گئے دونوں جہان کے کام سے ہم، نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم، نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
’’گلشنِ بے خار‘‘ نواب مصطفی خاں شیفتہؔ، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، اکتوبر 1973ء، صفحہ 267-68
اکثر اصحاب ناواقفیت کی بنا پر مصرعِ ثانی شعر کی شکل میں یوں پڑھتے ہیں:
نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
’’نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے‘‘ ردیف ہے۔
(’’اردو کے ضرب المثل اشعار تحقیق کی روشنی میں‘‘ از (تحقیق و تالیف) محمد شمس الحق، مطبوعہ ’’فکشن ہاؤس‘‘، اشاعت چہارم 2020ء، صفحہ نمبر 201 سے انتخاب)
