ٍٍ گذشتہ ایک دہائی سے مسلسل سنتا آ رہا ہوں کہ ہمارے لوگ یعنی سوات کی ’’توروالی قوم‘‘ بے اتفاق ہے۔ کبھی کسی مسئلے پر متحد نہیں ہوتی۔ یہاں یرک (جرگہ) کی روایت ختم ہوئی ہے اور لوگ کسی ایک بات پر متفق نہیں ہوتے۔ اگرچہ یہ صرف اس قوم کا المیہ نہیں، مگر اس چھوٹی سی تحریر میں اس مسئلے پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ماضی میں جب لوگوں میں ایک ہی قسم کی معاشی پیداواری صلاحیت تھی، یعنی سب کھیتی باڑی سے منسلک تھے، اور لوگوں کا گزر بسر زیادہ تر ایک جیسا تھا۔ لوگوں کو باہر کی دنیا تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ تعلیم و تعلّم کے جدید وسائل باہم میسر نہیں تھے۔ ابلاغ کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں تھا۔ میڈیا سے لوگ نابلد تھے۔ سیاست سے ناواقفیت تھی۔ مقامی سیاسی نظام جس میں زمین دار مرکز ہوا کرتا تھا، موجود تھا۔ نئے داؤ پیچ نہیں تھے۔ روزگار کا ایک ہی وسیلہ یعنی کھیتی باڑی یا کوئٹہ، حیدر آباد میں کوئلہ کانوں میں مزدوری کرتے تھے، یا پھر ٹمبر ٹھیکیداروں کے ساتھ مزدوری کرکے روزی کماتے تھے۔ اس کے لیے کوہستان اور دیامر بھی جاتے تھے۔
مٹھی کی طرح ایک بند سماج (معاشرہ) تھا۔ اسی لیے مٹھی کی طرح اتحاد بھی ہوتا تھا۔ یرک (جرگہ) اسی لیے مضبوط تھا کہ لوگوں کو دوسرے کسی ذریعے تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ ریاستی ادارے موجود نہیں تھے، اسی لیے سارا دار ومدار اسی یرک (جرگہ) پر تھا۔
1922ء کے آس پاس ریاستِ سوات اس علاقے میں اپنا عمل درآمد کرنا شروع کرتی ہے۔ ریاستِ سوات نے ایسا کرنا تھا، کیوں کہ ابھی برطانوی حکومت نے اس ریاست کو تسلیم نہیں کیا تھا اور بڑا بہانہ یہ تھا کہ سوات کی پوری وادی پر ریاست کا عمل دخل نہیں تھا۔ اس لیے ریاستِ سوات نے یہاں مداخلت شروع کی۔ اگرچہ اس علاقے سے سوات کی ریاست کو کسی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ریاست کی فوجوں نے چند ایک چھوٹی جنگوں کے بعد پورے توروال کو اپنے زیرنگیں کیا۔ اس طرح یہاں باقاعدہ ریاست کی عمل داری شروع ہوئی۔ توروال سے آگے کالام کی طرف جب سوات کی ریاست بڑھی، تو برطانوی حکومت نے ریاستِ دیر اور ریاستِ چترال کے کہنے پر بادشاہِ سوات کو آگے جانے سے روک دیا۔ ریاست کے ساتھ ادارے خصوصاً پولیس، عدلیہ؍ تحصیل، سکول اور عشر کا نظام آگیا۔ ریاست نے مقامی سیاسی نظام ہی کو استعمال کرکے عمل درآمد شروع کیا، بلکہ کئی لحاظ سے اس مقامی نظام کو مزید مضبوط کیا گیا، مگر اختیار ریاست کے پاس ہی رکھا۔ ریاست ہی کی عمل داری کے ساتھ سماجی نظام بدلنے لگا۔ لوگوں کا دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھ گیا۔ یہاں انتخابی سیاست شروع ہوئی، اور قدیم طرز کا روایتی نظام گرنے لگا۔
دوسروں سے میل جول کی وجہ سے معاشی ذرائع پیداوار بھی بدلنے لگے۔ زمین داری اور مزدوری سے لوگ تجارت و سرمایہ کاری کی طرف جانے لگے۔ ساتھ ساتھ تھوڑی بہت جدید تعلیم بھی آنے لگی۔ پھر جب ریاستِ سوات کو پاکستان میں ضم کردیا گیا، تو پاکستانی ریاست کا براہِ راست عمل دخل شروع ہوا۔ یہاں میڈیا آیا۔ ٹیلی وِژن سماجی رتبے کی نشانی بن گیا۔ لوگ براہِ راست سیٹیلائٹ ٹی وی سے منسلک ہوگئے۔ وی سی آر آیا، تو لوگوں کو فلموں سے آشنائی ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں سیاح آنا شروع ہوگئے، اور بحرین ان کا مرکز رہا۔ سیاحت سے منسلک لوگوں نے تجارت شروع کی۔ جو لوگ ماضی میں یہاں اپنا علاقہ چھوڑ کر شہروں میں مزدوری سے منسلک ہوئے تھے، انہوں نے بھی بتدریج کاروبار شروع کیا۔
جب معاشی پیداوار کے طریقے بدل جاتے ہیں، تو اس کے ساتھ رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اور سماج پر ان کا اثر بھی پڑتا ہے۔ مادی ذرائع، معاشرے کی اقدار، رسوم اور روایات کو بھی بدل دیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ پرانی روایات سے نکلنے لگے اور مادی طور پر جدید ہوتے گئے۔ ذہنی طور پر وہ اس قدر جلد تبدیل نہیں ہوئے، مگر کئی امور میں مادی عوامل نے ان کو مجبور کرکے رکھ دیا۔ اسی طرح انہوں نے کئی نئی چیزوں کو لاشعوری طور پر اپنایا۔
معاشی پیداوار کے طریقے جب بدل جاتے ہیں، تو ساتھ مقابلہ بھی آجاتا ہے۔ لوگوں میں سماجی رتبے کے لیے مقابلہ شروع ہوا۔ زمین دار کی طرح حیثیت سرمایہ دار بھی چاہنے لگا، اور یوں سیاسی و سماجی مقابلہ شروع ہوا۔ اسی مقابلے کی وجہ سے وہ مٹھی والا اتحاد نہ رہا کہ اب ایک یا دو مٹھیوں کی جگہ بیسوں مٹھیاں آگئیں۔
ہمارے سماج کا ایک بیشتر حصہ مادی طور پر تو آسودہ حال رہا، لیکن بدقسمتی سے ہم ذہنی طور پر اس قابل نہ ہوئے کہ اس مادی جدیدت کی افراتفری کو سنبھال سکتے۔ بیچ میں کئی اور عوامل خصوصاً 1980ء کی دہائی میں افغانستان میں امریکہ اور سوویت یونین کی جنگ کی وجہ سے پورے پاکستان کی طرح ہمارے معاشرے بھی بری طرح متاثر ہوئے ۔ اس کا ذکر کسی اور وقت پر موقوف رکھتے ہیں۔
ان عوامل اور ان سے لاشعوری طور پر نبردآزما ہوتے ہوئے ہم افراتفری کا شکار ہوگئے۔ روایات سے بھی گئے اور جدیدت سے بھی ذہنی و علمی طور پر آشنا نہ ہوسکے۔ اس طرح ہم بیچ میں لٹک گئے۔
اب کیا کیا جائے؟ اب تو متعدد دھارے بن گئے ہیں اور ہر دھارا اپنے تئیں لوگوں کو اپنے پیچھے لگانا چاہتا ہے۔ ایسے میں دیکھا جاتا ہے کہ یہ معاشرہ ایک دائرے میں پھرتا نظر آتا ہے۔ اس لیے کوئی ایسا سرا نظر نہیں آتا کہ جہاں سے نکلا جائے۔
یہ افراتفری قائم رہے گی اور مجھے ڈر ہے کہ اس افراتفری کا دورانیہ بہت طویل ہوگا کیوں کہ اب ریاستِ پاکستان خود ایسے گھن چکر میں پھنسی ہوئی لگتی ہے اور جو کچھ اس نے 1988ء سے پہلے بویا تھا، اسے ہی کاٹ رہی ہے۔ اس لیے کوئی واضح راستہ نہیں دِکھتا۔
آپ پوچھیں گے اس کا حل؟
تو وہ میرے پاس نہیں ہے۔ ایک بات طے ہے کہ روایات کی طرف نہیں پلٹ سکتے کہ ریاست کے ادارے ناقص ہی سہی لیکن موجود ہیں، اور مداخلت کرتے رہتے ہیں۔
باقی حل آپ خود نکال لیں!
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔