وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ہر چیز میں تبدیلی بھی رونما ہوتی جا رہی ہے۔
انسانی سوچ چوں کہ ارتقا پذیر ہے…… لہٰذا یہ اپنی آسائشوں کے لیے تگ و دو بھی کرتا رہا ہے۔ لہٰذا سائنس اور ٹیکنالوجی میں بتدریج ترقی نے انسان کو کئی سہولیات سے نوازا۔ فی زمانہ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ ہفتوں اور مہینوں میں طے ہونے والے فاصلے گھنٹوں اور دنوں میں سمٹ رہے ہیں۔ پیغام رسانی میں کئی دن اور ہفتے لگتے تھے…… لیکن اب کوئی پیغام منٹوں میں دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتا ہے۔ کیوں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی کی بدولت ایک انسان سیکڑوں ہزاروں میل دور دوسرے انسان سے سیکنڈوں میں رابطہ کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ اور جدید ساخت کے موبائل کی اِفادیت ایک مسلمہ امر ہے…… لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کو کئی سہولیات فراہم کیں…… وہاں اس نے ہماری روایات جس میں باہمی عزت، محبت اور رشتوں کی تقدس کا خیال رکھا جاتا تھا…… معدومی کا شکار کردیا۔
آج سے چالیس پچاس سال پہلے ہمارا دیہاتی کلچر کتنا رومانی اور سہانا ہوتا تھا…… جب ایک کسان صبح سویرے کھیت کھلیانوں میں کام کرنے کے لیے گھر سے نکلتا۔ اس کی بیوی اس کے لیے دوپہر کا کھانا خود لے کر جاتی…… جو عموماً ساگ، مکئی کی روٹی اور چاچھ پر مشتمل ہوتا۔ میاں بیوی اکٹھے درخت کے سائے میں بیٹھ کر کھانا کھاتے اور باتیں کرتے۔ اس کے علاوہ دیہات میں اور بھی رواج اور روایات تھیں…… جس کی وجہ سے دیہات کی ایک انفرادیت تھی…… جو کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم یہاں لکھنے سے قاصر ہیں۔
اُس زمانے میں موجودہ شہر بھی محدود تھے اور آج کے مقابلے میں اتنے گنجان آباد نہ تھے۔ مینگورہ شہر اس زمانے میں کچے گھروں پر مشتمل تھا۔ موجودہ مارکیٹوں اور بزنس سنٹروں کی بھر مار نہیں تھی۔ گلیاں سنسان اور کچی تھیں۔ محلہ جات بھی محدود تھے۔ محبت و مروت اور باہمی رابطے قائم تھے۔ اپنے محلے کے علاقہ منسلک محلہ جات کے مکین بھی ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے۔
پھر 1980ء سے ترقی کا دور شروع ہوا۔ اُس زمانے میں اگرچہ چھوٹے چھوٹے کام سرانجام دینے میں زیادہ وقت صرف ہوتا…… اور کافی محنت سے کم پیداوار حاصل ہوتی…… لیکن یہ سارے امور اپنے وقت کے ایک حسین اور خوشگوار احساس کے نام تھے۔ اب یہ سب باتیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں اور پرانی روایات یکسر تبدیل ہوچکی ہیں۔ اب وہ پیار اور محبتیں رہیں اور نہ رشتوں کا تقدس اور پاس۔ اب تو رشتے ضرورت کے پیشِ نظر نبھائے جاتے ہیں۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
گزرے وقتوں کا وہ منظر کتنا سہانا ہوتا جب گھر کی بزرگ خاتون دیسی چکی سے پیسے ہوئے خمیری آٹے کی روٹی تندور میں پکاتی۔ پکنے پر روٹی باہر نکال کر چنگیر میں رکھتی۔ اس وقت تازہ اور گرم روٹی کی بھینی بھینی خوشبو انسان کی بھوک اور بڑھاتی۔ ساتھ ہی مٹی کی ہنڈی میں سالن پڑا رہتا۔ اب روٹیوں کو گرم رکھنے کے لیے رومال اور چنگیر کے بجائے ہاٹ پاٹ اور سالن گرم رکھنے کے لیے ٹفن آگئے ہیں جن سے کھانے پینے کی اشیا کئی گھنٹوں تک گرم رہتی ہیں۔ اب کھانوں میں فطری لذت اور مزہ نہیں رہا۔ جب معاشرے سے فطری طریقے اور روایات معدوم ہوئیں، تو ہر چیز میں مصنوعی اور بناوٹی پن پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اتنی نعمتوں اور آسائشوں کی کثرت کے باوجود کھانوں میں وہ لذت اور دلوں میں وہ خوشی اور اطمینان نہیں۔
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔