکار ہوتا جائے گا۔ تاریخ کا شاید ہی کوئی صفحہ ایسا ہو جہاں پر کسی نہ کسی نوجوان کا تذکرہ موجود نہ ہو۔ آزادکشمیر کی سیاست میں نوجوانوں کو باہر رکھنے کے لیے نوجوان کُش حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سیاہ کاغذ پر سیاہ رنگ سے لکھی ہوئی ’’سیاہ ست‘‘ کی تاریک تاریخ ہے۔ تحریکِ پاکستان میں نوجوانوں کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ قایدِاعظم خود نوجوانوں کی جد و جہد کی بے پناہ تعریف کرتے تھے…… مگرا فسوس ہم نے قاید کو سوچوں سے نکال کر نوٹوں میں ڈال دیا ہے۔
اکیسویں صدی کی تمام بڑی تحریکوں میں نوجوانوں کاکردار اٹل حقیقت ہے۔ مجھے ذاتی حیثیت میں اس جملے پر انتہائی ہنسی آتی ہے کہ ملک کی ترقی میں نوجوان کا سہم کردار ہے۔ یہ ایک سیاسی نعرے کے علاہ کچھ بھی نہیں۔ ہم نوجوانوں سے چاپی کروا کر کہتے ہیں، ’’نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں۔‘‘ ہم نوجوانوں کا نعرہ لگا کر بعد میں بے یار و مددگار چھوڑ کر کرسی پربراجمان ہو جاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ آج کے نوجوان کل کے رہنما ہوں گے۔ واہ! اہلِ دانش کبھی آزاد کشمیر میں نوجوانوں کی حالتِ زار دیکھیں، تو یقین کریں آپ اپنے لکھے سارے فلسفے دریا ئے نیلم میں بہانا پسند کریں گے۔ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل نوکری کے لیے دفتر کے باہر اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری لیے میٹرک پاس سے نوکری کی درخواست منظور کر وانے کے لیے بیٹھا ہوگا۔ نوجوانوں کے بارے میں عالمی بھاشن کی طرف جاتے ہوئے مجھے افسوس ہو تا ہے۔ ہم ہر مسئلے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی بات کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں ہمیں کیوں بھول جاتی ہیں؟ اقوامِ متحدہ کے دنیا کی آبادی کے اعداد شمار کے تناظر میں اس وقت دنیا میں 15 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً 1.3 بلین ہے۔ ان میں سے تقریبا 01 بلین افراد ترقی پذیر ممالک میں بستے ہیں۔ یہ افراد دنیا کی کل آبادی کا اوسطاً 16 فیصد ہیں۔ دنیا میں نوجوانوں کی تعداد 1.8 بلین سے زیادہ ہے اور ان میں سے تقریباً 87 فی صد نوجوان ترقی پزیر ممالک میں رہ رہے ہیں۔ غریب گھرانوں کے 10 میں سے 01 نوجوان بی اے تک تعلیم حاصل کر پاتا ہے۔ غریب گھرانوں کے نوجوانوں کے مقابلے میں متوسط گھرانوں کے 28 فی صد نوجوان گریجویشن کر پاتے ہیں۔ امیر گھرانوں کے نوجوانوں میں یہ شرح 50 ہے۔ جو نوجوان غریب علاقوں یا معاشروں میں پروان چڑھتے ہیں، ان میں تعلیم حاصل کرنے کے دورانیے میں غیر حاضری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ غریب گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں میں 18 سال کی عمر کی 7 فی صد لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے، جب کہ امیر گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں میں اس عمر میں شادی کی شرح 01 فیصد ہے۔ اقوامِ امتحدہ کے نوجوانوں کے ایجنڈے”World Program of Action for Youth” کے مطابق نوجوانوں کے لیے 15 شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر لایحۂ عمل طے پایا ہے۔ اقوامِ متحدہ جو مرضی کرلے ہم نے نوجوانوں کے لیے کچھ نہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 100 میں سے 29 نوجوان اَن پڑھ ہیں۔ ہم نے اپنا نام لکھنے پڑھنے کو خواندگی کی تعریف میں شامل کیا ہے۔ یوں تقریباً سبھی پڑھے لکھے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں نوجوانوں کو معاشرتی بہتری کے شعبوں میں کم شامل کیا جا تا ہے۔ نیلم میں سرے سے شامل ہی نہیں کیا جاتا۔ کرلے اقوامِ متحدہ نے جو کرناہے۔ اقوام متحدہ کو کیا معلوم کہ آزادکشمیر میں نوجوانون کا کیا حال ہے؟ کشمیری نوجوانوں کو ہر حکومت کی جانب سے نوکری دلاؤ سکیم میں شامل کیا جاتا ہے اور پانچ سال کے بعد یہ سکیم پھر سے شرو ع ہوجاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق صرف 15 فی صد نوجوانوں کو انٹر نیٹ کی سہولت دستیاب ہے جب کہ صرف 52 فی صد نوجوانوں کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ 92 فی صد نوجوانوں کو لائبریری تک رسائی حاصل نہیں اور 93 فی صد کے لیے کھیلوں کی سرگرمی کی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔کاش! اقوام متحدہ کے محققین ڈیٹا جمع کرنے کے لیے آزاد کشمیر بالخصوص نیلم کا چکر لگا لیتے، تو ان کے اعداد و شمار متذکرہ بالا اعداد و شمار سے بالکل مختلف ہوتے۔ نیلم میں کوئی لائبریری ہے اور نہ کھیلوں کے لیے کوئی پروگرام ہی ہے۔ یہی حال آزادکشمیر کے دیگر اضلاع کا بھی ہے۔ حکومت کشمیر کی ثقافت کی ترویج پر یقین رکھتے ہوئے چاہتی ہے کہ نوجوان مقامی کھیلوں گلی ڈنڈا، چیتو، کھوتی کھوتی اور دیگر کھیل کھیل کر گزارا کریں۔ کیوں کہ تمام حکومتیں ’’ووٹ ووٹ‘‘ اور ’’حکومت حکومت‘‘ کھیلنے سے فارغ ہوں، تونوجوانو ں پر دھیان دیں۔ نوجوان کو ہر حکومت نے ووٹ، نوٹوں اور سیاسی مہمات چلانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ دنیا میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 13 فی صد ہے…… جب کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 10.3 فیصد ہے…… اور جنت نظیر نیلم میں بے روزگاری کی شرح 29.7 فی صد ہے۔ جنتیوں کو کون سا روزگار چاہیے؟
پورے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.8 فی صد ہے۔ اس کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں دوگنا بے روزگاری ہے…… اور نیلم میں تین گنا ہے۔ نیلم وہ بد قسمت وادی ہے جو بے روزگاری میں ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ آزاد کشمیر میں نوجوانوں میں سال 2017-18ء بے روزگاری کی 25.9 فی صد ہے جب کہ سال 2014-15ء میں یہ شرح 20.8 فی صد تھی۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بے روزگاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ماضی میں ہونے والی بے روزگاری کی اوسط کو مدنظر رکھا جائے، تو سال 2022ء میں بے روزگاری کی شرح کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ صرف کسی ایک حکومت کا المیہ نہیں…… بلکہ ہر حکومت کے دور میں بے روزگاری بڑھی ہے، کم نہیں ہوئی۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جس خطرناک شرح سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے، یہ کہیں اسے دہشت گردی کی طرف نہ لے جائے۔ قانون، حب الوطنی اور قانون کی پاس داری کے فلسفے بھرے پیٹ کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔ بھوکے کا فلسفہ روٹی ہے۔ دنیا میں بھوک سے بڑی کوئی جنگ نہیں۔ہندکو میں کہتے ہیں ’’جس ویلے ٹہیڈے بچ نہ پیون روٹیاں تے سب گلاں کھوٹیاں۔‘‘ نوجوان خواتین میں تو بے روزگاری ناقابل بیان حد تک زیادہ ہے۔ نوجوان خواتین میں بے روزگاری کی شرح30.5 فی صد ہے۔ نوجوانوں کو تو پھر بھی کوئی نہ کوئی روزگار کشمیر سے باہر مل جاتا ہے، مگر خواتین کے لیے تو وہ بھی ممکن نہیں۔
’’دی پاکستان بیور آف سٹیٹسٹکس‘‘ کی آزاد کشمیر پر جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری میں ہوش رُبا اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح باقی عمر کے افراد کی نسبت زیادہ ہے۔ اس عمر کے افراد میں مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نوجوان قانون کے مجرم بنتے، مگر ان کے ووٹ سے بننے والی حکومتیں ان کی مجرم ہیں۔ ان پر قانون لاگو کیوں نہیں ہوتا؟ اگر بے روزگاری کی وجہ سے کوئی جرم کر تا ہے، تو اس مجر م کے حلقے کے ایم ایل اے کو جواب دہ ہونا چاہیے، جو اقتدارکی کرسی پہ بیٹھ کر نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کرتا۔ سنگین جرایم میں ملوث نوجوانوں کی تعداد 51 فی صد ہے۔
روزنامہ ڈان کی 3 مارچ 2019ء کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں 100 میں سے 30 پڑھ لکھ سکیں گے۔ 100 میں سے صرف 6 انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ 29 تعلیم سے محروم رہیں گے۔ 100 میں سے 94 کو لائبریری تک رسائی نہیں ہوگی۔ 100 میں سے صرف 10 کے پاس موٹر سائیکل ہوگی۔ 100 میں سے صرف 01 کے پاس گاڑی ہوگی۔
نوجوانوں میں سیاستدانوں پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ صرف 15 فی صد نوجوان یہ کہتے ہیں کہ وہ سیاست دانوں پر اعتماد کر تے ہیں۔ یہ 15 فیصد بھی کیوں کہتے ہیں؟ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ اس ساری صورتِ حال کے باوجود 90 فی صد مرد اور 55 خواتین کی رائے ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے۔ کس کے کہنے پہ کس کو ڈالیں گے؟ یہ قارئین کو بخوبی علم ہے۔
آزادکشمیر میں خواتین کے ووٹ پر مردوں کی اجارہ داری ہے۔ ہمیں بے روزگاری کو قابو میں کرنے کے لیے روزگار کے نئے ذرائع پر کام کر نا ہے۔ ہر حکومت 5 سالوں میں 4 سال تک چکر لگوا لگوا کر بے حال کر دیتی ہے، جس کی ہمت اور حوصلہ جواب دے جاتا ہے، وہ ہلکان ہو کر روزگار کے چکر میں کشمیر سے باہر مزدوری کرنے چلا جاتا ہے۔ جو بہت ہی حوصلے اور سیاسی اثر و رسوخ اور فاطمہ کے بھائی صاحب کو ساتھ رکھتا ہو، وہ کسی نہ کسی نوکری پر ہاتھ صاف کر جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کوکلیدی کردار حاصل ہے اور یہ حقیقت ساری دنیا تسلیم کر تی ہے۔ اقوام متحدہ 1965ء میں نوجوانوں کے اس کردار کو دستاویزات کے ذریعے تسلیم کرچکی ہے۔ دو عشروں بعد 1985ء میں اقوام متحدہ نے بین الاقوامی سال برائے نوجوانان منایا جو پوری دنیا میں نوجوانوں کے اہم کردار کا ثبوت ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 1995ء میں سال برائے نوجوانان کے موقع نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے عزم کا اِعادہ کیا۔ سال 2000ء اور اس کے بعد کے عرصہ میں نوجوانوں کے مسایل کے حل کے لیے دنیا کی توجہ مبذول کی اور نوجوانوں کے مسایل سے نپٹنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ دسمبر 1999ء کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 54/120 نے نوجوانوں کے لیے جو ترجیحات طے پائی تھیں۔ آزاد کشمیر میں تو ان کی خبر تک بھی نہیں۔ ہمارے نوجوان اپنے حقوق اور اپنے لیے عالمی قوانین سے ہی بے خبر ہیں۔ اس قرار داد کے ذریعے دنیا بھر کے وزرا برائے نوجوانان کو نوجوانوں کی تعمیر و ترقی اور ان کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا گیا ہے۔ 12 اگست کو یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے اور ہمارے ہاں ’’یومِ نان‘‘ کے طور پر۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2009ء میں 25 ویں انورسری کے موقع پر قراردا د نمبر 64/134 پاس کی، جس میں دنیا بھر کی حکومتوں اور سول سوسائٹیز کو نوجوانوں کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں تمام سہولیات فراہم کر نے کی منظوری دی گئی۔ 2015ء میں اقوام متحدہ نے متفقہ طور پرقرارداد نمبر 2250 منظور کی جو دنیا بھر کی حکومتوں کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسا نظام وضع کر ے جو ان کے حقوق کا ضامن ہو، تاکہ نوجوان معاشرے میں اپنا مثبت کردار اداکر سکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔