ہمارے ہاں کئی لوگ وصالِ یار سے محرومی کو قسمت کا کھوٹا سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ عاشقانِ باہمت، عشق و محبت کی پُرخار وادیوں اور صحراؤں سے بھی منھ نہیں موڑتے۔ یہ ہماری کوتاہی اور بے پروائی نہیں کہ ہم
’’ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں‘‘
کے مصداق ابھی تک اس ہنر سے عاری ہیں کہ وقت کو اپنی گرفت میں لیں۔ اگر دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کو دیکھیں، تو معلوم ہوجائے گا کہ وقت ہی ان کا متاعِ حیات ہے۔ یہ لوگ وقت کا ایک منٹ بھی ضایع نہیں کرتے اور ہر شخص اپنی ڈیوٹی کا پورا پابند ہے۔ لیبارٹریوں میں سائنس دان، ڈاکٹر، استاد اور کلرک غرض زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، وہاں کا عملہ اور کارکن بروقت اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں اور ایک منٹ ضایع کیے بغیر آخری وقت تک مصروفِ کار رہتے ہیں اور یہی بات ان کی ترقی، کامیابی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
غور کا مقام ہے کہ ہم اپنی ڈیوٹی کی کتنی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں سرکاری دفاتر اور خصوصاً تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب اساتذۂ کرام پر عدم اعتماد اور ان کی ساکھ پر داغ نہیں؟ اساتذہ صاحبان نہ اپنے اوپر عدم اعتماد اور ہتک کا سامان کرتے اور نہ حکومت اساتذہ صاحبان کی حاضری اور بروقت آمد و رخصت کی کوئی پلاننگ کرتی۔ ترقی یافتہ ممالک میں صفائی کرنے والا اہل کار جسے ہمارے ہاں خاک روب اور جمع دار کے حقیر نام سے پکارا جاتا ہے، اپنے وقت پر ڈیوٹی سرانجام دینے میں 2 منٹ تاخیر بھی نہیں کرتا۔ وہاں سرکاری اہل کار، وزرا، مرد و خواتین سب نے وقت کی پابندی کو اپنا حرزِ جان بنایا ہوا ہے…… بل کہ نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین نے ’’ٹایم پیس‘‘ اور ’’الارم‘‘ بھی بنائے…… یہاں تک کہ ٹیکنالوجی کی بدولت موبایل جیسے چھوٹے آلے کے اندر ٹایم ٹیبل کی سہولت بھی فراہم کی…… لیکن پھر بھی ہم اپنی عادت بد سے باز نہیں آتے بل کہ ان کی بعض مفید ایجادات کو ہم نے ٹایم پاس کرنے کا کھلونا بنایا ہے۔ داناؤں کا قول ہے کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘ انہوں نے ہمارے لیے بائیو میٹرک مشین بھی ایجاد کرلی۔ افسوس کا مقام ہے کہ اِن پڑھے لکھے لوگوں پر اپنے ہی اداروں کا اعتماد نہیں رہا۔ ان کے لیے اگر یہ توہین آمیز سامان آیا، تو اس کا سبب ہم نے خود ہی کیا۔
جب تک ہم وقت کے ساتھ کھلواڑ جاری رکھیں گے، اچھا وقت ہم پر کبھی نہیں آئے گا۔ الغرض پابندیِ وقت ایک ایسی عادت ہے جو وقت کو آپ کا پابند اور غلام بناسکتی ہے۔ بصورتِ دیگر اچھے وقت آنے کا ہمارا انتظار شیخ چلی کے خواب جیسا ہوگا۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کی وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔