اقتدار سے پہلے دھرنوں، جلسوں اور جلوسوں میں موجودہ وزیرِ اعظم جناب عمران خان چیخ چیخ کر یہ وعدے کیا کرتے تھے کہ مَیں پولیس کا محکمہ ’’مثالی‘‘ بناؤں گا۔ سب کو مراعات دوں گا۔ انصاف سے کام لوں گا۔ پولیس کے تمام مسئلے حل کروں گا۔ ان سب کی قربانیوں اور محنت کا صلہ دوں گا۔ تمام الاؤنس ادا کردوں گا اور خاص کر خیبر پختونخوا کی پولیس کو ہر حوالہ سے ایسا محکمہ بناؤں گا کہ لوگ اس کی مثالیں دیتے رہیں گے……!
لیکن جس طرح تمام وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ افسوس پولیس کے ساتھ بھی مسلسل بے انصافی ہی جاری رہی۔ ہم یہاں دو محکموں کے بیچ روا رکھے جانے والے امتیاز کی بات کرنے جا رہے ہیں…… جو سراسر نا انصافی ہے۔
قارئین، آج کے اس انسانی حقوق اور انصاف کے دور میں بھی پولیس کے تمام منسٹریل اور آئی ٹی سٹاف اپنے تمام بنیادی الاؤنسز سے محروم ہے۔ باوجود کوششوں کے اور ہر در کھٹکھٹانے کے، فریاد کرنے کے اور رونے دھونے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
منسٹریل سٹاف اور آئی ٹی سٹاف اُن مظلوموں کو کہا جاتا ہے جو پولیس کے تمام ضلعی دفاتر، سرکل آفسوں اور تمام تھانہ جات میں ہر وقت اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ مخلوق پولیس یونیفارم میں نہیں ہوتی…… بلکہ سادہ لباس میں ہر وقت سر نیچے کرکے فائلوں کے انبار میں مصروف دکھائی دیتی ہے اور یہ اپنی یونیفارم پولیس بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ مشکل حالات میں بھی اپنی تمام تر امور بہ خوبی سرانجام دیتی ہے۔
یہ سوچ کہ یونیفارم ایگزیکٹیو سٹاف یا فورس زیادہ کام کرتی ہے۔ وہ فیلڈ میں ہر وقت خطروں سے دوچار ہوتی ہے۔ امن وامان قائم کرتی ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مقابلے ہوتے ہیں، تو اُس میں فورس مرتی ہے اور زخمی ہوتی ہے۔ لہٰذا ا کو تمام مراعات اور الاؤنسز دیے جاسکتے ہیں اور فورس ہی اس کی حق دار ہے…… جب کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تھانے یا دفتروں میں بیٹھا منسٹریل (کلرک) اور آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) سٹاف آرام سے دفتروں میں عیش کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کسی الاؤنس اور مراعات کا حق دار نہیں۔ یہ ایک پست اور رجعت پسندانہ سوچ ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر فورس اور ہر محکمے کے پیچھے اگر ان سادہ لباس میں ملبوس دفتری ڈاکومنٹیشن اور ٹیکنالوجی کی حامل سوچ، فکر اور محنت نہ ہو، تو کوئی بھی محکمہ اور فورس آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ایک پولیس اہلکار کی بھرتی کے دن سے لے کر آج کے دن تک تمام ریکارڈ اَپ ڈیٹ رکھنے والا سٹاف افسروں سے ڈکٹیشن لیتا ہے۔ خط و کتابت کرتا ہے۔ کسی بھی پولیس افسر کے ڈیمانڈ پر تمام متعلقہ ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔ اکثر راتوں کو دیر تک بیٹھا رہتا ہے۔ کیونکہ اگر پولیس افسران دفتر میں موجود ہوں یا کوئی اہم میٹنگ ہورہی ہو، تو اس بے چارے سٹاف کا بیٹھنا لازمی ہوتا ہے۔
اس طرح اگر خدانخواستہ تھانے یا دفتر پر حملہ ہوتا ہے، تو کیا صرف وردی والے مرتے ہیں؟ کیا گولی یا بم وردی اور بغیر وردی والوں میں فرق کرتا ہے…… یا سب کو ایک ساتھ تباہ کرتا ہے۔ تو خدا کے لیے ایک محکمے کے سٹاف یہ فرق مت رکھیں۔
کتنی عجیب صورتِ حال ہے کہ ایک دفتر میں کام کرنے والے اور اُٹھنے بیٹھنے والے ایک دوسرے کو ہروقت دیکھتے ہیں، ملتے ہیں، تو ایک کو تمام الاؤنسز اور مراعات سے سرفراز کیا جاتا ہے اور دوسرے کو محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ ہر وقت احساس اور ضمیر کو پھانسی پر چڑھانے والی بات ہے۔
یاد رکھیں، دنیا میں سب سے بڑی بے انصافی، معاشی بے انصافی ہے۔ مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ضمیر کا خون ہوتا ہے۔
یہ ظلم اور بے انصافی یہاں نہیں رُکتی بلکہ تنخواہوں کے سکیل میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ، وزیرِ اعلا سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں کی تنخواہوں اور منسٹریل، آئی ٹی کی تنخواہوں کے فرق کو ختم کیا جائے اور سب کو یکساں سکیل اور تنخواہوں سے مستفید کیا جائے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ تمام صوبوں میں پولیس کے منسٹریل سٹاف کو تمام مراعات حاصل ہیں۔ الاؤنسز مل رہے ہیں، تو آخر خیبر پختونخوا میں یہ امتیاز کیوں برتا جارہا ہے؟ کیا یہ لوگ پاکستان کے شہری نہیں! کیا یہ کام نہیں کرتے؟ یہ مظلوم لوگ سروس سٹرکچر سے محروم ہیں۔ اگر سروس سٹرکچر نہ ہو، تو کیسے یہ لوگ ترقی کریں گے؟ کیا عمر بھر یہ اس طرح جونیئر کلرک ہی رہیں گے؟ اس سے تو ان سب کا مستقبل تاریک اور مخدوش ہو رہا ہے۔ آخر محنت سے کام کیسے ہوگا اور کام میں دلچسپی کا سامان کیسے پیدا ہوگا؟ اگر ایک انسان کا خود اپنا مستقبل تاریک ہو، تو وہ ملک و قوم کا مستقبل کیسے روشن کرے گا؟
دوغلے پن اور دوغلی پالیسی کی انتہا یہ ہے اگر منسٹریل سٹاف معمولی سا احتجاج کرے، بازو پر سیاہ پٹی باندھے، تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تم لوگ پولیس فورس کے آدمی ہو۔ لہٰذا لازمی سروس کے ایکٹ کے تحت تم ہڑتال کرسکتے ہو نہ احتجاج…… لیکن جب پولیس فورس کی مراعات اور الاؤنسز کا مطالبہ کیا جاتا ہے، تو پھر یہ لوگ پولیس فورس کا حصہ نہیں۔ پھر ان کا حق نہیں بنتا۔ کیا نرالی منطق ہے کہ سزا اور جرم اور ڈیوٹی میں تو پولیس فورس کے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں اور انعام، حق یا الاؤنس کا مطالبہ کیا جائے، تو پھر پولیس فورس کا حصہ نہیں ہوتے۔
اب وقت آگیا ہے کہ یہ دوغلی پالیسی ختم کی جائے۔ منسٹریل سٹاف مع آئی ٹی سٹاف کو پولیس فورس کا مقدم اور لازمی حصہ سمجھا جائے۔ اس کو دوسروں کی طرح تمام الاؤنس اور مراعات دی جائیں…… خواہ وہ رسک الاؤنس ہو یا سپیشل الاؤنس۔
اس کے علاوہ مذکورہ سٹاف کو سروس سٹرکچر دیا جائے، اس کا پروموشن ہو، کلیدی عہدوں پر یہ فائز ہو۔
تمام صوبوں کے عوام پاکستان کے معزز شہری ہیں۔ لہٰذا عہدوں، الاؤنس، تنخواہوں کے سکیل کے فرق کے حوالہ سے یہ سب امتیازات ختم کیے جائیں…… اور پورے ملک میں پولیس کے محکمے میں یکساں قوانین کا نفاذ کیا جائے۔ مذکورہ بے چارا سٹاف ایک عرصہ سے اپنے جائز مطالبات کے لیے قانونی جد و جہد کر رہا ہے۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کو فیکس کیا ہے۔ درخواستیں دی ہیں۔ ہر پولیس آفیسر کے آگے اپنے حق کے لیے جھولی پھیلائی ہے۔ فریادیں کی ہیں۔ ہر بڑے کے سامنے اپنا رونا رویا ہے…… لیکن ہمارے اربابِ اقتدار کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہوجائے، وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
مَیں سوات کی سطح پر ڈی آئی جی صاحب، ڈی پی اُو صاحب سے ہمدردانہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے منسٹریل اور آئی ٹی سٹاف کے حقوق اور مطالبات میں ذاتی دلچسپی لیں۔ مجھے اُمید ہے کہ ایک عرصہ سے اس کے ساتھ جاری زیادتیوں کی تلافی کی جائے گی اور اس کہ گذارشات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ جلد از جلد انصاف کیا جائے گا۔
اس طرح مَیں تحریکِ انصاف کی مقامی قیادت (قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین) سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں اپنا تعاون شاملِ حال کریں۔ اس کے لیے دوڑ دھوپ کریں…… یا اپنے وزیراعظم کو اپوزیشن کے دنوں کے وعدے اور دعوے یاد دلائیں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے محکمہ پولیس کو مثالی بنانے کا اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔ نیز پورے صوبے میں منسٹریل سٹاف کے ساتھ ایک عرصے سے نا انصافیوں کا ازالہ کیا جائے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین!
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔