اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین جمہوریت کا راگ تو الاپتے ہیں، لیکن جمہوری اداروں کو پنپے نہیں دیتے۔ کسی بھی پارٹی کا سیاسی رہنما نچلی سطح کے ورکر کو اپنے ساتھ اقتدار میں دیکھنا پسند نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں سمیت حزبِ اختلاف کے قائدین بلدیاتی انتخابات کرانے کے حق میں نہیں ہوتے۔ وطنِ عزیز میں مقامی حکومتوں کا نظام شروع دن سے تجربات کی زد میں ہے اور اس کا ڈھانچا تبدیل ہوتا چلا آرہا ہے۔
موجودہ صوبائی بلدیاتی نظام کے بارے میں وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں یہ بااختیار نظام ہے، لیکن لگتا تو بالکل ایسا نہیں۔ صوبوں نے بلدیاتی اداروں کو لولا لنگڑا بنانے کے لیے بلدیاتی ایکٹ میں اپنی مرضی کی ترامیم کرائیں۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں ضلعی اور یونین کونسلوں کی مقامی حکومتوں کو ختم کیا۔ تحصیل سطح پر تمام اختیارات ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر کے پاس ہوں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل کونسل کے ماتحت اداروں کا پرسنل اکاؤنٹنگ افسر ہوگا۔ ٹی ایم اُوز تحصیل سطح کے تمام امور میں اسسٹنٹ کمشنر کو جواب دہ ہوں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل چیئرمین کی کارکردگی پر نظر رکھے گا اور ہر وقت صوبائی حکومت کو تحصیل چیئرمین کی کارکردگی پر رپورٹ دے گا۔ خیبر پختونخوا سٹی اور تحصیل رولز آف بزنس کو محکمۂ قانون کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ سکیل 1 سے 16 تک ملازمین کے اختیارات ٹی ایم اُوز کے پاس ہوں گے۔
اسسٹنٹ کمشنر کو تحصیل کونسل کے ماتحت تمام اداروں کا چیف رپورٹنگ آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ تمام ترقیاتی فنڈز کا استعمال ٹی ایم اُو کرے گا اور تحصیل کونسل کے چیئرمین کے ناجائز کام پر ریجنل آفیسر کو رپورٹ کرے گا۔ تحصیل چیئرمین یا میئر ٹی ایم اُو کے بغیر کسی کام میں خود مختار نہیں ہوگا۔ ٹی ایم اُو، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سے مشاورت کے بعد قدم اُٹھائے گا۔ معلوم نہیں کہ جناب عمران خان کی نظر میں وہ کون سی خوبیاں ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں موجود ہیں؟
ملک کا کوئی بھی صوبہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے حق میں نہیں لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کرانے پر مجبور ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 17 اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، ٹانک، ہری پور اور ہنگو میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ان بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کی شرح 40 فی صدر رہی۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 46 تحصیلوں میں سے صرف 12 تحصیلوں میں کامیابی حاصل کی جب کہ بعض نتائج الیکشن کمیشن نے روک دیے ہیں۔ ان بارہ تحصیلوں میں سے 11 ایسے ہیں، اگر وہاں اپوزیشن (پی پی پی، اے این پی، جمعیت، جماعت اسلامی،پی ایم ایل ن) میں سے کوئی بھی دو پارٹیاں اتحاد کرتیں، تو تحریکِ انصاف صرف ایک تحصیل میں کامیاب ہوپاتی۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنی شکست تو تسلیم کر دی، لیکن صوبائی قائدین ایک دوسرے کو شکست کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ پشاور کے ٹکٹ گورنر شاہ فرمان، نوشہرہ کے ٹکٹ وزیر داخلہ پرویز خٹک، مردان کے ٹکٹ عاطف، صوابی کے ٹکٹ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، کوہاٹ کے ٹکٹ شہریار آفریدی اور دیگر ایم این اے، ایم پی کی سفارش پر ان کے رشتہ دار اور من پسند افراد کو دیے گئے تھے اور یہی لوگ شکست کے ذمہ دار ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر شبلی فراز اور صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی ہار کا سبب موجودہ مہنگائی اور آپس کے اختلافات قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف نے خود اپنے آپ کو ہرایا۔ اب بڑوں کا کہنا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا اور ٹکٹ اہل ورکروں کو دیے جائیں گے…… لیکن ہر بار پارٹی ٹکٹ انہی شکست کے ذمہ دار افراد کے کہنے پر دے کر ہار جاتے ہیں۔
عمران خان اگلے مرحلے کی نگرانی خود کرنے کا دعوا کر رہے ہیں…… لیکن ’’زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا؟‘‘ کے مصداق ٹکٹ تقسیم کرنے کے وقت تک یہ ذمہ دار ایک بار پھر عمران خان کا اعتماد حاصل کرچکے ہوں گے اور ایک بار پھر ٹکٹ اِن سفارشیوں کے کہنے پر دیے جائیں گے۔ اس طرح زخم بھر آنے کے بعد دوبارہ بڑھے ہوئے ناخن سے تازہ کیے جائیں گے۔
قارئین، موجودہ انتخابی نتایج سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہر محاذپر ناکام ہوچکی ہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت نے کرپٹ افراد سے لوٹی ہوئی قومی دولت وصول کی اور نہ عوام کو زندگی کی دوسری سہولیات فراہم کرنے ہی میں کامیاب ہوئی۔ عوام غربت اور مہنگائی کے وجود سے اجتماعی خود کُشیوں پر مجبور ہیں۔ اس لیے لگتا ہے کہ عمران خان کا یہ نعرہ ’’ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آچکی ہے!‘‘ کو ’’ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی جا رہی ہے!‘‘ میں تبدیل کیا جائے، تو بہتر ہوگا۔
تحریکِ انصاف نے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے اور اقتدار کی بقیہ مدت میں عوام کو ریلیف نہیں دیا، تو 2023ء الیکشن میں تحریکِ انصاف کی ناکامی واضح نظر آرہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض تجزیہ نگار 2022ء کو ’’الیکشن کا سال‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔