ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر قبرستان واقع ہے۔ جہاں میرے خاندان سمیت گاؤں کے دیگر فوت شدگان مدفون ہیں۔ گاؤں میں ہوتا ہوں، تو ان کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتا رہتا ہوں۔ ایک مقصد تو فوت شدگان کے لیے دعائے مغفرت ہوتا ہے۔ ساتھ میں اس شہرِ خموشاں کا اپنا ایک الگ اثر ہے۔ یوں کہہ لیں کہ خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
گذشتہ ہفتے جب قبرستان پہنچا، تو وہاں خلافِ معمول خاموشی نہیں، بلکہ خوشی کا سا سماں دیکھا۔ قبرستان کی سب سے پرانی قبر کے مکین جسے ’’بادو بابا‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی قبر کی طرح ایک نمایاں جگہ پر بیٹھے تھے۔ تمام قبروں سے مردے نکلے ہوئے تھے۔ مَیں نے اُنہیں ایسے خوش دیکھا کہ اُن کی حق میں دعائے مغفرت کرنا بھی بھول گیا۔ ظاہری بات ہے کہ آج وہ دیگر جان داروں کی طرح تھے۔ مَیں سوچتا رہا کہ جو مرگیا، وہ کیسے دنیا میں دوبارہ زندہ ہوکر جشن منا سکتا ہے؟
بہرحال قبرستان میں سجی اس پُررونق محفل کے قریب پہنچا، تو معلوم ہوا کہ یہ سب کے سب اس بات پر خوش ہیں کہ ان کا پیارا ملک ’’پاکستان‘‘ کل ہی آئی ایم ایف کی چنگل سے آزاد ہوچکا ہے۔ جشن منانے والوں میں ایک بلند آواز سے اعلان کر رہا تھا: ’’مبارک ہو! پاکستان کی عدالتوں میں زیرِ التوا لاکھوں مقدمات میں سب سے آخری رِہ جانے والے مقدمے کا بھی فیصلہ ہوچکا۔ اب ملک بھر کی کسی عدالت میں کوئی مقدمہ زیرِ التوا نہیں۔ جیلوں میں پڑے بے گناہ رہا اور گنہگار انجام تک پہنچ چکے ہیں۔ وکلا نے لاکھوں میں فیس اور تاریخ پر تاریخ لینا بند کردیا ہے۔ اب جج سالوں، مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں اور دنوں میں فیصلے سناتے ہیں۔ جھوٹی گوہیواں کا سلسلہ رُک چکا ہے۔ امیر اور غریب اب سبھی قانون کی نظر میں ایک ہیں۔ کوئی مال دار مجرم جیل کی بجائے ہسپتال میں نہیں رہتا اور کوئی غریب بے گناہ ملزم قید میں زندگی نہیں گزارتا۔‘‘
ابھی اس خوشی پر تالیاں بجائی جا رہی تھیں کہ ایک دوسرا متوفی جو نئے کفن میں ملبوس تھا، کھڑا ہوگیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ آج ہی دارِ فانی سے دارِ بقا کا سفر شروع کیے ہوئے قبرستان پہنچا تھا۔ اُٹھتے ہی فرمانے لگا: ’’اے میرے دوستو! آپ سب کو مبارک ہو! کیوں کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں داخل تمام مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ اب ہسپتالوں میں آپریشن کے لیے غیر معیاری اوزار استعمال نہیں ہوتے۔ غیر معیاری ادویہ پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔ تمام ڈاکٹروں نے اپنی فیسیں مناسب رکھ دی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج، مفت ادویہ اور بہترین معالج دستیاب ہوچکے ہیں۔ اس لیے نجی ہسپتالوں کا کاروبار ختم ہونے کو ہے۔‘‘
یہ اعلان ختم ہوتے ہی پورا قبرستان ’’پاکستان زندہ باد!‘‘ کے نعروں سے گھونج اُٹھتا ہے۔ یہ نعرے تھمتے ہی ایک اور بندہ اٹھتا ہے۔ عالمِ برزخ کے اپنے تمام ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے مبارک باد دیتا ہے کہ ’’پاکستان بھر سے ملاوٹ، کرپشن، اقربا پروری، دھوکا دہی، منشیات فروشی، بردہ فروشی سمیت ضمیر فروشی کا سو فیصد خاتمہ ہوچکا ہے۔‘‘ اس بات پر تو گویا وہاں شادیِ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔
اعلانات کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ آخر میں قبرستان کا سب سے پرانا متوفی اٹھا جس کو لوگ آج بھی ’’بادو بابا‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ نتیجتاً باقی مردے مؤدب ہوگئے۔ نعرہ زنی ختم اور سنجیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ کہنے لگتا ہے کہ اے میرے قبرستان کے ساتھیو! اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان کے حکم رانوں نے پروٹوکول کلچر مکمل ترک کر دیا ہے۔ صدر، وزیرِ اعظم، وزیر، گورنر اور تمام سرکاری عمال عوام جیسا کھاتے، پیتے، گھومتے اور زندگی گزارتے ہیں۔ اب صدر اور غریب کے بچے ایک ہی تعلیمی ادارے میں پڑھتے ہیں۔ اور ایک جیسے سرکاری ہسپتال سے علاج کراتے ہیں۔ ملک بھر میں مذہب، مسلک، زبان اور علاقے کے نام پر قتل مقاتلے کا تصور تک نہیں۔ اڑوس پڑوس کے علاوہ امتِ مسلمہ میں پاکستان کو رشک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور اقوامِ غیر کی آنکھوں میں پاکستان کانٹے کی طرح چبھتا ہے ۔‘‘
یہ باتیں سن کر سننے والوں میں سے ایک بندہ سوال کرتا ہے: ’’اگر یہ تمام مسئلے حل ہوچکے ہیں، تو اب مملکتِ خداداد میں کوئی مسئلہ حل طلب بھی ہے؟‘‘ اس سوال پر ’’بادو بابا‘‘ فرمانے لگتے ہیں: ’’ہاں! ایک ہی مسئلہ ہے جو انتہائی اہم ہے اور آج کل زیرِ بحث ہے کہ ملک کو ’’صدارتی نظام‘‘ کی ضرورت ہے! کیوں کہ پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے۔‘‘
قبرستان میں یہ گفت و شنید جاری تھی کہ میں واپس آگیا اور دیکھا کہ باقی ماندہ ملک میں بھی یہی بحث جاری ہے۔ جیسے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہو اور دیگر حل ہوچکے ہوں! رہے نام اللہ کا!
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔