60 total views, 1 views today

عقیلہ منصور جدون 
٭ مترجم کا نوٹ:۔ ایک ہی موضوع پر کافی سارے آرٹیکل جمع ہو چکے ہیں، ترجمہ صرف تین کے چیدہ چیدہ پیراگراف کا کر رہی ہوں۔ تاکہ طوالت سے بچ سکیں۔ لیکن ترجمہ پیش کرنے سے پہلے یہ جو بحث مباحثہ امریکہ میں چل رہا ہے…… یہ ایک نظریہ "CRT / Critical Race Theory” کے حوالے سے ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی کچھ وضاحت کردوں۔ تاکہ آپ اس بحث کو جو اس وقت امریکہ میں زورو شور سے جاری ہے سمجھ سکیں۔
’’سی آر ٹی‘‘ 1970ء کی دہائی میں سرگرم کارکنوں اور قانونی ماہرین کی کوششوں سے تیار کی گئی، تا کہ یہ سمجھا جاسکے کہ امریکی شہری حقوق کی تحا ریک کی رفتار سست کیوں ہو رہی ہے۔
یہ شہری حقوق کے علم برداروں کی فکری اور سماجی تحریک ہے جو امریکہ میں نسل پرستی اور قانون کے امتزاج کا جایزہ لینا چاہتے ہیں۔
’’سی آر ٹی‘‘ کے مفکرین رنگ کی بنیاد پر امتیاز نہ کرنے کے فلسفے کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے سخت نسلی تفاوت کو تسلیم کرتے ہیں…… جو امریکہ میں کئی دہائیوں کی اصلاحات کے باوجود موجود ہے۔ اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ ان آوازوں کو اور ان لوگوں کی کہانیوں کو جنہیں نسل پرستی کا شکار ہونا پڑا، بلند کیا جائے، تاکہ نسلی عدم مساوات کے حوالے سے عوام میں شعور پیدا ہو۔
جس طریقے سے نسلی عدم مساوات کو سہولت فراہم کی جاتی ہے اور جن طریقوں سے امریکہ کی تاریخ نے اس عدم مساوات کو پیدا کیا، اگر ہم نے ان عدم مساوات کے وجود پر توجہ نہ دی، تو انہیں دوبارہ بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔
’’سی آر ٹی‘‘ ایک ایسا طریقہ ہے جو نسل پرستی کے تجربے کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ تاریخ اور سماجی حقیقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ بتاتا ہے کہ امریکی قانون اور ثقافت میں نسل پرستی کس طرح کام کرتی ہے…… تا کہ نسل پرستی کے نقصان دہ اثرات کو ختم کرکے اور اس کی جگہ ایک منصفانہ اور صحت مند دنیا وجود میں لائی جاسکے۔
سال 2002ء تک 20 سے زیادہ امریکی قانون کے سکولوں اور تین غیر امریکی قانون کے سکولوں میں ’’سی آر ٹی‘‘ پڑھانے کے کورس اور کلاسیں شروع ہو چکی تھیں۔ ایسا ہی سیاسی سائنس، وومن سٹڈیز۔ مواصلات، عمرانیات اور امریکہ کا مطالعہ کے شعبہ جات میں بھی ہو چکا تھا۔ سال 2021ء کے اوائل میں قدامت پسندوں نے سی آر ٹی کے خلاف آواز اٹھانی شروع کر دی۔ ایڈا ہو (Idaho)، لووا (Lowa)، اوکلاہوما (Oklahoma)، ٹینی سی (Tennessee)، اورٹیکساس (Texas) کی ریاستوں میں قانون ساز اسمبلیوں میں بل پیش کیے گئے کہ سکولوں میں ’’سی آر ٹی‘‘ پڑھانا ممنوع کیا جائے۔ اب اس پس منظر میں ذیل میں دیے جانے والے آرٹیکل پڑھیں۔
٭ پہلا کالم:۔ دی نیو یارک ٹایمز انٹرنیشنل ( پاکستان ایڈیشن )، عنوان: ’’پی ای این‘‘ (PEN) امریکہ کا کہنا ہے کہ آزادیِ اظہار خطرے میں ہے۔‘‘ مصنفہ جینیفر شوسلر (Jennifer Schuessler)، مورخہ 12 نومبر 2021ء۔
امریکہ میں پچھلے سال (2020ء) سے ’’سی آر ٹی‘‘ پیچیدہ قانونی نظریے سے طاقت ور سیاسی احتجاجی نعرے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ریپبلکن قانون سازوں نے سرکاری سکولوں میں سی آر ٹی اور دوسرے تفرقہ انگیز نظریات پڑھانے پر پابندی لگانے کے لیے بل پیش کر دیے۔
اس موضوع پر لوکل سکول بورڈز کی میٹنگ میں غم و غصہ، احتجاج اور افرا تفری دیکھنے کو ملی۔ اس کا سہرا ریپبلکن گلین یانگکن کے سر ہے جس نے الیکشن مہم کے دوران مین وعدہ کیا تھا کہ ورجینیا کا گورنر بن جانے کے بعد دفتر میں اپنے کام کے پہلے دن ہی وہ ’’سی آر ٹی‘‘ پر پابندی لگوائے گا۔
اس ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں آزادیِ اظہار گروپ "PEN” امریکہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آزادیِ اظہار جس کی ضمانت آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی ، اس کے لیے وہ خطرہ بن گئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ بل تعلیمی بحث و مباحثہ کو ٹھنڈا کرنے اور تعلیم اور سیکھنے کے عمل پر حکومتی احکامات نافذ کرنے کے لیے بنائی جا رہے ہیں۔ انہیں تعلیمی گیگ آرڈر (ایسا عدالتی حکم جس کے زریعے کسی بھی معاملے کی معلومات عوام کو مہیا کرنے سے روک دیا جائے) کہا جا سکتا ہے۔
ان بلز کے پیچھے متحرک قوت ستمبر 2020ء کا ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی انتظامی حکم ہے…… جس کے تحت فیڈرل ایجنسی اور کنٹریکٹرز کو ایسی تربیت کے انعقاد سے،جو نسل پرستی، جنسی یا تفرقہ انگیز نظریات کو فروغ دے، سے روک دیا گیا۔
یہ حکم صدر بائیڈن ایڈمنسٹریشن نے منسوخ کر دیا…… لیکن ’’سی آر ٹی‘‘ کے خلاف مہم اس وقت شدت اختیار کر گئی جب یہ ریاستی مقننہ اور سکول بورڈز میں منتقل ہوئی۔
جون میں فلوریڈا کے تعلیمی بورڈ نے ’’سی آر ٹی‘‘ پر پابندی لگانے کے لیے نئے قواعد بنائے۔
’’پی ای این‘‘ (PEN) نے ان حکومتی بلز کے بارے میں دلیل دیتے ہو ئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ ان کی زبان اتنی مبہم ہے کہ یہ اظہار کی وسیع رینج کو متاثر کریں گے۔ حالاں کہ جب کبھی حکومت اظہار کو اعتدال میں رکھنا چاہتی ہے، تو وضاحت سے بتایا جاتا ہے کہ کیا ممنوع ہے اور کس کی اجازت ہے۔ اسی وجہ سے یہ خطرناک ہیں۔ ’’پی ای این‘‘ کے مطابق 9 بلوں کے ذریعے سی آر ٹی کو ٹارگٹ بنایا گیا اور 11 بل 161 9 کے پروجیکٹ کے تحت پڑھائے جانے والے اسباق کو بند کروانا ہے جن کا موضوع غلامی کی تاریخ اور غلامی کی باقیات پر وضاحت کرنا تھا۔
٭ دوسراکالم: دی نیویارک ٹایمز انٹرنیشنل ( پاکستان ایڈیشن )، عنوان : ’’ورجینیا سکول ڈسٹرکٹ کی نسلی تعصب پر توجہ نے غصے کو بھڑکا دیا۔‘‘ مصنفہ:سٹیفنی ساؤل، مورخہ 16 نومبر 2021ء۔
ورجینیا کے کنارے پر واقع کاؤنٹی واشنگٹن کے باہر تک پھیلی ہوئی تیزی سے مخلوط النوع ہوگئی ہے۔ سفید فام طالب علم اب اکثریت میں نہیں رہے۔معلمین زیادہ باخبر رہنے کی کوشش میں تھے کہ کیسے نسل پرستی ان کے طلبہ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ضلع نے مشاورتی فرم سے رابطہ کیا تا کہ معلمین کو تعصب کے حوالے سے تربیت دی جائے۔ زیادہ رنگ دار اساتذہ بھرتی کیے گئے۔ ہائی سکول نے اپنا لوگو حملہ آور جو کنفیڈریشن بٹالین پر رکھا گیا تھا، کو بدل کر کیپٹن کر دیا…… لیکن سفید والدین نے ضلع کی نسل پرستی مخالف کوششوں کو مارکسزم سے تعبیر کیا۔ ایک سال کے اندر لاؤڈاون (Loudoun County) تعلیم کے معاملے میں قدامت پسندوں کے غصے کا نشانہ بن گئی۔ اس سلسلے میں انہیں ریپبلکن نے مدد دی۔ انہوں نے رقم جمع کی اور ضلع کی کوششوں کا مہارت سے مقابلہ کیا۔ قدامت پسند میڈیا نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے "Loudoun” سکولوں کے لیے مارچ سے جون تک 78پروگرام میڈیا پر چلائے۔ نومبر تک یہ جھڑپیں باقاعدہ سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرگئیں۔
’’لاؤڈاون کاؤنٹی‘‘ نے ایک مشاورتی فرم سے ایک مطالعہ کروایا، جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیاہ، ہسپانوی اور مسلم طلبہ سب سے زیادہ نسلی تعصب کا نشانہ بنے رہے۔ اور سیاہ طلبہ کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے نظم و ضبط پر مجبور کیا جاتا رہا۔ کاؤنٹی نے ایک اور پرگرام پر عمل کیا، اپنا لوگو بدلنے کے ساتھ انہوں نے ایک ویڈیو چلائی جس میں سیاہ فام طلبہ سے ماضی کے نسلی امتیاز پر معافی مانگی۔ ان تمام اقدامات کی قدامت پسند سفید لوگوں نے مخالفت کی اور ایک سیاسی کمیٹی بنا لی۔ اس کمیٹی نے مئی 2021ء میں ایک اشتہار بنایا کہ لاؤڈاون سکول کی جانب سے نئے اقدامات میں سفید عیسائیوں کو ’’ظالم‘‘ اور ’’مراعات یافتہ طبقہ‘‘ کہا جا رہا ہے۔
٭ تیسرا کالم: دی نیویارک ٹایمز انٹرنیشنل (پاکستان ایڈیشن)، عنوان: ’’امریکہ میں آزادی کا استحصال‘‘، مصنفہ ایلزبتھ انکر، مورخہ 12-13 فروری 2022ء۔
ایسا لگتا ہے کہ ان دنوں ریاستی عہدیداروں کی طرف سے بہت زیادہ آزادی کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔
ورجینیا کا گورنر بننے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی یانگکن نے ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے…… جس کے تحت سی آر ٹی پڑھانے پر پابندی عاید کر دی۔ وجہ یہ بتائی کہ ریاست کو آزادیِ خیال کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے بعد اس نے سرکاری سکولوں سے ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی۔ اس کی وجہ بھی افراد کی آزادی بتائی۔ جنوری کے درمیان میں فلوریڈا کے قانون سازوں نے افراد کی آزادی کے بل پر بحث کی۔ اس بل کے مطابق سکولوں اور کاروبار میں نسل پرستی اور نسلی امتیاز پر گفتگو کو کم کیا جائے گا۔
اس وقت جارجیا کے قدامت پسند سیاست دانوں نے آزادی کمیٹی بنائی…… جس کا مقصد دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ خطرناک نظریات کو سکولوں سے باہر رکھنا تھا۔ لووا (Lowa) میں ایجوکیشن ایکٹ کے تحت والدین کو اپنے بچوں کو ایسی چیز سیکھنے سے روکنے کی جو اُن کے نزدیک قابلِ اعتراض ہو ، کا اختیار دیا گیا۔ مزید والدین کو ٹیچر ز کے تیار کردہ نصاب، تیار کردہ اسباق کا کسی بھی وقت معاینہ کرنے کا حق دیا گیا۔ اس طرح ماسک کی پابندی کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں ( یہ بل لووا سینٹ نے مسترد کر دیا۔)
ان اقدامات میں جو جمہوری سیاست کے خلاف تھے، لفظ آزادی صرف انہیں جایز بنانے کے لیے شامل کیا گیا۔ اسے میں بدصورت آزادی کہتا ہوں۔
یہ محض تعصب پر مبنی پالیسیاں بنانے کے لیے لفظ آزادی کا گھٹیا استعمال ہے۔اس ملک میں بدصورت آزادی کی لمبی تاریخ ہے۔ یہ لفظ کچھ مخصوص مراعات یافتہ طبقوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ فلاڈیلفیا میں آئینی کنونشن کے وقت صرف دو فیصد شہری آبادی کو ووٹ ڈالنے کا حق تھا۔ غلامی کے قانون کے مطابق صاحبِ جائیداد سفید فاموں کو سیاہ رنگ انسانو ں پر ملکیتی حقوق حاصل تھے۔اسی طرح مؤرخ "Tyler Stovall” اسے سفید آزادی کا نام دیتا ہے۔ یہ عقیدہ کہ آزادی سفید نسل کی پہچان ہے…… اور صرف سفید فام ہی آزاد رہ سکتے ہیں۔ سفید آقا کو اس آزادی نے اذیت دینے، زنا کرنے اور سیاہ فام انسانوں پر زندگی بھر کا اختیار دے دیا تھا۔
بیسویں صدی میں نسلوں کو الگ الگ رکھنا سفید لوگوں کی عوامی جگہ پر اختیار اور کاروبار کے انتخاب کی آزادی کے لیے جایز قرار دیا گیا تھا۔
یہ کچھ مثالیں ہیں جن میں آزادی کے مدعیوں نے لمبے عرصے تک غیر سفید انسانوں، عورتوں اور ملازمین کو دبائے رکھا۔ آج پھر زیادہ سے زیادہ قانون بنا کر، جلسے جلوس نکال کر جمہوری حکومتوں اور شہری حقوق کو مٹانے کے لیے لفظ آزادی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ قوانین رینگتی ہوئی آمریت کو پھیلانے کے لیے ہیں۔ چھے جنوری کے کیپٹل پر حملے میں شامل باغیوں میں سے ایک اپنی شرکت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مَیں یہاں آزادی کے لیے آیا ہوں۔ ماسک پہننے پر پابندی کے مخالفین صحت کی آزادی کا حوالہ دیتے ہیں۔ چاہے ان کے ماسک نہ پہننے سے مدافعتی طور پر کم زور لوگوں کی حرکات و سکنات کی آزادی متاثر ہوتی ہو۔
جمہوریت مخالف سیاست میں آزادی کو صرف اور صرف اخراج، استحقاق اور نقصان کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔ قدامت پسندوں کی ان سب کوششوں کے باوجود ہم آج بھی متحرک سیاسی تحریکیں اور قانون سازی دیکھ رہے ہیں۔ آزادی ہر کسی کا حق ہے۔ آزادی، خوشحال زندگی اور عوامی مسایل میں شمولیت کی امریکی صلاحیتوں کو وسیع کرتی ہے۔
آج امریکی سیاست میں بدصورت آزادی، اقلیتوں کی حکم رانی، تعصب اور جمہوریت مخالف حکم رانی کا تیزی سے جواز پیدا کر رہی ہے۔ اگر ہم ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو پیچھے نہیں دھکیلیں گے، تو ہم ان لوگوں کے لیے راستہ صاف کر دیں گے…… جو آزادی کے نام پر اجارہ داری کی حمایت اور ملک کو آمریت کی طرف بڑھانا چاہتے ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔